Friday, December 16, 2022

مفہوم جاہلیت، فسق، ضلالت اور ارتداد؛

 

ذیل میں ان تمام میں سے ہر ایک کی تعریف و اقسام اور احکام کاالگ الگ تذکرہ کیا جائے گا:
۱۔ جاہلیت: اسلام سے قبل عرب جس حالت میں تھے اسے جاہلیت کہا جاتا ہے۔ جیسے کہ ان کا اللہ عزوجل کے بارے میں جہل ہونا، انبیاء و رسل اور شریعت سے ناواقف ہونا۔ اسی طرح حسب و نسب پر فخر کرنا، غرور وتکبر، حسد و بغض اور ان جیسے دیگر امور بھی جاہلیت میں سے ہیں۔(ابن الاثیر، النھایۃ:323/1)
جاہلیت، جہالت سے ہے، اس سے مقصود عدمِ علم یا علم کی عدمِ اتباع ہے۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حق کو نہ جاننے والا جہلِ مفرد کا مرتکب ہوتا ہے، لیکن اگر جوآدمی حق کے برعکس باطل عقیدے کا حامل ہو وہ جہل مرکب کا مرتکب ہوتا ہے۔ اس حقیقت سے پتہ چلا کہ رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل لوگ جاہلیت بمعنی جہالت پر گامزن تھے۔ وہ جو بھی اقوال و اعمال سرانجام دیتے تھے وہ کسی جاہل کے ایجاد کردہ تھے اور انھیں انجام دینے والے بھی جاہل تھے۔ اسی طرح ہر وہ چیز بھی جاہلیت تھی جو انبیائے کرام صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات اور یہودیت و نصرانیت کے خلاف تھی۔ یہ جاہلیت ِ عامہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد ایسا نہیں ہے۔ اب کسی ایک شہر میں تو جاہلیت ہو سکتی ہے۔جیسے کہ دار الکفر میں ہوتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص میں بھی جاہلیت ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ قبولِ اسلام سے قبل عام آدمی ہوتا ہے، وہ اسلام سے پہلے جاہلیت ہی کا مرتکب ہوتا ہے۔رہا زمانی اعتبار سے مطلق طور پر جاہلیت ہونا تو بعث نبوی کے بعد ایسا نہیں ہو سکتا،کیونکہ ہر دور میں امت محمدیہ میں سے ایسا گروہ ضرور رہا ہے جو حق کا پیروکار ہو اور یہ سلسلہ قیامت تک رہے گا۔ یہ ہو سکتا ہے کہ اسلامی ممالک میں چند افراد ایسے ہوں جن میں جاہلیت کے امور پائے جاتے ہوں۔ جیسے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
((اَرْبَعٌ فِیْ اُمَّتِیْ مِنْ أَمْرِ الْجَاھِلِیَّۃِ)) (صحیح مسلم: 934)
”میری امت میں جاہلیت والے چارامورہو سکتے ہیں۔“
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو ذرt سے فرمایا تھا:
((إِنَّکَ امْرُؤٌ فِیْکَ جَاھِلِیَّۃٌ)) (صحیح البخاری: 6050 و صحیح مسلم:1661)
”تم میں توجاہلیت کے اثرات ہیں۔“
اسی طرح اور بھی احادیث ہیں۔ انتھی۔ ابن تیمیہ، اقتضاء الصراط المستقیم:225/1۔227، تحقیق دکتور ناصر العقل۔

