Monday, June 19, 2023

ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت،

{بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ}
ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت

ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت، قرآن و 
سنت کی روشنی میں درج ذیل ہے:


1 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ یعنیمجھے فجر اور دس راتوں کی قسم ہے۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ بحوالہ بخاری فرماتے ہیں: ’’اس سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں‘‘۔

2 سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں میں اللہ تعالیٰ کو عمل صالح بہت پسند ہے‘‘ آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ کیا جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی زیادہ یہ دن پسند ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ہاں! یہ دن جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بہتر ہیں سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کو لے کر نکلے اور کسی چیز کو واپس لے کر نہ آئے‘‘ (بحوالہ بخاری)۔

3 سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’ان دس دنوں سے بڑھ کر اور سب سے زیادہ محبوب اللہ تعالیٰ کو کوئی اور دن نہیں ہیں لہٰذا تم ان دنوں میں کثرت سے تسبیح، تحمید اور تہلیل کیا کرو‘‘۔ (بحوالہ طبرانی)۔

سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ان ایام عشرہ میں سخت ترین محنت سے عمل صالح فرماتے تھے۔ (بحوالہ دارمی)۔ امام ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق اس عمل صالح کی وجہ غالباً یہ ہے کہ ان دنوں میں حج کا اجتماع منعقد ہوتا ہے اور حج اسلام کے اراکین میں شامل ہے۔

مستحب اعمال

1 کثرت سے نوافل ادا کرنا۔ نمازوں میں مکمل پابندی کرنا، کثرت سجود سے قربِ الٰہی کا حاصل کرنا۔ (صحیح مسلم)۔

2 نفل روزے کا اہتمام کریں۔ کیونکہ اعمال صالحہ میں روزے شامل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ذی الحجہ کی تاریخ کو روزے رکھتے تھے یوم عاشور، محرم اور ہر مہینے تین روزے رکھنا بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا معمول تھا۔ (بحوالہ ابوداؤد، مسند احمد)۔

3 کثرت سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا بھی ان ایام کا ایک معروف فعل ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کے مطابق سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہم بازاروں میں جاتے تھے، خود بھی تکبیرات کہتے اور لوگ بھی تکبیریں بلند آواز سے پڑھتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے خیمے میں بلند آواز سے تکبیریں کہتے تو اہل مسجد اس کو سن کر جواباً تکبیریں کہتے تھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نمازوں کے بعد، گھر میں، آتے جاتے، پیدل چلتے ہوئے تکبیریں کہتے تھے۔ افسوس صد افسوس کہ ان ایام میں یہ عظیم سنت ختم ہو گئی ہے۔ تکبیر ان الفاظ سے کہی جاتی تھی:

اَﷲُ اَکْبَر اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرکَبِیْرًا

اور

اَﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَرلَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ وَ اﷲُ اَکْبَراَﷲُ اَکْبَر وَ ِﷲِ الْحَمْدُ

4 یومِ عرفہ کا روزہ رکھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’میں اُمید کرتا ہوں کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے‘‘ (صحیح مسلم) لیکن یہ روزہ حاجیوں کے لئے نہیں ہے۔

5 قربانی کا دن مسلمانوں کی عظیم الشان قربانی اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و شان کی نشاندہی کرتا ہے۔ تمام علماء کے مطابق سال کا افضل ترین دن قربانی کا دن ہے۔ سنن ابوداؤد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا اِرشاد ہے کہ ’’قربانی کا دن افضل ترین دن ہے‘‘۔

احکام قربانی

قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے۔ قربانی زندہ افراد کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے فوت شدگان کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ (لیکن درج ذیل شرطوں کے ساتھ):

1 قربانی اصل میں زندوں کی طرف سے ہوتی ہے، ان کے ضمن میں فوت شدگان کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔

2 فوت شدگان کی قربانی ان کی وصیت کو پورا کرتے ہوئے کی جا سکتی ہے۔

3 تخصیص کرتے ہوئے صرف فوت شدہ افراد کی طرف سے قربانی کرنا سنت نبوی صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی فوت شدہ صحابی یا اپنے رشتہ دار کی طرف سے قربانی نہیں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زوجہ محترمہ اُمّ المؤمنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ، تین بیٹیاں اور سید الشہداء حمزہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی میں انتقال فرما گئے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے کبھی بھی ان کی طرف سے قربانی نہیں کی۔

قربانی کرنے والا ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں تک اپنے بدن کے بال نہ کاٹے۔ اُمّ المؤمنین سیدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جب عشرئہ ذوالحجہ شروع ہو جائے اور کوئی قربانی کا ارادہ کر لے تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے‘‘ (صحیح مسلم) اس عمل کی حکمت یہ ہے کہ قربانی کرنے والا حج کے اعمال میں شریک ہو جاتا ہے۔

عیدالاضحی کے آداب

اے پیارے بھائی! ہم تمہیں عیدالاضحی کی مبارک باد دیتے ہیں۔ تمام قسم کی بھلائیاں اتباع سنت اور پیروئ رسول صلی اللہ علیہ و سلم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول نے ہمیں یومِ عید اور ایام تشریق میں چند اُمور کا حکم دیا ہے:

1 بلند آواز میں تکبیریں کہنا، یوم عرفہ سے لے کر، ایام تشریق کے آخری دن عصر تک اور یاد رہے کہ آخری دن ویں ذوالحجہ کو ہوتا ہے۔ بازاروں، گھروں اور مساجد میں تکبیر کا ورد جاری رکھیں۔

