Wednesday, March 9, 2022

گود میں تین بچوں کے سوا اور کسی نے بات نہیں کی

 

Narrated Abu Huraira:

The Prophet (ﷺ) said, "None spoke in cradle but three: (The first was) Jesus, (the second was), there a man from Bani Israel called Juraij. While he was offering his prayers, his mother came and called him. He said (to himself), 'Shall I answer her or keep on praying?" (He went on praying) and did not answer her, his mother said, "O Allah! Do not let him die till he sees the faces of prostitutes." So while he was in his hermitage, a lady came and sought to seduce him, but he refused. So she went to a shepherd and presented herself to him to commit illegal sexual intercourse with her and then later she gave birth to a child and claimed that it belonged to Juraij. The people, therefore, came to him and dismantled his hermitage and expelled him out of it and abused him. Juraij performed the ablution and offered prayer, and then came to the child and said, 'O child! Who is your father?' The child replied, 'The shepherd.' (After hearing this) the people said, 'We shall rebuild your hermitage of gold,' but he said, 'No, of nothing but mud.'(The third was the hero of the following story) A lady from Bani Israel was nursing her child at her breast when a handsome rider passed by her. She said, 'O Allah ! Make my child like him.' On that the child left her breast, and facing the rider said, 'O Allah! Do not make me like him.' The child then started to suck her breast again. (Abu Huraira further said, "As if I were now looking at the Prophet (ﷺ) sucking his finger (in way of demonstration.") After a while the people passed by, with a lady slave and she (i.e. the child's mother) said, 'O Allah! Do not make my child like this (slave girl)!, On that the child left her breast and said, 'O Allah! Make me like her.' When she asked why, the child replied, 'The rider is one of the tyrants while this slave girl is falsely accused of theft and illegal sexual intercourse."