مذکورہ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جاہلیت بمعنی جہالت سے مراد عدم علم ہے اور اس کی دو اقسام ہیں:
۱۔ جاہلیت عامہ: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا زمانہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد یہ جاہلیت ختم ہو گئی۔
۲۔ جاہلیت خاصہ: یہ کسی خاص شہر، بستی اور بعض اشخاص میں ہوتی ہے اور یہ صورت ہمیشہ رہتی ہے۔
اس سے ان لوگوں کی غلطی بھی واضح ہوئی جو اب بھی عمومی طور پر جاہلیت کے وجود کے قائل ہیں اور وہ ”عصرِ حاضر کی جاہلیت“ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ درست یوں کہنا ہے: عصر حاضر کے بعض لوگوں کی جاہلیت یا اس صدی کی اکثریت کی جاہلیت۔ عام طور پر جاہلیت کا حکم لگانا نہ تو درست ہے اور نہ ہی جائز کیونکہ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی جاہلیت عامہ ختم ہو گئی۔
۲۔ فسق۔ لغت میں فسق کا معنی نکلنا ہے، جب کہ شرعی طور پر فسق سے مقصود اللہ عزوجل کی اطاعت سے روگردانی کرنا ہے۔ اس میں کامل خروج بھی ہو سکتا ہے۔ اسی لیے گناہ کبیرہ کے مرتکب مومن کو فاسق کہا جا سکتا ہے۔
فسق دو طرح کا ہوتا ہے: ایک وہ فسق ہے جس کی وجہ سے آدمی ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس سے مراد کفر ہے۔ کافر کو فاسق کہا جا سکتا ہے۔ اللہ عزوجل نے ابلیس کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
(فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ) (الکھف: 50/18)
”ابلیس نے اپنے رب کے حکم سے روگردانی اختیار کی۔“
ابلیس کا یہ فسق و خروج کفر تھا۔ اللہ عزوجل نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
(وَ اَمََّا الَّذِیْنَ فَسَقُوا فَمَاْوَاھُمُ النَّارُ)(السجدۃ:20/32)
”فسق کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے۔“
یہاں فسق سے مراد کفار ہیں۔ اس کی دلیل یہ فرمانِ الٰہی ہے:
(کُلَّمَا أَرَادُوا أَنْ یَخْرُجُوا مِنْہَا أُعِیدُوا فِیہَا وَقِیلَ لَہُمْ ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّذِی کُنْتُمْ بِہِ تُکَذِّبُونَ) (السجدۃ:20/32)
”جب کبھی وہ اُس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھواُسی عذاب کامزا جس کو تم جھٹلایاکرتے تھے “
نافرمان مسلمان کو بھی فاسق کہا جاتا ہے، لیکن مسلمان اپنے اس فسق کی وجہ سے اسلام سے خارج نہیں ہو گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَاء َ فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَدًا وَأُولَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ) (النور:4/24)
(اور جو لو گ پا ک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھرچار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اَ سی کوڑے مارو اور اُن کی شہادت کبھی قبول نہ کرو،وہ خود ہی فاسق ہیں)
اسی طرح اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
(فَمَنْ فَرَضَ فِیہِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ)(البقرۃ:2/ 197)
(جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیت کرے،اسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اُس سے کوئی شہوانی فعل، کوئی بد عملی،کوئی لڑائی جھگڑے کی بات سرزد نہ ہو)
اہل علم کا اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں کہنا ہے کہ یہاں فسوق سے مراد نافرمانیاں ہے۔ (ابن تیمیہ، کتاب الایمان،ص: 278)

۳۔ ضلالت: ضلالت وگمراہی کا مطلب راہِ مستقیم سے ہٹ جانا ہے۔ یہ ہدایت کے برعکس ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(مَنِ اہْتَدَی فَإِنَّمَا یَہْتَدِی لِنَفْسِہِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْہَا) (الاسراء: 15/17)
”جو کوئی راہِ راست اختیار کرے اس کی راست روی اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے اور جو کوئی گمراہ ہو اُس کی گمراہی کا وبال اُسی پر ہے۔“

لفظ ضلالت متعدد ایک معانی کے لیے بولا جاتا ہے۔ جیسے:
۱۔ کبھی کفر کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَمَنْ یَکْفُرْ بِاللَّہِ وَمَلَاءِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِیدًا) (النساء:136/4)
”جس نے بھی اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے رسولوں کا اور روزِ آخرت کا کفر کیا وہ ضلالت وگمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا۔“
۲۔ کبھی لفظِضلالت شرک مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
({وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا} )(النساء: 116/4)
”جس نے بھی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔“
۳۔ لفظ ضلالت کبھی دین کی مخالفت کے لیے بھی مستعمل ہوتا ہے، اگرچہ وہ مخالفت کفر سے کم درجے کی ہو۔ جیسے کہا جاتا ہے ”فِرق ضَالہ“ گمراہ فرقے اور گروہ۔ یہاں گمراہی سے مقصود مخالفت کرنا ہے۔
۴۔ لفظ ضلالت کبھی خطا کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ جیسے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول ہے:
(قَالَ فَعَلْتُہَا إِذًا وَأَنَا مِنَ الضَّالِّینَ)(الشعراء: 20/26)
”موسیٰuنے جواب دیا، اُس وقت وہ کام مجھ سے نادانستگی سے ہوا تھا۔“
۵۔ لفظ ضلالت کبھی بمعنی بھول بھی استعمال ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاہُمَا فَتُذَکِّرَ إِحْدَاہُمَا الْأُخْرَی) (البقرۃ: ۲/ ۲۸۲)
”اگر ایک عورت بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے۔“
۶۔ لفظ ضلالت کبھی ضائع اور غیب ہونے کا مفہوم بھی ادا کرتا ہے۔ جیسے کہ گم شدہ اونٹ کے لیے لفظ ”ضالۃ الابل“ مستعمل ہوتا ہے۔ (الراغب الاصفہانی، المفردات فی القرآن،ص:297، 298)

