1 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ یعنیمجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ بحوالہ بخاری فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں‘‘۔
2 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو عمل صالح بہت پسند ہے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کیا جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی زیادہ یہ دن پسند ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہاں! یہ دن جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بہتر ہیں سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کو لے کر نکلے اور کسی چیز کو واپس لے کر نہ آئے‘‘ (بحوالہ بخاری)۔
3 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کو کوئی اور دن نہیں ہیں لہٰذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرو‘‘۔ (بحوالہ طبرانی)۔
4 سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان ایام عشرہ میں سخت ترین محنت سے عمل صالح فرماتے تھے۔ (بحوالہ دارمی)۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق اس عمل صالح کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان دنوں میں حج کا اجتماع منعقد ہوتا ہے اور حج اسلام کے اراکین میں شامل ہے۔
مستحب اعمال
1 کثرت سے نوافل ادا کرنا۔ نمازوں میں مکمل پابندی کرنا، کثرت سجود سے قربِ الٰہی کا حاصل کرنا۔ (صحیح مسلم)۔
2 نفل روزے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ اعمال صالحہ میں روزے شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذی الحجہ کی تاریخ کو روزے رکھتے تھے یوم عاشور، محرم اور ہر مہینے تین روزے رکھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا۔ (بحوالہ ابوداؤد، مسند احمد)۔
3 کثرت سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا بھی ان ایام کا ایک معروف فعل ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے مطابق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہم بازاروں میں جاتے تھے، خود بھی تکبیرات کہتے اور لوگ بھی تکبیریں بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمے میں بلند آواز سے تکبیریں کہتے تو اہل مسجد اس کو سن کر جواباً تکبیریں کہتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نمازوں کے بعد، گھر میں، آتے جاتے، پیدل چلتے ہوئے تکبیریں کہتے تھے۔ افسوس صد افسوس کہ ان ایام میں یہ عظیم سنت ختم ہو گئی ہے۔ تکبیر ان الفاظ سے کہی جاتی تھی:
اَﷲُ اَکْبَر اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرکَبِیْرًا
اور
اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَر وَ ِﷲِ الْحَمْدُ
4 یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘ (صحیح مسلم) لیکن یہ روزہ حاجیوں کے لئے نہیں ہے۔
5 قربانی کا دن مسلمانوں کی عظیم الشان قربانی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کی نشاندہی کرتا ہے۔ تمام علماء کے مطابق سال کا افضل ترین دن قربانی کا دن ہے۔ سنن ابوداؤد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ ’’قربانی کا دن افضل ترین دن ہے‘‘۔
احکام قربانی
قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے۔ قربانی زندہ افراد کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ (لیکن درج ذیل شرطوں کے ساتھ):
1 قربانی اصل میں زندوں کی طرف سے ہوتی ہے، ان کے ضمن میں فوت شدگان کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔
2 فوت شدگان کی قربانی ان کی وصیت کو پورا کرتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔
3 تخصیص کرتے ہوئے صرف فوت شدہ افراد کی طرف سے قربانی کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی فوت شدہ صحابی یا اپنے رشتہ دار کی طرف سے قربانی نہیں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ محترمہ اُمّ المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ، تین بیٹیاں اور سید الشہداء حمزہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں انتقال فرما گئے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی بھی ان کی طرف سے قربانی نہیں کی۔
قربانی کرنے والا ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں تک اپنے بدن کے بال نہ کاٹے۔ اُمّ المؤمنین سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب عشرئہ ذوالحجہ شروع ہو جائے اور کوئی قربانی کا ارادہ کر لے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے‘‘ (صحیح مسلم) اس عمل کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا حج کے اعمال میں شریک ہو جاتا ہے۔
عیدالاضحی کے آداب
اے پیارے بھائی! ہم تمہیں عیدالاضحی کی مبارک باد دیتے ہیں۔ تمام قسم کی بھلائیاں اتباع سنت اور پیروئ رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ہمیں یومِ عید اور ایام تشریق میں چند اُمور کا حکم دیا ہے:
1 بلند آواز میں تکبیریں کہنا، یوم عرفہ سے لے کر، ایام تشریق کے آخری دن عصر تک اور یاد رہے کہ آخری دن ویں ذوالحجہ کو ہوتا ہے۔ بازاروں، گھروں اور مساجد میں تکبیر کا ورد جاری رکھیں۔
2 قربانی، نماز عید کے بعد کی جاتی ہے۔ پہلے کرنا منع ہے۔ ـ (صحیح مسلم)۔ قربانی کے چار دن ہوتے ہیں۔ ایک یومِ نحر اور تین ایام تشریق (بروایت سلسلہ الصحیحہ:)۔
3 خوشبو لگائیں۔ غسل کریں۔ اچھے لباس پہنے لیکن اسراف اور نمود و نمائش سے پرہیز کرے۔ خواتین بھی عیدگاہ میں جا کر نمازِ عید پڑھیں۔ عید کی مبارک باد دینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔
عید کے دن کھیل تماشے، محفل موسیقی، رقص و سرود کی محفلیں سجاتے نہ گزاریں۔ فضول خرچی اور فخر و رِیا کرنا منع ہے۔ گوشت سارا خود نہ کھائیں بلکہ غرباء کو بھی دیں۔
Monday, June 19, 2023
ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت،
Sunday, June 18, 2023
رسول اللہ ﷺ پہلی صف کے لئے تین دفعہ مغفرت کی دعا کرتے تھے
،نبی ﷺ کا فرمان ہے جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔
((مبارک ہومئی کی فلاں تاریخ کو رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے ۔
حضرت محمدؐ نے ارشاد فرمایا ! جس نے سب سے پہلے کسی کو رمضان کی مبارک دی اس پر جنت واجب ہو گئی ایک بار درود پاک پڑھ کر آگے شیئرزکریں -))
یہ میسیج لوگوں میں اس قدر شیئر کیا گیا کہ عرب بولنے والے بھی اس سے متاثر ہوگئے اور عربی زبان میں بھی اس کا مفہوم بیان ہونے لگا ،وہ اس طرح سے ہے ۔
((من أخبر بخبر رمضان أولا حرام عليه نار جهنم))
یعنی جس نے سب سے پہلے رمضان کی خبر دی اس پر جہنم کی آگ حرام ہوگئی ۔
اس عربی عبارت کو لوگوں نے حدیث رسول سمجھ لیا جبکہ کسی نے وہی اردو والی بات عربی میں ترجمہ کردیا تھا یا یہ بھی ممکن ہو کہ کسی عربی بولنے والے نےپہلے عربی زبان میں اس بات کو گھڑ کر پھیلایا ہو اور پھر اسے اردو ہندی اور دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا گیاہو۔بہرکیف! اتنا تو طے ہے کہ یہ میسج بہت ہی گردش میں ہے تبھی تو کئی زبانوں میں یہ بات مشہور ہوگئی ۔
مَنْ كَذَبَ عَلَي مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ (صحیح البخاري:1291،صحیح مسلم:933) .