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریربن حازم نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گود میں تین بچوں کے سوا اور کسی نے بات نہیں کی ۔ اول عیسیٰ علیہ السلام ( دوسرے کا واقعہ یہ ہے کہ ) بنی اسرائیل میں ایک بزرگ تھے ، نام جریج تھا ۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی ماں نے انہیں پکارا ۔ انہوں نے ۔ ( اپنے دل میں ) کہا کہ میں والدہ کا جواب دوں یا نماز پڑھتا رہوں ؟ اس پر ان کی والدہ نے ( غصہ ہو کر ) بدعا کی ، اے اللہ ! اس وقت تک اسے موت نہ آئے جب تک یہ زانیہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے ۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ان کے سامنے ایک فاحشہ عورت آئی اور ان سے بدکاری چاہی لیکن انہوں نے ( اس کی خواہش پوری کرنے سے ) انکار کیا ۔ پھر ایک چرواہے کے پاس آئی اور اسے اپنے اوپر قابو دے دیا اس سے ایک بچہ پیدا ہوا ۔ اور اس نے ان پر یہ تہمت دھری کہ یہ جریج کا بچہ ہے ۔ ان کی قوم کے لوگ آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا ، انہیں نیچے اتار کر لائے اور انہیں گالیاں دیں ۔ پھر انہوں نے وضو کر کے نماز پڑھی ، اس کے بعد بچے کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے ؟ بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ چرواہا ہے اس پر ( ان کی قوم شرمندہ ہوئی اور ) کہا ہم آپ کا عبادت خانہ سونے کا بنائیں گے ۔ لیکن انہوں نے کہا ہرگز نہیں ، مٹی ہی کا بنے گا ( تیسرا واقعہ ) اور ایک بنی اسرائیل کی عورت تھی ، اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی ۔ قریب سے ایک سوار نہایت عزت والا اور خوش پوش گزرا ، اس عورت نے دعا کی ، اے اللہ ! میرے بچے کو بھی اسی جیسا بنا دے لیکن بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ اے اللہ ! مجھے اس جیسا نہ بنانا ۔ پھر اس کے سینے سے لگ کر دودھ پینے لگا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے میں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی چوس رہے ہیں ( بچے کے دودھ پینے لگنے کی کیفیت بتلاتے وقت ) پھر ایک باندی اس کے قریب سے لے جائی گئی ( جسے اس کے مالک مار رہے تھے ) تو اس عورت نے دعا کی کہ اے اللہ ! میرے بچے کو اس جیسا نہ بنانا ۔ بچے نے پھر اس کا پستان چھوڑ دیا اور کہا کہ اے اللہ ! مجھے اسی جیسا بنا دے ۔ اس عورت نے پوچھا ۔ ایسا تو کیوں کہہ رہا ہے ؟ بچے نے کہا کہ وہ سوار ظالموں میں سے ایک ظالم شخص تھا اور اس باندی سے لوگ کہہ رہے تھے کہ تم نے چوری کی اور زنا کیا حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا تھا ۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلاَّ ثَلاَثَةٌ عِيسَى، وَكَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ، كَانَ يُصَلِّي، فَجَاءَتْهُ أُمُّهُ فَدَعَتْهُ، فَقَالَ أُجِيبُهَا أَوْ أُصَلِّي‏.‏ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ لاَ تُمِتْهُ حَتَّى تُرِيَهُ وُجُوهَ الْمُومِسَاتِ‏.‏ وَكَانَ جُرَيْجٌ فِي صَوْمَعَتِهِ، فَتَعَرَّضَتْ لَهُ امْرَأَةٌ وَكَلَّمَتْهُ فَأَبَى، فَأَتَتْ رَاعِيًا، فَأَمْكَنَتْهُ مِنْ نَفْسِهَا فَوَلَدَتْ غُلاَمًا، فَقَالَتْ مِنْ جُرَيْجٍ‏.‏ فَأَتَوْهُ فَكَسَرُوا صَوْمَعَتَهُ، وَأَنْزَلُوهُ وَسَبُّوهُ، فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى ثُمَّ أَتَى الْغُلاَمَ فَقَالَ مَنْ أَبُوكَ يَا غُلاَمُ قَالَ الرَّاعِي‏.‏ قَالُوا نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ‏.‏ قَالَ لاَ إِلاَّ مِنْ طِينٍ‏.‏ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ تُرْضِعُ ابْنًا لَهَا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ رَاكِبٌ ذُو شَارَةٍ، فَقَالَتِ اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَهُ‏.‏ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا، وَأَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ‏.‏ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى ثَدْيِهَا يَمَصُّهُ ـ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَمَصُّ إِصْبَعَهُ ـ ثُمَّ مُرَّ بِأَمَةٍ فَقَالَتِ اللَّهُمَّ لاَ تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ‏.‏ فَتَرَكَ ثَدْيَهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا‏.‏ فَقَالَتْ لِمَ ذَاكَ فَقَالَ الرَّاكِبُ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، وَهَذِهِ الأَمَةُ يَقُولُونَ سَرَقْتِ زَنَيْتِ‏.‏ وَلَمْ تَفْعَلْ ‏"‏‏.