2 قربانی، نماز عید کے بعد کی جاتی ہے۔ پہلے کرنا منع ہے۔ ـ (صحیح مسلم)۔ قربانی کے چار دن ہوتے ہیں۔ ایک یومِ نحر اور تین ایام تشریق (بروایت سلسلہ الصحیحہ:)۔

3 خوشبو لگائیں۔ غسل کریں۔ اچھے لباس پہنے لیکن اسراف اور نمود و نمائش سے پرہیز کرے۔ خواتین بھی عیدگاہ میں جا کر نمازِ عید پڑھیں۔ عید کی مبارک باد دینا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فعل سے ثابت ہے۔

عید کے دن کھیل تماشے، محفل موسیقی، رقص و سرود کی محفلیں سجاتے نہ گزاریں۔ فضول خرچی اور فخر و رِیا کرنا منع ہے۔ گوشت سارا خود نہ کھائیں بلکہ غرباء کو بھی دیں۔

Sunday, June 18, 2023

رسول اللہ ﷺ پہلی صف کے لئے تین دفعہ مغفرت کی دعا کرتے تھے

 {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ}

۱: صفوں میں مل کر کھڑے ہونا 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص صف ملائے گا اللہ بھی (اپنی رحمت سے) اس ملائے گا ”
(ابوداود : ۶۶۶ و سندہ حسن، اس حدیث کو ابن خزیمہ (۱۵۴۹) حاکم (۲۱۳/۱) اور ذہبی نے صحیح کہا ہے)

۲: صفوں کو برابر کرنا :

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سوواصفولکم ” تم اپنی صفوں کو برابر کر(”صحیح بخاری : ۷۲۳، صحیح مسلم ۴۳۳)


۳: صفوں کو سیدھا کرنا چاہئے :

سیدنا نعمان بن بشیرؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کی طرف رخ کرکے فرمایا : “لوگو! اپنی صفوں کو سیدھا کرو، لوگوں اپنی صفیں درست کرو، لوگوں اپنی صفیں برابر کرو، سنو اگر تم نے صفیں سیدھی نہ کیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں میں اختلاف ڈال دے گا” پھر تو یہ حالت ہوگئی کہ ہر شخص اپنے ساتھی کے ٹخنے سے ٹخنا ، گھٹنے سے گھٹنا اور کندھے سے کندھا چپکا دیتا تھا۔ (صحیح بخاری: ۱۸)

۴: صف کو ملاتے وقت :

ٹخنے سے ٹخنا، گھٹنے سے گھٹنا ، کندھے سے کندھا ملا ہوا ہو(ابوداود : ۶۶۲ وھو حدیث صحیح)

سینے سے سینہ اور کندھے سے کندھا (ساتھ والے مقتدی کے) برابر ہونا چاہئے (ابوداود : ۶۶۴ وسندہ صحیح، اسے ابن خزیمہ (۱۵۵۱) اور ابن حبان (۳۸۶) نے صحیح کہا ہے)

گردنیں بھی ایک دوسرے کے برابر ہونی چاہئیں۔ (ابوداود: ۶۶۷ و سندہ صحیح، اسے ابن خزیمہ (۱۵۴۵) اور ابن حبان (۳۸۷) نے صحیح کہا ہے۔

اور دوسرے (ساتھی) کے قدم سے قدم ملانا چاہئے ۔ (صحیح بخاری: ۷۲۵)

سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : “صفوں کو قائم کرو مونڈھوں کو برابر کرو اور خالی جگہوں (جو صفوں کے درمیان رہ جائیں) کو بند کرو، اپنے بھائیوں (نمازیوں) کے لئے نرم ہوجاؤ اور شیطان کے لئے صفوں میں جگہ نہ چھوڑو، جو شخص صف ملائے گا اللہ تعالیٰ بھی اس کو (اپنی رحمت سے) ملائے گا ۔ اور جو شخص صف کو کاٹے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کو (اپنی رحمت سے) کاٹے گا۔ ” (ابوداود : ۶۶۶ و سندہ حسن، اس حدیث کو ابن خزیمہ (۱۵۴۹) حاکم (۲۱۳/۱) اور ذہبی نے صحیح کہا ہے)

۵: صف میں مل کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا ہونا چاہئے :

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”رصوا صفو فکم” سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اپنی صفوں کو ملاؤ۔(ابوداود :۶۶۷ و سندہ صحیح، اس حدیث کو ابن خزیمہ (۱۵۴۵) اور ابن حبان (۳۸۷) نے صحیح کہا ہے )

تنبیہ :

(۱): اگر صفوں میں خلا ہو تو وہاں شیطان سیاہ بکری کے بچے کی شکل اختیار کرکے داخل ہوجاتا ہے ۔ (ابوداود : ۶۶۷ و سندہ صحیح، اس حدیث کو ابن خزیمہ (۱۵۴۵) اور ابن حبان (۳۸۷) نے صحیح کہا ہے )

(۲): بعض لوگ صفوں میں ایک دوسرے سے ہٹ کر اس طرح کھڑے ہوتے ہیں کہ ہر دو آدمیوں کے درمیان کم از کم چار انچ یا اس سے زیادہ جگہ خالی ہوتی ہے۔ اس طریقے سے نہ تو نمازیوں کے کندھے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور نہ قدم بلکہ ایک بکھری ہوئی، ٹوٹی پھوٹی صف کا نظارہ ہوتا ہے گویا زبانِ حال سے یہ گواہی دے رہے ہیں کہ جیسے وہ ایک دوسرے سے دور کھڑے ہیں اسی طرح ان کے دل بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔ صفوں کے درمیان ایک دوسرے سے ہٹ کر کھڑے ہونے کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث میں قطعاً نہیں ہے ۔

