Wednesday, June 22, 2022

عبرت کا مقام جو تصویر میں دکھائی دے رہا ہے

 یہ ایک حقیقی واقعے کی تصویر ہے۔۔۔ اس لیے ہر انسان لازمی پڑھے وہ خود ایک اعلیٰ عہدے پر فائز سرکاری ملازم تھااس کے تین بیٹے تھے ، تینوں سونے کا چمچ منہ میں لیے پیدا ہوئے اور شاہانہ زندگی گزرتی رہیوقت تیزی سے گزرااور اس کے نام کے ساتھ (ریٹائرڈ ) لگ گیا عہدے کی مدت ختم ہوئی


ریٹائرڈ ہو گئے اور اب زندگی کا سفر انتہاء کی طرف چل پڑا۔۔۔۔ بیٹوں نے باپ کے عہدے سے خوب لطف اٹھایا.. کہتے تھے ہمیں کیا فکر ہےہمارا باپ 22 گریڈ کا افسر ہے...ہمارے کام خود بخود بنیں گےاور بنتے بھی رہے
ایک ٹیلی فون کال پر سب کچھ قدموں میں حاضر ہو جاتا تھا پھر وہ دن آ گیا ۔۔۔۔۔ جب بیٹے یہ بھول گئے کہ یہ وہی باپ ہےجس کے نام و عہدے کی وجہ سے لوگ ہمیں سر سر کہتے تھے باپ کسی بیماری کی وجہ سے چلنے پھرنے اور بولنے سے معذور ہو گیا بیٹے کہنے لگے اب تو باپ کی کمزوری دیکھی نہیں جاتی ایک بیٹے نے کہا کہ ابا کی جائیداد و مال کی تقسیم کرتے ہیں نہ جانے کب مر جائےاب تو شرم آتی ہے بتاتے ہوئے کہ لوگ کیا کہیں گےجب دوست آتے ہیںتو سامنے یہ بوڑھا پڑا ہوتا ہےچلو ایک نوکر مستقل ان کے ساتھ رہنے کے لیے رکھ لیتے ہیں جو ان کا خیال رکھے بیس ہزار ماہانہ دے دیں گے نوکر آ گیا اور اسی گھر کے ایک کمرے میں باپ کو فرش پر گدا لگا دیا گیان وکر کو کہا کہ اسکا پورا خیال رکھنا ہمیں کوئی شکایت نہ ملے بیٹوں کی شادیاں ہوئیں ایک نے گرمی کی چھٹیاں گزارنے فرانس کا پروگرام بنایا اور دوسرے نے لندن اور تیسرے نے پیرس کا اور ہر جگہ اپنا تعارف 22 گریڈ کے افسر کے بیٹے ہونے سے شروع کرتے۔ نوکر کو تاکید کی کہ ہماری 3 ماہ بعد واپسی ہوگی تم بابا کا پورا خیال رکھنا اور وقت پر کھانا دینا جی اچھا صاحب جی !
سب چلے گئے وہ باپ اکیلا گھر کے کمرے میں لیٹا سانس لیتا رہا نہ چل سکتا تھا نہ خود سے کچھ مانگ سکتا نوکر گھر کو تالا لگا کر بازار سے بریڈ لینے گیا تو اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا لوگوں نے اسے ہاسپٹل پہنچایااور وہ کومے سے ہوش میں نہ آ سکا بیٹوں نے نوکر کو صرف باپ کے کمرے کی چابی دے کر باقی سارے گھر کو تالے لگا کر چابیاں ساتھ لے گئے تھے
ملازم اس کمرے کو تالا لگا کر چابی ساتھ لے کر گیا تھا کہ ابھی واپس آ جاؤں گا اب بوڑھا ریٹائرڈ سرکاری افسر کمرے میں لاک ہو چکا تھا اور وہ چل پھر نہیں سکتا تھا کسی کو آواز نہیں دے سکتا تھا لہذا تین ماہ بعد جب بیٹے واپس آئے اور تالا توڑ کر کمرہ کھولا گیا تو لاش کی حالت وہ ہو چکی تھی جو تصویر میں دکھائی دے رہا ہے محترم خواتین و حضرات عبرت کا مقام ہے یہ واقعہہم کس طرح اپنی اولاد کے لئے حلال و حرام کی پرواہ کئے بغیر ان کا مستقبل سنوارنے کے لئے تن من دھن کھپاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ دولت جائیدادیں بنا کر ان کا مستقبل محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ یہ اولاد کل بڑھاپے میں میری خدمت کرے گی
اعلیٰ ترین غیر ملکی سکولوں میں دنیاوی تعلیم دلواتےہیں
اور دین اسلام کی تعلیم دلوانے کو توہین سمجھتے ہیں جس میں سکھایا جاتا ہے کہ والدین کی خدمت میںعظمت ہے ہر انسان جو بوتا ہے اسی کا ہی پھل پاتا ہے ہمیں بھی سوچنے سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنی اولاد کو کیا تعلیم دلوا رہے ہیںکہیں ہمارا حال بھی ایسا تو نہیں ہونے والا سوچئے گا ضرور

No comments:

Post a Comment

AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...