Reference : Sahih al-Bukhari 3436

In-book reference : Book 60, Hadith 107


ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ گود میں کسی بچے نے بات نہیں کی سوائے تین بچوں کے۔ ایک عیسیٰ علیہ السلام۔ دوسرا جُرَیج والا بچہ۔ یہ جریج نامی شخص بڑا عبادت گزار تھا۔ اس نے ایک عبادت خانہ بنایا اور اسی میں رہتا تھا۔ وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں آئی اور اسے بلایا کہ اے جریج! تو وہ (دل میں ) کہنے لگا کہ یا اللہ! ایک طرف میری ماں ہے تو دوسری طرف میری نماز ( میں نماز پڑھے جاؤں یا اپنی ماں کو جواب دوں)؟ آخر وہ نماز ہی میں مصروف رہا۔ اس کی ماں واپس چلی گئی۔ پھر جب دوسرا دن ہوا تو وہ پھر آئی اور پکارا کہ اے جریج ! وہ کہنے لگا کہ اے اللہ! میری ماں پکار رہی ہے اور میں نماز میں ہوں۔ (اب میں کیا کروں!)۔ آخر وہ نماز میں ہی لگا رہا۔ پھر اس کی ماں اگلے دن پھر آئی تو وہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس نے پکار لگائی کہ اے جریج! وہ کہنے لگا کہ اے رب! ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز۔ بہرحال وہ اپنی نماز ہی میں مشغول رہا۔ اس کی ماں نے کہا کہ یااللہ! اس کو اس وقت تک وفات نہ دینا جب تک یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے (یعنی ان سے اس کا سابقہ نہ پڑے)۔ پھر بنی اسرائیل میں جریج کا اور اس کی عبادت کا چرچا ہونے لگا اور بنی اسرائیل میں ایک بدکار عورت تھی جس کی خوبصورتی ضرب المثل تھی۔ وہ بولی اگر تم کہو تو میں جریج کو ابتلاء یا فتنہ میں ڈالوں۔ پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی لیکن جریج نے اس کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔ آخر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی جو اس کے عبادت خانے میں آیا کرتا تھا اور اس سے زنا کرایا جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ جب اس نے بچہ جنا تو کہنے لگی کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔ لوگ یہ سن کر اس کے پاس آئے، اسے نیچے اتارا اور اس کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور اس کو مارنے لگے۔ وہ بولا کہ تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ تو نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تجھ سے ایک بچے کوجنم دیا ہے۔ جریج نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس کو لائے تو جریج نے کہا کہ ذرا مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں۔ پھر نماز پڑھی اور اس بچہ کے پاس آکر اس کے پیٹ میں ایک کچوکا لگایا اور بولا کہ اے بچے ! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا کہ فلاں چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ جریج کی طرف دوڑے اور اس کو بوسہ دینے اور اسے چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تیرا عبادت خانہ سونے اور چاندی سے بنائے دیتے ہیں۔ وہ بولا کہ نہیں جیسا تھا ویسا ہی مٹی سے پھر بنا دو۔ تو لوگوں نے بنا دیا۔ (تیسرا ) بنی اسرائیل میں ایک بچہ تھا جو اپنی ماں کا دودھ پی رہا تھا کہ اتنے میں ایک بہت عمدہ جانور پر ایک خوش وضع، خوبصورت سوار گزرا۔ تو اس کی ماں اس کو دیکھ کر کہنے لگی کہ یا اللہ! میرے بیٹے کو اس سوار جیسا بنا دے ۔ یہ سنتے ہی اس بچے نے ماں کی چھاتی چھوڑ دی اور سوار کی طرف منہ کر کے اسے دیکھا اور کہنے لگا کہ یا اللہ !مجھے اس کی طرح نہ کرنا۔ اتنی بات کر کے پھر وہ بچہ پستان کی طرف متوجہ ہوا اور دودھ پینے لگا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گویا میں (اس وقت) نبی ﷺ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی کو چوس کر دکھایا کہ وہ لڑکا اس طرح چھاتی چوسنے لگا۔ پھر ایک لونڈی ادھر سے گزری جسے لوگ مارتے جاتے تھے اور کہتے تھے کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے۔ وہ کہتی تھی کہ مجھے اللہ تعالیٰ ہی کافی ہے اور وہی میرا وکیل ہے۔ تو اس کی ماں نے کہا کہ یااللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ کرنا۔ یہ سن کر بچے نے پھر دودھ پینا چھوڑ دیا اور اس عورت کی طرف دیکھ کر کہا کہ یا اللہ! مجھے اسی لونڈی کی طرح کرنا۔ اس وقت ماں اور بیٹے میں گفتگو ہوئی تو ماں نے کہا: جب ایک اچھی صورت کا آدمی گزرا تو میں نے کہا کہ یا اللہ! میرے بیٹے کو ایسا کرنا تو تو نے کہا کہ یا اللہ! مجھے ایسا نہ کرنا اور یہ لونڈی جسے لوگ مارتے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ! میرے بیٹے کو اس کی طرح نہ بنانا اُس پر توکہتا ہے کہ یا اللہ !مجھے اس کی طرح کرنا (یہ کیا بات ہے)؟ بچہ بولا، وہ سوار ایک ظالم شخص تھا، میں نے دعا کی کہ یا اللہ ! مجھے اس کی طرح نہ کرنا اور اس لونڈی پر لوگ تہمت لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تو نے زنا کیا اور چوری کی ہے حالانکہ اس نے نہ زنا کیا ہے اور نہ چوری کی ہے تو میں نے کہا کہ یا اللہ ! مجھے اس جیسا بنا دے۔   
صحیح - متفق علیہ