۶: صف کی دائیں جانب کھڑا ہونا زیادہ پسندیدہ عمل ہے:

سیدنا براء بن عازبؓ فرماتے ہیں :”جب ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو آپ (ﷺ) کی داہنی جانب کھڑا ہونا پسند کرتے تھے ۔” (صحیح مسلم: ۷۰۹)

صحیح ابن خزیمہ میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ “لأنہ کان یبدأ بالسلام عن یمینہ” (ہم رسول اللہ ﷺ کی دائیں طرف کھڑا ہونا اس لئے زیادہ پسند کرتے تھے) کیونکہ آپ ﷺ سلام پہلے دائیں طرف کہتے تھے (ح۱۵۶۴)

۷: صفوں کی ترتیب:

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ “پہلی صف کو پورا کرو پھرا س کو جو پہلی کے نزدیک ہے ”(ابوداود : ۶۷۱ و ھو حدیث صحیح ، اسے ابن خزیمہ (۱۵۴۶) اور ابن حبان (۳۹۰) نے صحیح کہا ہے )

۸: پہلئ صف سے ہمیشہ پیچھے رہنے پر وعید:

سیدنا ابوسعید خدریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
“ہمیشہ لوگ (پہلے صف سے) پیچھے ہٹتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو (اپنی رحمت میں) پیچھے ڈال دے گا ” (صحیح مسلم: ۴۳۸)

۹: پہلی صف میں نماز پڑھنے کی فضیلت :

سیدنا براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ “بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے پہلی صف کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں” (ابن ماجہ : ۹۹۷ و سندہ صحیح)

سیدنا عرباض بن ساریہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پہلی صف کے لئے تین دفعہ مغفرت کی دعا کرتے تھے اور دوسری صف کے لئے ایک دفعہ” (سنن النسائی: ۸۱۸ و احمد ۱۲۸/۴، اس حدیث کو ابن خزیمہ (۱۵۵۸) ابن حبان (الاحسان ۳۹۶/۳) اور حاکم (۲۱۷/۱) نے صحیح کہا ہے )

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”اگر لوگوں کو اذان اور پہلی صف کے ثواب کا پتہ چل جائے پھر ان کے لئے قرعہ اندازی کے بغیر کوئی چارہ نہ رہے تو وہ ضرور قرعہ اندازی کریں۔” (صحیح بخاری: ۶۱۵ و صحیح مسلم: ۴۳۷)

۱۰: عورتوں اور مردوں کی سب سے بہترین صف :

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ “مردوں کی پہلی صف سب سے افضل ہے اور آخری صف بدتر ہے اور عورتوں کی آخری صف سب سے افضل ہے اور پہلی بدتر ہے ” (صحیح مسلم: ۴۴۰)

۱۱: پہلی صف میں نقص نہیں ہونا چاہئے آخری صف میں نقص رہ جائے مکمل نہ ہو تو خیر ہے :

سیدنا انسؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ “پہلی صف کو مکمل کرو اگر آخری صف میں نقص رہ جائے تو کوئی حرج نہیں ” (صحیح ابن خزیمہ: ۱۵۴۶، ۱۵۴۷ و سنن ابی داود: ۶۷۱ وھو حدیث صحیح)

۱۲: صف بندی کے مراتب :

① پہلی صف میں امام کے قریب بالغ اور عقلمند لوگ کھڑے ہونے چاہئیں :

سیدنا ابو مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :”میرے قریب (صف میں) وہ لوگ رہیں جو بالغ اور عقل مند ہیں پھر جو ان کے قریب ہیں جو ان کے قریب ہیں” (صحیح مسلم: ۴۳۲)

② کم عمر لڑکے پچھلی صف میں کھڑے ہوں :

سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، پہلے مردوں نے صف باندھی پھرلڑکوں نے اس کے بعد آپ (ﷺ) نے نماز پڑھائی پھر آپ (ﷺ) نے فرمایا : یہ میری امت کی نماز ہے ” (ابوداود: ۶۷۷ و سندہ حسن، و حسنہ ابن الملقن فی تحفۃ المحتاج : ۵۴۸)

③ عورت اگر باجماعت نماز پڑھے تو سب سے آخری صف میں کھڑی ہوگی :

سیدنا انسؓ کی حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ “میں نے اور ایک بچے نے اکٹھے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بنائی اور ایک بڑھیا اکیلی ہی صف میں ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئی ” (صحیح بخاری: ۴۲۷، ۳۸۰ و صحیح مسلم: ۶۵۸)

فائدہ (۱): اگر ایک بچہ ہے تو مردوں کے ساتھ کھڑا ہوسکتا ہے ۔

فائدہ (۲): اگر عورت صف میں اکیلی ہی کھڑی ہو تو اس کی نماز درست ہے ۔

۱۳: صف میں پیچھے اکیلے کھڑے ہوکر نماز نہیں پڑھنی چاہئے :

سیدنا وابصہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ (ﷺ) نے اس کو نماز لوٹانے کا حکم دیا۔ 
(ابوداود : ۶۸۲ و سندہ صحیح، اس حدیث کو امام ترمذیؒ (۲۳۰) نے “حسن” اور ابن حبان (۵۷۵/۵- ۵۷۶) نے صحیح کہا ہے ) 

ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
((لا صلوۃ للذي خلف الصف)) جو آدمی صف کے پیچھے (اکیلے ) نماز پڑھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی ۔
(سنن ابن ماجہ:۱۰۰۳، وسندہ صحیح و صححہ ابن خزیمہ : ۱۵۶۹، وابن حبان ، الموارد:۴۰۱،۴۰۲)

تنبیہ: اگلی صف سے کھینچنے والی تمام روایات ضعیف ہیں۔

(لیکن ایک امام اور ایک مقتدی پر قیاس کرتے ہوئے اگلی صف سے آدمی کھینچ لینا جائز ہے ۔ واللہ اعلم)

۱۴: جب صرف دو نمازی ہوں :

ایک امام اور ایک مقتدی مرد ہو تو مقتدی کوامام کے دائیں طرف کھڑا ہونا چاہئے ۔ امام بائیں طرف ہوگا۔

سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ میں نے اپنی خالہ (سیدہ میمونہؓ) کے ہاں رات بسر کی ۔ رات کے وقت رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ کے ساتھ بائیں جانب کھڑا ہوگیا آپ (ﷺ) نے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا” (صحیح بخاری: ۶۹۹)

سیدنا جابرؓ بھی رسول اللہ ﷺ کی بائیں طرف کھڑے ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو ہاتھ سے پکڑ کر گھمایا اور اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ (صحیح مسلم: ۳۰۱۰)

امام الائمہ امام ابن خزیمہ نے کہا: “والمأ موم من الرجال إن کان واحدًا فسنتہ أن یقوم عن یمین إما مہ” اگر مقتدی مرد اکیلا ہو تو سنت یہ ہے کہ وہ امام (کے ساتھ اس ) کی دائیں طرف (نماز پڑھنے کے لئے ) کھڑا ہو ۔ (صحیح ابن خزیمہ ۳۱/۳ ح ۱۵۷۰)

فائدہ:ان دونوں احادیث سے یہ بھی ثابت ہواکہ اگر ایک آدمی نماز ادا کررہا ہو تو بعد میں آنے والا اگر اس کے ساتھ نماز میں مل جائے تو جماعت ہو سکتی ہے ۔

امام بخاریؒ نے صحیح بخاری میں باب قائم کیا کہ “إذا لم ینو الإمام أن یؤم ثم جاء قوم فأمھم” جب امام نے امامت کرانے کی نیت نہ کی ہو پھر کوئی قوم آجائے تو وہ ان کی امامت کرا دے ۔ (ح ۱۹۹)

۱۵: جب دو مقتدی ہوں تو امام کے پیچھے کھڑے ہوں :

سیدنا جابر بن عبداللہؓ کی ایک لمبی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکیلے نماز پڑھ رہے تھے، پھر میں (جابرؓ) آیا یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔ پھر جبار بن صخرؓ آئے ، انہوں نے وضو کیا، پھر آکر رسول اللہ ﷺ کی بائیں جانب کھڑے ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے جابر بن عبداللہ اور جبار بن صخر رضی اللہ تعالیٰ عنہما دونوں کو پکڑ کر پیچھے دھکیل دیا حتیٰ کہ ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے ۔” (دیکھئے صحیح مسلم : ۳۰۱۰)

اس حدیث پر امام ابن خزیمہ (۱۵۳۵) نے یہ باب باندھا ہے “:

“باب قیام الإثنین خلف الإمام” دو آدمیوں کا امام کے پیچھے کھڑے ہونے کا بیان۔

فائدہ (۱): مذکورہ حدیث میں امام کا مقتدی کو پیچھے کرنے کا ذکر ہے ۔

فائدہ(۲): اگر امام اور ایک مقتدی دونوں اکٹھے نماز پڑھ رہے ہیں، کوئی تیسرا بھی جماعت میں شامل ہوگیا تو امام خوف اگلی صف میں بھی جا سکتا ہے ۔ (دیکھئے صحیح ابن خزیمہ: ۱۵۳۶ وسندہ صحیح، سعیدبن ابی ہلال حدّث بہ قبل اختلاطہ)

فائدہ(۳): اگر امام کے علاوہ ایک مرد ہو اور ایک عورت تو مرد امام کی دائیں طرف کھڑا اور عورت پیچھے کھڑی ہو۔ (صحیح مسلم: ۶۶۰/۲۶۹ و ترقیم دارالسلام: ۱۵۰۲)

۱۶: عورت اگر عورتوں کی امامت کرائے تو وہ صف میں کھڑی ہوگی :

سیدہ عائشہؓ نے فرض نماز پڑھائی اور آپ عورتوں کے درمیان (صف میں) کھڑی ہوئیں۔ (سنن دارقطنی ۴۰۴/۱ ح ۱۴۲۹، و سندہ حسن، ماہنامہ الحدیث: ۱۵ ص ۲۲)

۱۷: دو ستونوں کے درمیان صف نہیں بنانی چاہئے :

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ “ہم رسول اللہ ﷺ کے دور میں (ستونوں کے درمیان صفیں بنانے سے ) بچتے تھے”
(ابوداود : ۶۷۳ و سندہ صحیح، ترمذی (۲۲۹) نے اس کو حسن کہا ہے ) (حاکم (۲۱۸/۱) اورذہبی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے)