ترجمہ: جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔
اور جو بلاتحقیق کوئی بات آنکھ بند کرکے شیئر کرتے چلے جاتے ہیں وہ بھی اس جھوٹے کے جھوٹ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے :
كفى بالمرءِ كذبًا أن يُحَدِّثَ بكلِّ ما سمِع( مقدمہ صحيح مسلم )
ترجمہ: کسی انسان کے جھوٹا اور ایک روایت کے مطابق گناہگار ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کر دے۔
دوسری بات : دین کے متعلق خوشخبری سنانے والا صرف اور صرف اللہ کے پیغمبر ہیں اور پیغمبر ہی کسی کو ڈراسکتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (الاحزاب:45)
ترجمہ: اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے ۔
تیسری بات : جنت وجہنم اللہ کی طرف سے ہے ، نبی ﷺ صرف ہمیں خبر دینے والے تھے جو بذریعہ وحی آپ کے پاس آتی تھی کہ فلاں جنتی ہے ، فلاں کام کرنے پر جنت ہے ، فلاں کام کرنے والا جہنم رسید ہوگا ۔ جب نبی ﷺ کو یہ اختیار نہیں تھا تو جو لوگ جھوٹی بات گھڑ پر جنت کی بشارت یا جہنم کی خبر دیتے ہیں کتنے بڑے مجرم ہیں ؟ آپ ایسے مجرموں کی جھوٹی خبریں شائع کرکے اس کے بدترین جرم میں شمولیت اختیار نہ کریں ۔
چوتھی اور آخری بات : آج کل سوشل میڈیا پہ اسلام کی غلط ترجمانی کی جارہی ہے ، طرح طرح سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں ،قرآن وحدیث کا نام لیکر ہمیں دھوکا دیا جارہاہے ، جھوٹی باتوں کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرکے پھیلائی جارہی ہیں،اس لئے ہمیں بہت محتاط رہنا ہے اور اسلام کے خلاف ہورہی غلط ترجمانیوں کا سد باب کرنا ہے ۔ ہم سدباب کرنے کے بجائے پروپیگنڈے کو مزید ہوا دینے لگ جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کی طرف منسوب کوئی خبریااسلام اور قرآن وحدیث سے متعلق کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے آگے شیئر نہ کریں اور نہ ہی آپ کوئی ایسی بات اپنی طرف سے لکھ کر پھیلائیں جس کے متعلق آپ کو صحیح سے معلوم نہیں ،وہی بات لکھیں جو متحقق طور پر آپ کو معلوم ہے اور ساتھ میں مکمل حوالہ درج کریں تاکہ دوسروں کے لئے اس بات کی تحقیق کرنا آسان رہے ۔
Saturday, June 17, 2023
’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو‘‘
وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ: ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو‘‘ اس جملے سے پہلے اسی آیت میں یہ جملہ گزر چکا ہے : ﴿ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر جا ٹھہرا۔‘‘ تو یہ آیت دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت کیسے درست ہو سکتی ہیں؟ اس معاملے میں بعض لوگوں نے ان دونوں کا انکار کر دیا اور یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نہ عرش پر ہے اور نہ کسی اور جگہ ، بلکہ وہ لامکان ہے اور جو شخص یہ پوچھ بھی لے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے وہ کافر ہوگیا، کیونکہ اس کے لیے مکان (جگہ) تسلیم کرنے سے اس کا اس جگہ کا محتاج ہونا لازم آتا ہے۔ ان نادانوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کا فتویٰ کس کس پر لگ رہا ہے اور نہ یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ خود فرما رہے ہیں : ﴿ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ﴾کہ پھر وہ عرش پر جا ٹھہرا۔ پھر قیامت کے دن آٹھ فرشتوں کے عرش الٰہی کو اٹھائے ہونے کا ذکر سورۂ حاقہ میں موجود ہے، فرمایا : ﴿وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ [ الحاقۃ : ۱۷] ’’اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اور قیامت کے دن فرشتوں کے عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہونے کا ذکر سورۂ زمر میں موجود ہے، فرمایا : ﴿وَ تَرَى الْمَلٰٓىِٕكَةَ حَآفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ﴾ [ الزمر : ۷۵ ] ’’اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے۔