شرح

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”گود میں صرف تین بچوں نے کلام کیا“۔ یعنی اپنے بچپن کے ابتدائی دنوں میں۔ وہ یہ ہیں: اول: عیسی بن مریم علیہ السلام جو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے، انہوں نے بات کی حالانکہ ابھی وہ گود ہی میں تھے۔ دوم: جریج والا بچہ، جریج ایک عبادت گزار شخص تھے، اللہ تعالی نے انہیں اس تہمت سے بری کیا جسے لوگوں نے ان پر لگانے کا ارادہ کیا تھا اور اس نشانی کو ان کے لیے کرامت بنا دیا یعنی ایک بچے کا ان کی صفائی میں بول پڑنا۔ ہوا یہ کہ جریج اپنے لیے ایک جگہ خاص کیے تھے جہاں وہ تنہائی میں عبادت کرتے تھے، ایک مرتبہ ان کی والدہ ان کے پاس آئیں جبکہ وہ نماز میں تھے، اور انہیں پکارا اے جریج!، جریج نے سوچا اے میرے رب ایک طرف میری ماں ہے اور ایک طرف نماز، وہ اس تردد میں تھے کہ نماز توڑ دے اور والدہ کا جواب دیں یا پھر نماز مکمل کریں، پس انہوں نے نماز مکمل کی تو ان کی والدہ واپس چلے گئیں۔ دوسرے دن ان کی والدہ ان کے پاس آئیں جبکہ وہ نماز ہی میں تھے، پھر ویسا ہی ہوا جیسے پہلے دن ہوا تھا، پھر تیسرے دن ان کی والدہ ان کے یہاں آئیں تو وہی سب ہوا جو پچھلے دو دن ہوا تھا، تو ان کی والدہ نے کہہ دیا کہ اے اللہ اس کو اس وقت تک وفات نہ دینا جب تک یہ فاحشہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے۔ ایک مرتبہ بنو اسرائیل جریج اور ان کی عبادت کا تذکرہ کر ہے تھے وہاں ایک فاحشہ عورت تھی جس کی خوبصورتی ضرب المثل تھی۔ وہ بولی اگر تم کہو تو میں جریج کو ابتلاء یا فتنہ میں ڈالوں یعنی وہ اپنی نماز چھوڑ دیں گے اور زنا میں مبتلا ہو جائیں گے، پھر وہ عورت جریج کے سامنے گئی لیکن جریج نے اس کی طرف کچھ توجہ نہ کی۔ آخر وہ ایک چرواہے کے پاس گئی اور اس سے زنا کرایا جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ جب اس نے بچہ جنا تو کہنے لگی کہ یہ بچہ جریج کا ہے۔ لوگ یہ سن کر جریج کے پاس آئے، انہیں نیچے اتارا اور ان کے عبادت خانہ کو گرا دیا اور ان کو مارنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں کیا ہوا؟ لوگوں نے کہا کہ تم نے اس بدکار عورت سے زنا کیا ہے اور اس نے تم سے ایک بچے کوجنم دیا ہے۔ جریج نے کہا کہ وہ بچہ کہاں ہے؟ لوگ اس کو لائے تو جریج نے کہا کہ ذرا مجھے چھوڑو میں نماز پڑھ لوں۔ پھر نماز پڑھی اور اس بچہ کے پاس آکر اس کے پیٹ میں ایک کچوکا لگایا اور بولا کہ اے بچے ! تیرا باپ کون ہے؟ وہ بولا کہ فلاں چرواہا ہے۔ یہ سن کر لوگ جریج کی طرف دوڑے، ان کو بوسہ دینے اور چھونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم تمہارا عبادت خانہ سونے اور چاندی سے بنائے دیتے ہیں۔ وہ بولے کہ نہیں جیسا تھا ویسا ہی مٹی سے پھر بنا دو۔ تو لوگوں نے بنا دیا۔ سوم: وہ تیسرا بچہ جس نے گود میں کلام کیا وہ وہ بچہ تھا جو اپنی ماں کی گود میں دودھ پی رہا تھا۔ ايسے میں ایک بہت اچھی سواری پر ایک بہت ہی خوش وضع و خوش پوشاک شخص کا گزر ہوا۔ نبی ﷺ نے اس بچے کے اپنے ماں کی چھاتی سے دودھ پینے کی حالت کو بیان کرنے کے لیے اپنی شہادت کی انگلی اپنے منہ میں ڈالی یہ بیان کرنے کے لیے کہ فی الواقع ایسے ہوا۔ ماں نے کہا: اے اللہ میرے بچہ کو اس جیسا بنا، اس بچے نے کہا: اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنانا۔ پھر لوگ ایک باندی کو لے کر آئے، وہ اسے مار رہے تھے اور اس سے کہہ رہے تھے کہ تو نے زنا کیا ہے، تو نے چوری کی ہے۔ اور وہ کہہ رہی تھی کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔ بچے کی ماں دودھ پلاتے ہوئے کہا کہ اے اللہ! میرے بچے کو اس جیسا نہ بنانا۔ اس بچے نے پستان کو چھوڑ کر اسے دیکھا اور کہا اے اللہ! مجھے اِسی جیسا بنانا۔ پھر اس نے اپنی ماں کے ساتھ بات چیت کی۔ اس عورت نے کہا کہ میرا اس آدمی پر گزر ہوا یا اس نے کہا کہ یہ خوش حال آدمی میرے پاس سے گزرا تو میں نے کہا ’’اے اللہ! میرے بیٹے کو بھی اُسی جیسا بنادے۔ اس پر تم نے کہا اے اللہ! مجھے اس جیسا نہ بنا۔ بچے نے کہا: ہاں، کیوں کہ وہ شخص ظالم اور سرکش تھا۔ میں نے اللہ تعالی سے دعا کی وہ مجھے اس جیسا نہ بنائے۔ جب کہ عورت کے بارے میں لوگ کہہ رہے تھے کہ تم نے زنا کیا اور چوری کی ہے۔ اور وہ کہہ رہی تھی کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ اے اللہ! مجھے اُسی جیسا بنا۔ یعنی مجھے زنا سے اور چوری سے پاک رکھ اس حال میں کہ میرا سب کچھ اللہ کے حوالے ہے۔ باندی کے اس قول میں یہی بات تھی کہ میرے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کار ساز ہے۔