۱۸: صفیں ایک دوسرے کے قریب ہونی چاہئیں :

سیدنا انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “…. صفوں کے درمیان تم قربت کرو۔ ” (ابوداود : ۶۶۷ و سندہ صحیح، النسائی: ۸۱۶، اس حدیث کو ابن خزیمہ (۱۵۴۹) ابن حبان (الموارد ۳۸۷) نے صحیح کہا ہے)

۱۹: امام کی ذمہ داریاں :

① امام اس وقت تک نماز پڑھانا نہ شروع کرے جب تمام صفیں سیدھی نہ ہوجائیں۔
سیدنا نعمان بن بشیرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہماری صفوں کو برابر کرتے تھے جب ہم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے۔ جب صفیں برابر ہوجاتیں تو (پھر) آپ (ﷺ) تکبیر کہتے۔ (ابوداود : ۶۶۵ و سندہ صحیح)

② امام کو چاہئے کہ خود بھی صفوں کو سیدھا کرے اور خوب مبالغہ کے ساتھ کرے۔

③ امام کو صفوں میں پھرنا چاہئے اور مقتدیوں کے کندھوں اور سینوں پر ہاتھ رکھے اور ان سے کہے کہ سیدھے ہوجاؤ، آگے پیچھے نہ رہو۔

اللہ سبحان و تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ھم سب مسلمانوں کی اصلاح فرما دے :

آمین یا رب العالمین

،نبی ﷺ کا فرمان ہے جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔



سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر یہ خبر عام کی جارہی ہے اور اسے رمضان المبارک کا مبارک میسج سمجھ کر عوام بھی بڑے پیمانے پر شیئرکی جارہی ہے ۔ وہ میسج اس طرح سے ہے ۔ 
((مبارک ہومئی کی فلاں تاریخ کو رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہونے والا ہے ۔ 
حضرت محمدؐ نے ارشاد فرمایا ! جس نے سب سے پہلے کسی کو رمضان کی مبارک دی اس پر جنت واجب ہو گئی ایک بار درود پاک پڑھ کر آگے شیئرزکریں -))
یہ میسیج لوگوں میں اس قدر شیئر کیا گیا کہ عرب بولنے والے بھی اس سے متاثر ہوگئے اور عربی زبان میں بھی اس کا مفہوم بیان ہونے لگا ،وہ اس طرح سے ہے ۔

((من أخبر بخبر رمضان أولا حرام عليه نار جهنم))
یعنی جس نے سب سے پہلے رمضان کی خبر دی اس پر جہنم کی آگ حرام ہوگئی ۔ 
اس عربی عبارت کو لوگوں نے حدیث رسول سمجھ لیا جبکہ کسی نے وہی اردو والی بات عربی میں ترجمہ کردیا تھا یا یہ بھی ممکن ہو کہ کسی عربی بولنے والے نےپہلے عربی زبان میں اس بات کو گھڑ کر پھیلایا ہو اور پھر اسے اردو ہندی اور دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا گیاہو۔بہرکیف! اتنا تو طے ہے کہ یہ میسج بہت ہی گردش میں ہے تبھی تو کئی زبانوں میں یہ بات مشہور ہوگئی ۔ 
اس میسج کے متعلق میں لوگوں کو چند باتوں کی خبردینا چاہتا ہوں ۔
پہلی بات :  یہ میسج جھوٹا ہے اسے کسی بے دین ملحدنے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے اور ہمارے ایمان وعقیدے کو خراب کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان شیئر کررہاہے ۔یاد رکھئے جو کوئی نبی ﷺ کی طرف جھوٹی بات گھڑ کر منسوب کرتا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے ،نبی ﷺ کا فرمان ہے : 
مَنْ كَذَبَ عَلَي مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ (صحیح البخاري:1291،صحیح مسلم:933) .
ترجمہ: جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے۔
اور جو بلاتحقیق کوئی بات آنکھ بند کرکے شیئر کرتے چلے جاتے ہیں وہ بھی اس جھوٹے کے جھوٹ میں شامل ہوجاتے ہیں ۔نبی ﷺ کا فرمان ہے :

كفى بالمرءِ كذبًا أن يُحَدِّثَ بكلِّ ما سمِع( مقدمہ صحيح مسلم )
ترجمہ: کسی انسان کے جھوٹا اور ایک روایت کے مطابق گناہگار ہونے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کر دے۔

اس لئے مسلمانوں کو سوشل میڈیا پہ آئی چیزوں کی پہلے تحقیق کرلینی چاہئے پھر اس کے بعد فیصلہ کرنا چاہئے کہ ایا یہ خبر سچی یا جھوٹی تحقیق سے جو بات سچی ثابت ہوجائے اسے ہی شیئر کریں اور جس کے متعلق آپ کو معلوم نہیں یا تحقیق سے جھوٹا ہونا ثابت ہوگیا تواسے ہرگزہرگز کسی کو نہ بھیجیں ۔ 
دوسری بات : دین کے متعلق خوشخبری سنانے والا صرف اور صرف اللہ کے پیغمبر ہیں اور پیغمبر ہی کسی کو ڈراسکتے ہیں ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے : 

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا (الاحزاب:45)
ترجمہ: اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا ہے ۔