‘‘ اور یہ سوال کرنا کہ اللہ کہاں ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ چنانچہ معاویہ بن حکم السُّلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’میری ایک لونڈی اُحد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں نے دیکھا تو بھیڑیا اس کی بکریوں سے ایک بکری لے جا چکا تھا، میں بھی بنی آدم سے ہوں، مجھے اسی طرح غصہ آ جاتا ہے جیسے انھیں غصہ آتا ہے، تو میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے مجھ پر بہت بڑا (گناہ) قرار دیا، میں نے کہا : ’’یا رسول اللہ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اِئْتِنِيْ بِهَا )) : ’’اسے میرے پاس لاؤ۔‘‘ میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : (( أَيْنَ اللّٰهُ ؟ )) ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے کہا : (( فِي السَّمَاءِ ))’’آسمان میں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( مَنْ أَنَا؟ )) ’’میں کون ہوں؟‘‘ اس نے کہا : (( أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ))’’آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ)) ’’اسے آزاد کر دو، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔‘‘ [ مسلم، المساجد ومواضع الصلاۃ، باب تحریم الکلام في الصلاۃ....: ۵۳۷ ] خلاصہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ لامکان ہے، قرآن و حدیث کا صریح انکار ہے اور یہ عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے، مگر اس طرح سے جسے وہی جانتا ہے اور جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے عرش پر مستوی ہونے کے انکار کی ایک انتہا یہ تھی کہ وہ کسی جگہ بھی نہیں، جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہستی ہی کا انکار ہے۔ دوسری انتہا ان لوگوں نے اختیار کی جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ موجود ہے اور ہم جہاں بھی ہوں وہ ہمارے ساتھ اس طرح ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں، مگر یہ بات بھی غلط ہے، کیونکہ اسی آیت میں ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ‘‘ (وہ تمھارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو) سے پہلے’’ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔ اب اگر ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ‘‘ کا مطلب یہ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ اس طرح ہمارے ساتھ ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں تو ایک ہی آیت کے دو جملے ایک دوسرے سے ٹکراتے اور متعارض ٹھہرتے ہیں، اس لیے ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ‘‘ کا وہی مطلب درست ہو گا جو ’’ اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى ‘‘ کے خلاف نہ ہو اور کلام عرب کے بھی خلاف نہ ہو، کیونکہ جس طرح ’’ اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى ‘‘ پر ایمان لازم ہے اسی طرح ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ ‘‘ پر ایمان بھی لازم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلام عرب میں معیت (ساتھ ہونے) کا معنی اگرچہ اس طرح ساتھ ہونا بھی ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں، مگر یہ لفظ مختلف مواقع کے لحاظ سے اس کے علاوہ معانی کے لیے بھی آتا ہے۔ چنانچہ معیت کا ایک معنی وہ ہے جو سورۂ بقرہ کی آیت (۱۵۳) : ﴿ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ﴾(بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) اور سورۂ توبہ کی آیت (۴۰) : ﴿ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ﴾ (غم نہ کر، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے) میں ہے۔ ظاہر ہے ان آیات کے مطابق اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بے صبروں کے ساتھ نہیں، اسی طرح وہ ہجرت کے وقت غارِ ثور میں اور سارے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا مشرکین کے ساتھ نہیں تھا۔ ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ‘‘ میں یہ معنی بھی مراد نہیں، کیونکہ اس معنی میں معیت صرف اللہ کے مخلص بندوں کا نصیب ہے۔ معیت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ایک چیز دور ہونے کے باوجود ان چیزوں کے ساتھ بھی ہو جن سے وہ دور ہے۔ چنانچہ ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ‘‘ میں معیت سے یہی معنی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ رہی یہ بات کہ کس طرح ہے؟ تو اس کی اصل اور پوری کیفیت وہی جانتا ہے۔ اگر مخلوق میں ایسا ہونا ممکن نہ بھی ہو تو اللہ تعالیٰ کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے : ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ﴾ [ الشورٰی : ۱۱ ] ’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔‘‘ مگر مخلوق میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک چیز کسی ایک جگہ ہونے کے باوجود دوسری جگہ موجود لوگوں کے ساتھ ہو۔ اس کی ادنیٰ سی مثال سورج اور چاند ہیں کہ بلندی پر ہونے کے باوجود ہم جہاں جاتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، حالانکہ وہ زمین پر ہمارے اندر موجود نہیں ہوتے، مگر سب کہتے ہیں کہ رات میں سفر کرتا رہا اور چاند سارے سفر میں میرے ساتھ رہا۔ معیت کا یہ معنی معروف ہے اور اپنے مقام پر حقیقی معنی ہے۔ جب سورج اور چاند کا یہ معاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفت تو ان کی صفت سے کہیں بلند ہے، چنانچہ وہ عرش پر ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ ہے، خواہ ہم کہیں بھی ہوں، اگرچہ اپنی صفت ’’ الْبَاطِنُ ‘‘ کی وجہ سے اور حجاب میں ہونے کی وجہ سے ہمیں نظر نہیں آتا۔ قیامت کے دن جب وہ اہلِ جنت کو اپنے دیدار کی نعمت سے سرفراز فرمانے کا ارادہ کرے گا اور اپنا حجاب کھولے گا تو تمام جنتی اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے کسی تکلیف کے بغیر اور کسی قسم کے ہجوم یا بھیڑ کے بغیر اسے دیکھیں گے اور یہ مثال خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا : (( يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! هَلْ نَرٰی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! قَالَ فَهَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُوْنَهَا سَحَابٌ ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذٰلِكَ )) [بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی : ﴿ وجوہ یومئذ....﴾ : ۷۴۳۷ ] ’’یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تم چودھویں کی رات کو چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا : ’’نہیں اے اللہ کے رسول!‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تو کیا تم سورج کو دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو جس کے سامنے کوئی بادل نہ ہو؟‘‘ لوگوں نے کہا : ’’نہیں یا رسول اللہ!‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تو تم اسے اسی طرح دیکھو گے۔‘‘ یہاں شیخ محمد بن صالح بن عثیمین رحمہ اللہ کی تالیف ’’القواعد المثلٰي في صفات اللّٰه وأسماء ه الحسنٰي‘‘ ﴿اَلْمِثَالُ الْخَامِسُ وَالسَّادِسُ﴾سے ان کی ایک تحریر کا ترجمہ لکھا جاتا ہے، وہ لکھتے ہیں : ’’دوسری وجہ یہ ہے کہ ’’معیت‘‘ کے معنی کی حقیقت ’’عُلُوّ‘‘ کے مناقض اور خلاف نہیں، کیونکہ دونوں کا جمع ہونا مخلوق کے حق میں ممکن ہے (کہ ایک چیز بلندی پر بھی ہو اور ساتھ بھی ہو) کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ہم چلتے رہے اور چاند بھی ہمارے ساتھ تھااور اسے تناقض نہیں سمجھا جاتا اور نہ کوئی اس سے یہ سمجھتا ہے کہ چاند زمین پر اتر آیا ہے۔ تو جب یہ مخلوق کے حق میں ممکن ہے تو خالق کے حق میں تو بالاولیٰ ممکن ہے، جو اپنے علو کے ساتھ ہر چیز کو محیط بھی ہے، کیونکہ معیت کی حقیقت کے لیے ضروری نہیں کہ دونوں ایک جگہ اکٹھے ہوں۔ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’ الفتوي الحموية (ص ۱۰۳ )‘‘ (دیکھیے ابن القاسم کے مرتب کردہ ’’مجموع الفتاویٰ ‘‘کی جلد پنجم) میں اسی وجہ کی طرف اشارہ کیا ہے، چنانچہ انھوں نے لکھا ہے : ’’یہ اس لیے کہ لغت میں جب لفظ ’’مَعَ‘‘ کسی قید کے بغیر بولا جاتا ہے تو اس کا معنی لغت میں مطلق ساتھ ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، پھر جب اسے کسی خاص معنی کے ساتھ مقید کیا جائے تو اس معنی میں ساتھ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہم چلتے رہے اور چاند یا ستارہ ہمارے ساتھ تھا اور کہا جاتا ہے کہ فلاں سامان میرے ساتھ ہے، کیونکہ وہ تمھارے پاس ہوتا ہے، خواہ وہ تمھارے سر کے اوپر ہو۔ سو اللہ تعالیٰ حقیقت میں اپنی مخلوق کے ساتھ ہے اور حقیقت میں اپنے عرش پر بھی ہے۔‘‘ 5۔ سلف صالحین میں سے بہت سے اہلِ علم نے ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ‘‘ کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ اپنے علم، رؤیت اور قدرت کے ساتھ ہمارے ساتھ ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ زیر تفسیر آیت میں ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ‘‘ سے پہلے ہر چیز کے علم کا ذکر ہے اور بعد میں ہر چیز کو دیکھنے کا۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے ہم جہاں بھی ہوں، مگر وہ زمین پر اپنی مخلوق کے ساتھ اس طرح نہیں جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا، اسے دیکھنے والا اور اس پر پوری قدرت اور تصرف رکھنے والا ہے۔ یہ تمام صفات حسنیٰ اس کے لیے ثابت ہیں، مگر معیت کا معنی علم یا قدرت نہیں بلکہ یہ بذات خود ایک صفت ہے جس کی اصل کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس لیے اس بات پر ایمان رکھنا لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے ہم جہاں بھی ہوں۔ رہی یہ بات کہ کس طرح ہے؟ تو اس کی اصل کیفیت وہی جانتا ہے، چاند یا سورج کی مثالیں صرف سمجھانے کے لیے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش کے اوپر ہے، وہ مخلوق کے ساتھ ہو سکتا ہے اور ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کی ایک اور ادنیٰ سی مثال بجلی ہے کہ وہ اپنے اصل ٹھکانے میں ہونے کے باوجود ہزاروں میل دور تک موجود ہوتی ہے اور اس کا وجود سب محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معیت اور مخلوق پر مؤثر ہونے کے لیے یہ مثال بھی نہایت ادنیٰ مثال ہے، جبکہ اللہ کی صفات بہت اعلیٰ ہیں، چنانچہ فرمایا : ﴿وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى﴾ [ النحل : ۶۰ ] ’’اور اللہ کی سب سے اونچی صفت ہے۔‘‘ اس کے لیے عرش پر رہ کر ہر ایک کے ساتھ ہونا بالکل معمولی بات ہے۔تفسیر احسن البیان - تفسیر تیسیر القرآن - تفسیر تیسیر الرحمٰن - تفسیر ترجمان القرآن - تفسیر فہم القرآن - تفسیر سراج البیان - تفسیر ابن کثیر - تفسیر سعدی - تفسیر ثنائی - تفسیر اشرف الحواشی - تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - تسہیل البیان فی تفسیر القرآن -
AGAHA NEWS
🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...
-
ذیل میں ان تمام میں سے ہر ایک کی تعریف و اقسام اور احکام کاالگ الگ تذکرہ کیا جائے گا: ۱۔ جاہلیت: اسلام سے قبل عرب جس حالت میں تھے اسے جاہ...
-
یہ ایک حقیقی واقعے کی تصویر ہے۔۔۔ اس لیے ہر انسان لازمی پڑھے وہ خود ایک اعلیٰ عہدے پر فائز سرکاری ملازم تھا اس کے تین بیٹے تھے ، تینوں سون...
-
Righteous Deeds and their Reward This is a promise from Allah to those Children of Adam, male or female, who do righteous deeds - deeds i...
-
“When I was living in America (New York), a letter came to me in the mail (stating I committed a traffic violation..that I ran a red light o...
-
٭ شکر کے بعد صبر کا بیان ہو رہا ہے ٭ اور سات ہی نماز کا ذکر کر کے ان بڑے بڑے نیک کاموں کو ذریعہ نجات بنانے کا حکم ہو رہا ہے، ظاہر بات ہے ...
-
روایت کی تحقیق و تخريج جو سوشل میڈیا پر بہت پھیلی ہوئی ہے : *** آیت الکرسی کی فضیلت * جب حضور صلی اللہ ...
-
Jahannam and Paradise and their Dwellers Allah states that He will say to Jahannam on the Day of Resurrection, "Have you had...
-
م ومنوں کا جہنم میں داخل ہونے والےاپنے بھائیوں کے بارے میں رب تعالیٰ سے بڑی شدومد کے ساتھ مجادلہ کریں گے بالآخر توحید پرست گنہگار جہنم سے ن...
-
The Believers are commanded to worship Allah Alone no matter what Their Circumstances ﴿فَادْعُواْ اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ...
-
Allah chastises the bedouins who, when they embraced Islam , claimed for themselves the grade of faithful believers. However, Faith had not...