It was narrated on the authority of Abu Hurairah, may Allaah be pleased with him, that the Prophet, peace and blessing be upon him, said:

«No one spoke in the cradle but three (persons): ‘Eesa (Jesus) son of Maryam (Mary), the second one was the companion of Jurayj; the pious worshipper. Jurayj took a secluded hermitage for worship and confined himself in it. His mother came to him as he was busy in prayer, and she called, 'O Jurayj!' He said, 'O My Lord, my mother (is calling me) and (I am offering) my prayer (what shall I do)?.' He continued with the prayer. She returned and came the following day and he was (still) busy in prayer. She called, 'O Jurayj!' He said, 'My Lord, my mother (is calling me) and (I am offering) my prayer (what shall I do)?', and he continued with the prayer, and she returned. Then the next day she came again while he was busy in prayer, and called, 'O Jurayj!' He said, 'My Lord, my mother (is calling me) and (I am offering) my prayer (what shall I do)?' and he continued with the prayer. She said, 'O Allaah! Do not let him die until he sees the faces of prostitutes.'

The story of Jurayj and that of his meditation and prayer spread among the children of Israel. There was a prostitute who was beauty personified. She said (to the people), "If you like, I can lure him into evil." She presented herself to him but he paid no heed (to her). She came to a shepherd who lived near the hermitage and she offered herself to him. He (the shepherd) had sexual intercourse with her and she became pregnant. When she gave birth to a baby she said, 'This baby is from Jurayj.' So they came and asked Jurayj to leave and they demolished the hermitage and began to beat him. He asked them what was the matter. They said, 'You committed fornication with this prostitute and she gave birth to a baby from you.' He said, 'Where is the baby?' They brought him (the baby) and then he said, 'Just leave me so that I should perform prayer.'

He performed prayer and when he finished, he struck the baby’s stomach with his finger, and asked him, 'O boy, who is your father?' The baby answered, 'He is the shepherd. So, the people turned towards Jurayj, kissed him and touched him (seeking blessings), and said, 'We are ready to construct your hermitage with gold.' He said, 'No, just rebuild it with mud as it was,' and so they did.»