اس لئے کسی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کوئی بات گھڑ کر اس پر خوشخبری سنائے ۔ بہت سارے میسج میں لکھا ہوتا ہے کہ یہ میسج بیس لوگوں کو بھیجو تو مالا مال ہوجاؤگے اور اگر نہیں بھیجا تو فقیر بن جاؤگے ۔ دوسرا فقیر ہونہ ہوجھوٹا میسج گھڑنے والا نیکی ضائع کرکے خود فقیر وقلاش ہوگیا۔ ایسے فقیروں کا میسج بھیج آپ بھی فقیر نہ بنیں ۔ اور آج سے یہ طے کرلیں کہ بیس آدمی ،تیس آدمی کو بھیجنے والی ہربات جھوٹی ہے ۔ 
تیسری بات : جنت وجہنم اللہ کی طرف سے ہے ، نبی ﷺ صرف ہمیں خبر دینے والے تھے جو بذریعہ وحی آپ کے پاس آتی تھی کہ فلاں جنتی ہے ، فلاں کام کرنے پر جنت ہے ، فلاں کام کرنے والا جہنم رسید ہوگا ۔ جب نبی ﷺ کو یہ اختیار نہیں تھا تو جو لوگ جھوٹی بات گھڑ پر جنت کی بشارت یا جہنم کی خبر دیتے ہیں کتنے بڑے مجرم ہیں ؟ آپ ایسے مجرموں کی جھوٹی خبریں شائع کرکے اس کے بدترین جرم میں شمولیت اختیار نہ کریں ۔ 
چوتھی اور آخری بات : آج کل سوشل میڈیا پہ اسلام کی غلط ترجمانی کی جارہی ہے ، طرح طرح سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کئے جارہے ہیں ،قرآن وحدیث کا نام لیکر ہمیں دھوکا دیا جارہاہے ، جھوٹی باتوں کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کرکے پھیلائی جارہی ہیں،اس لئے ہمیں بہت محتاط رہنا ہے اور اسلام کے خلاف ہورہی غلط ترجمانیوں کا سد باب کرنا ہے ۔ ہم سدباب کرنے کے بجائے پروپیگنڈے کو مزید ہوا دینے لگ جاتے ہیں۔ نبی ﷺ کی طرف منسوب کوئی خبریااسلام اور قرآن وحدیث سے متعلق کوئی بھی بات بغیر تحقیق کے آگے شیئر نہ کریں اور نہ ہی آپ کوئی ایسی بات اپنی طرف سے لکھ کر پھیلائیں جس کے متعلق آپ کو صحیح سے معلوم نہیں ،وہی بات لکھیں جو متحقق طور پر آپ کو معلوم ہے اور ساتھ میں مکمل حوالہ درج کریں تاکہ دوسروں کے لئے اس بات کی تحقیق کرنا آسان رہے ۔  

Saturday, June 17, 2023

’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو‘‘


  وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ: ’’اور وہ تمھارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو‘‘ اس جملے سے پہلے اسی آیت میں یہ جملہ گزر چکا ہے : ﴿ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ﴾ ’’وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر جا ٹھہرا۔‘‘ تو یہ آیت دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ دونوں باتیں بیک وقت کیسے درست ہو سکتی ہیں؟ اس معاملے میں بعض لوگوں نے ان دونوں کا انکار کر دیا اور یہ کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نہ عرش پر ہے اور نہ کسی اور جگہ ، بلکہ وہ لامکان ہے اور جو شخص یہ پوچھ بھی لے کہ اللہ تعالیٰ کہاں ہے وہ کافر ہوگیا، کیونکہ اس کے لیے مکان (جگہ) تسلیم کرنے سے اس کا اس جگہ کا محتاج ہونا لازم آتا ہے۔ ان نادانوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ان کا فتویٰ کس کس پر لگ رہا ہے اور نہ یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ خود فرما رہے ہیں : ﴿ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ﴾کہ پھر وہ عرش پر جا ٹھہرا۔ پھر قیامت کے دن آٹھ فرشتوں کے عرش الٰہی کو اٹھائے ہونے کا ذکر سورۂ حاقہ میں موجود ہے، فرمایا : ﴿وَ يَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ ثَمٰنِيَةٌ﴾ [ الحاقۃ : ۱۷] ’’اور تیرے رب کا عرش اس دن آٹھ فرشتے اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔‘‘ اور قیامت کے دن فرشتوں کے عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے ہونے کا ذکر سورۂ زمر میں موجود ہے، فرمایا : ﴿وَ تَرَى الْمَلٰٓىِٕكَةَ حَآفِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ﴾ [ الزمر : ۷۵ ] ’’اور تو فرشتوں کو دیکھے گا عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے۔‘‘ اور یہ سوال کرنا کہ اللہ کہاں ہے، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ چنانچہ معاویہ بن حکم السُّلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ’’میری ایک لونڈی اُحد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن میں نے دیکھا تو بھیڑیا اس کی بکریوں سے ایک بکری لے جا چکا تھا، میں بھی بنی آدم سے ہوں، مجھے اسی طرح غصہ آ جاتا ہے جیسے انھیں غصہ آتا ہے، تو میں نے اسے ایک تھپڑ مار دیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے مجھ پر بہت بڑا (گناہ) قرار دیا، میں نے کہا : ’’یا رسول اللہ! کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( اِئْتِنِيْ بِهَا )) : ’’اسے میرے پاس لاؤ۔‘‘ میں اسے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : (( أَيْنَ اللّٰهُ ؟ )) ’’اللہ کہاں ہے؟‘‘ اس نے کہا : (( فِي السَّمَاءِ ))’’آسمان میں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( مَنْ أَنَا؟ )) ’’میں کون ہوں؟‘‘ اس نے کہا : (( أَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰهِ ))’’آپ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (( أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ)) ’’اسے آزاد کر دو، کیونکہ یہ مومنہ ہے۔‘‘ [ مسلم، المساجد ومواضع الصلاۃ، باب تحریم الکلام في الصلاۃ....: ۵۳۷ ] خلاصہ یہ ہے کہ یہ کہنا کہ اللہ تعالیٰ لامکان ہے، قرآن و حدیث کا صریح انکار ہے اور یہ عقیدہ رکھنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پاک عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے، مگر اس طرح سے جسے وہی جانتا ہے اور جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کے عرش پر مستوی ہونے کے انکار کی ایک انتہا یہ تھی کہ وہ کسی جگہ بھی نہیں، جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہستی ہی کا انکار ہے۔ دوسری انتہا ان لوگوں نے اختیار کی جنھوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ موجود ہے اور ہم جہاں بھی ہوں وہ ہمارے ساتھ اس طرح ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں، مگر یہ بات بھی غلط ہے، کیونکہ اسی آیت میں ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ‘‘ (وہ تمھارے ساتھ ہے تم جہاں بھی ہو) سے پہلے’’ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ ‘‘ میں اللہ تعالیٰ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر بھی موجود ہے۔ اب اگر ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ‘‘ کا مطلب یہ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر جگہ اس طرح ہمارے ساتھ ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں تو ایک ہی آیت کے دو جملے ایک دوسرے سے ٹکراتے اور متعارض ٹھہرتے ہیں، اس لیے ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ‘‘ کا وہی مطلب درست ہو گا جو ’’ اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى ‘‘ کے خلاف نہ ہو اور کلام عرب کے بھی خلاف نہ ہو، کیونکہ جس طرح ’’ اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى ‘‘ پر ایمان لازم ہے اسی طرح ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ ‘‘ پر ایمان بھی لازم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کلام عرب میں معیت (ساتھ ہونے) کا معنی اگرچہ اس طرح ساتھ ہونا بھی ہے جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں، مگر یہ لفظ مختلف مواقع کے لحاظ سے اس کے علاوہ معانی کے لیے بھی آتا ہے۔ چنانچہ معیت کا ایک معنی وہ ہے جو سورۂ بقرہ کی آیت (۱۵۳) : ﴿ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ﴾(بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے) اور سورۂ توبہ کی آیت (۴۰) : ﴿ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ﴾ (غم نہ کر، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے) میں ہے۔ ظاہر ہے ان آیات کے مطابق اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے بے صبروں کے ساتھ نہیں، اسی طرح وہ ہجرت کے وقت غارِ ثور میں اور سارے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا مشرکین کے ساتھ نہیں تھا۔ ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ‘‘ میں یہ معنی بھی مراد نہیں، کیونکہ اس معنی میں معیت صرف اللہ کے مخلص بندوں کا نصیب ہے۔ معیت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ ایک چیز دور ہونے کے باوجود ان چیزوں کے ساتھ بھی ہو جن سے وہ دور ہے۔ چنانچہ ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ‘‘ میں معیت سے یہی معنی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ بھی ہے۔ رہی یہ بات کہ کس طرح ہے؟ تو اس کی اصل اور پوری کیفیت وہی جانتا ہے۔ اگر مخلوق میں ایسا ہونا ممکن نہ بھی ہو تو اللہ تعالیٰ کو مخلوق پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس نے خود فرمایا ہے : ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ﴾ [ الشورٰی : ۱۱ ] ’’اس کی مثل کوئی چیز نہیں۔‘‘ مگر مخلوق میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک چیز کسی ایک جگہ ہونے کے باوجود دوسری جگہ موجود لوگوں کے ساتھ ہو۔ اس کی ادنیٰ سی مثال سورج اور چاند ہیں کہ بلندی پر ہونے کے باوجود ہم جہاں جاتے ہیں وہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں، حالانکہ وہ زمین پر ہمارے اندر موجود نہیں ہوتے، مگر سب کہتے ہیں کہ رات میں سفر کرتا رہا اور چاند سارے سفر میں میرے ساتھ رہا۔ معیت کا یہ معنی معروف ہے اور اپنے مقام پر حقیقی معنی ہے۔ جب سورج اور چاند کا یہ معاملہ ہے تو اللہ تعالیٰ کی صفت تو ان کی صفت سے کہیں بلند ہے، چنانچہ وہ عرش پر ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ ہے، خواہ ہم کہیں بھی ہوں، اگرچہ اپنی صفت ’’ الْبَاطِنُ ‘‘ کی وجہ سے اور حجاب میں ہونے کی وجہ سے ہمیں نظر نہیں آتا۔ قیامت کے دن جب وہ اہلِ جنت کو اپنے دیدار کی نعمت سے سرفراز فرمانے کا ارادہ کرے گا اور اپنا حجاب کھولے گا تو تمام جنتی اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے کسی تکلیف کے بغیر اور کسی قسم کے ہجوم یا بھیڑ کے بغیر اسے دیکھیں گے اور یہ مثال خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا : (( يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! هَلْ نَرٰی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! قَالَ فَهَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُوْنَهَا سَحَابٌ ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ ! قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذٰلِكَ )) [بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی : ﴿ وجوہ یومئذ....﴾ : ۷۴۳۷ ] ’’یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’کیا تم چودھویں کی رات کو چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا : ’’نہیں اے اللہ کے رسول!‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تو کیا تم سورج کو دیکھنے میں کوئی تکلیف محسوس کرتے ہو جس کے سامنے کوئی بادل نہ ہو؟‘‘ لوگوں نے کہا : ’’نہیں یا رسول اللہ!‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’تو تم اسے اسی طرح دیکھو گے۔‘‘ یہاں شیخ محمد بن صالح بن عثیمین رحمہ اللہ کی تالیف ’’القواعد المثلٰي في صفات اللّٰه وأسماء ه الحسنٰي‘‘ ﴿اَلْمِثَالُ الْخَامِسُ وَالسَّادِسُ﴾سے ان کی ایک تحریر کا ترجمہ لکھا جاتا ہے، وہ لکھتے ہیں : ’’دوسری وجہ یہ ہے کہ ’’معیت‘‘ کے معنی کی حقیقت ’’عُلُوّ‘‘ کے مناقض اور خلاف نہیں، کیونکہ دونوں کا جمع ہونا مخلوق کے حق میں ممکن ہے (کہ ایک چیز بلندی پر بھی ہو اور ساتھ بھی ہو) کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ہم چلتے رہے اور چاند بھی ہمارے ساتھ تھااور اسے تناقض نہیں سمجھا جاتا اور نہ کوئی اس سے یہ سمجھتا ہے کہ چاند زمین پر اتر آیا ہے۔ تو جب یہ مخلوق کے حق میں ممکن ہے تو خالق کے حق میں تو بالاولیٰ ممکن ہے، جو اپنے علو کے ساتھ ہر چیز کو محیط بھی ہے، کیونکہ معیت کی حقیقت کے لیے ضروری نہیں کہ دونوں ایک جگہ اکٹھے ہوں۔ اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ’’ الفتوي الحموية (ص ۱۰۳ )‘‘ (دیکھیے ابن القاسم کے مرتب کردہ ’’مجموع الفتاویٰ ‘‘کی جلد پنجم) میں اسی وجہ کی طرف اشارہ کیا ہے، چنانچہ انھوں نے لکھا ہے : ’’یہ اس لیے کہ لغت میں جب لفظ ’’مَعَ‘‘ کسی قید کے بغیر بولا جاتا ہے تو اس کا معنی لغت میں مطلق ساتھ ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا، پھر جب اسے کسی خاص معنی کے ساتھ مقید کیا جائے تو اس معنی میں ساتھ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ہم چلتے رہے اور چاند یا ستارہ ہمارے ساتھ تھا اور کہا جاتا ہے کہ فلاں سامان میرے ساتھ ہے، کیونکہ وہ تمھارے پاس ہوتا ہے، خواہ وہ تمھارے سر کے اوپر ہو۔ سو اللہ تعالیٰ حقیقت میں اپنی مخلوق کے ساتھ ہے اور حقیقت میں اپنے عرش پر بھی ہے۔‘‘ 5۔ سلف صالحین میں سے بہت سے اہلِ علم نے ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ‘‘ کا مطلب یہ بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ اپنے علم، رؤیت اور قدرت کے ساتھ ہمارے ساتھ ہے اور اس کی دلیل یہ دی ہے کہ زیر تفسیر آیت میں ’’ وَ هُوَ مَعَكُمْ‘‘ سے پہلے ہر چیز کے علم کا ذکر ہے اور بعد میں ہر چیز کو دیکھنے کا۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ بھی ہے ہم جہاں بھی ہوں، مگر وہ زمین پر اپنی مخلوق کے ساتھ اس طرح نہیں جس طرح ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھنے والا، اسے دیکھنے والا اور اس پر پوری قدرت اور تصرف رکھنے والا ہے۔ یہ تمام صفات حسنیٰ اس کے لیے ثابت ہیں، مگر معیت کا معنی علم یا قدرت نہیں بلکہ یہ بذات خود ایک صفت ہے جس کی اصل کیفیت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس لیے اس بات پر ایمان رکھنا لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہے ہم جہاں بھی ہوں۔ رہی یہ بات کہ کس طرح ہے؟ تو اس کی اصل کیفیت وہی جانتا ہے، چاند یا سورج کی مثالیں صرف سمجھانے کے لیے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش کے اوپر ہے، وہ مخلوق کے ساتھ ہو سکتا ہے اور ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کی ایک اور ادنیٰ سی مثال بجلی ہے کہ وہ اپنے اصل ٹھکانے میں ہونے کے باوجود ہزاروں میل دور تک موجود ہوتی ہے اور اس کا وجود سب محسوس کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معیت اور مخلوق پر مؤثر ہونے کے لیے یہ مثال بھی نہایت ادنیٰ مثال ہے، جبکہ اللہ کی صفات بہت اعلیٰ ہیں، چنانچہ فرمایا : ﴿وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى﴾ [ النحل : ۶۰ ] ’’اور اللہ کی سب سے اونچی صفت ہے۔‘‘ اس کے لیے عرش پر رہ کر ہر ایک کے ساتھ ہونا بالکل معمولی بات ہے۔تفسیر احسن البیان - تفسیر تیسیر القرآن - تفسیر تیسیر الرحمٰن - تفسیر ترجمان القرآن - تفسیر فہم القرآن - تفسیر سراج البیان - تفسیر ابن کثیر - تفسیر سعدی - تفسیر ثنائی - تفسیر اشرف الحواشی - تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - تسہیل البیان فی تفسیر القرآن -

AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...