The Prophet, peace and blessing be upon him, continued:

«Then, there was a baby whose mother was suckling him when a person dressed in a fine garment came riding on a priceless animal. His mother said, 'O Allaah, make my child like this one.' He (the baby) left his mother’s breast, looked at the rider and said, 'O Allaah, Do not make me like him.' He then returned to the breast and resumed sucking.» He (i.e. Abu Hurairah) said, 'It is as though I can see the Messenger of Allaah, peace and blessing be upon him, illustrating the scene of his sucking milk with his forefinger in his mouth and sucking that.

The Prophet, peace and blessing be upon him, continued:

«It so happened that a slave girl passed by them who was being beaten and the people behind her were saying, 'You committed fornication and theft.' She was saying, 'Sufficient for me is Allaah, and [He is] the best Disposer of affairs', and his mother said, 'O Allaah, Do not make my child like her.' He left the breast, looked at her, and said, 'O Allaah! make me like her.' This was followed by a conversation between the mother and child. She said, 'A good-looking man happened to pass by, and I said: O Allaah, make my child like him, and you said: O Allaah, do not make me like him, and there passed a girl and the people were beating her, and saying: You committed fornication and theft, and I said: O Allaah, do not make my child like her, and you said: O Allaah, make me like her.' The infant said, 'That man was a tyrant, and I said: O Allaah, do not make me like him; and they were saying about the girl: 'You committed fornication', whereas in fact, she had not committed that and they were saying: 'You have committed theft, whereas she had not committed theft', so I said: O Allaah, make me like her» (1

Amongst the lessons drawn from the above-mentioned Hadeeth:

1- The Hadeeth shows the importance of observing dutifulness to one's parents, confirms the rights of the mother and that her Du‘aa' (i.e. supplications) is surely answered.

2- If one has many different matters, one should start with the most important of them.

3- Resorting in difficult situations should be to Allaah The Almighty alone away from anyone else.

4- Allaah The Almighty mostly makes way outs for His Awliyaa' at the times of hardships. Allaah The Almighty Says:

{وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَ‌جًا}

'Translation' {And whoever fears Allah - He will make for him a way out.} [At-Talaq: 2] Sometimes, He The Exalted may afflict them with some hardships to increase their rewards and refine their characters and thus it will imply all good for them as what happened to the woman.

5- Recommendation of performing ablution and prayer at the times of hardships and difficulties.

6- This Hadeeth also indicates that ablution was known in the religion of the previous nations. It was proved in this Hadeeth, i.e. the narration reported by Al-Bukhaari, may Allaah have mercy upon him, that He (i.e. Jurayj) performed Ablution and prayer.

7- This Hadeeth proves the Karaamaat (i.e. supernatural abilities or events) of the Awliyaa'(2). It is the belief of Ahl As-Sunnah(3) unlike Al-Mu‘tazilah(4).

8- It points out that Karaamaat can be supernatural in all different ways while some scholars rejected this idea and said that it only related to answering Du‘aa' (i.e. supplication) and the like. This is really wrong and a denial for the witnessed fact. The correct opinion is that it may occur even in a wider scope than that. (5).

9- This Hadeeth also indicates that humans by nature prefer their children to themselves with all goodness for the woman asked goodness to her child and be guarded against evil while she asked nothing for herself. (6).



_________________________________


(1) Agreed upon i.e. reported in Saheeh Al-Bukhaari No. (3436) and Saheeh Muslim No. (2550).

(2) Awliyaa' of Allaah [i.e. those who believe in the Oneness of Allaah and fear Allaah much (abstain from all kinds of sins and evil deeds which He has forbidden), and love Allaah much (perform all kinds of good deeds which He has ordained)]. (Translator).

(3) It refers to Ahlus-Sunnah Wal-Jamaa‘ah: Muslims who hold fast to the way of Prophet Muhammed, peace and blessing be upon him, his companions, and those who followed their path in beliefs, speech, and actions. They also avoid innovation in matters of the religion. They represent the (Saved Group) depicted by the Prophet, peace and blessing be upon him. (Translator).  

(4) A sect founded by Waasil Ibn ‘Ttaa’. Its followers believe that man has free-will and that the Noble Quran is created and not the direct speech of Allaah. (Translator).  

(5) Sharh Saheeh Muslim (12/18).

(6) Fat-h Al-Baari (6/484).

Source: Alssunnah Net


AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...