۴۔ ارتداد: لغوی طور پر ارتداد کا مطلب ہے:پلٹنا، واپس آنا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَلَا تَرْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِکُمَْ) (المائدۃ:21/5)
”اپنی ایڑیوں کے بل واپس نہ پلٹ جانا۔“
فقہاء کی اصطلاح میں ارتداد سے مقصود ہے اسلام کے بعد دوبارہ کفر اختیار کرنا۔ اسی بارے میں فرمان الٰہی ہے:
(وَمَنْ یَرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِینِہِ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَأُولَءِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ وَأُولَءِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیہَا خَالِدُونَ) (البقرۃ: 217/2)
”تم میں سے جو کوئی بھی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔“

ارتداد کی اقسام: نواقض اسلام امورمیں سے کسی کے بھی ارتکاب سے آدمی مرتد ہو جاتا ہے۔ نواقض اسلام کثیر ہیں۔ لیکن بنیادی طور پر ان کی تین قسمیں ہیں:
۱۔ قولی ارتداد: جیسے اللہ عزوجل کو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو، فرشتوں کو، یا انبیاء و رسل میں سے کسی کو سب و شتم کرنا،یا علم غیب یا نبوت کا دعویٰ کرنا، یا ایسے دعویداروں کی تصدیق و تائید کرنا، یا غیر اللہ سے دعا و مناجات کرنا، یا غیر اللہ سے ایسے امور میں نصرت و مددطلب کرنا جن کی ان میں قدر و طاقت ہی نہیں، یا غیر اللہ کی پناہ اور حفاظت میں آنا۔
۲۔ عملی ارتداد: جیسے بت، شجر و حجر یا قبروں کو سجدہ کرنا،یا ان کے نام کا جانور ذبح کرنا۔ اسی طرح بطور اہانت قرآن کو کوڑے کرکٹ اور گندگی کی جگہ پر پھینکنا۔ جادو کرنا، جادو سیکھنا یا سکھلانا۔ انسانوں کے وضع کردہ قوانین کو جائز تصور کرتے ہوئے ان کے مطابق فیصلے کرنا۔
۳۔ اعتقادی ارتداد: اللہ تعالی کے ساتھ شریک کا عقیدہ رکھنا، زنا، شراب اور سود کو حلال تصور کرنا، روٹی کو حرام جاننا، یا نماز کو فرض تصور نہ کرنا۔اسی طرح دیگر کسی ایسے امر کے بارے میں اعتقاد رکھنا جس کی حلت، حرمت یا وجوب پرامت کا قطعی اجماع ہو چکا ہے اور اس کی حقیقت کسی سے بھی مخفی نہیں۔
۴۔ مذکور بالا امور میں سے کسی کے بارے میں شک اور تردد کرنا۔ جیسے کہ کوئی حرمت شرک، تحریم زنا، یا تحریم شراب یاروٹی کی حلت کے بارے میں شک کرنے لگے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دیگر کسی پیغمبر کی نبوت و رسالت کے بارے میں شک وشبہ کرنا، یا انبیاء و رسل کے صدق و امانت داری میں شک کرنا،یا دین اسلام کے متعلق شک میں مبتلا ہونا،یا اسلام کو عصر حاضر کے لیے غیر مناسب تصور کرنا۔
ارتداد کے ثابت ہونے پر مرتد آدمی کے بارے میں درج ذیل احکامات مرتب ہوں گے:
۱۔ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا، اگر تو آدمی تین دن کے اندر توبہ کرکے اپنے ارتداد سے رجوع کرلے تو اس کی توبہ قبول کرتے ہوئے اسے مسلمان شمار کیا جائے گااور اسے کچھ نہ کہا جائے گا۔
۲۔ اگر مرتد آدمی اپنے ارتداد سے توبہ کرنے سے انکار کرے تو اسے اس فرمانِ نبوی کے مطابق قتل کرنا واجب ہے:
((مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ)) (صحیح البخاری: 3017، سنن ابی داؤد:4351)
”جو مسلمان بھی اپنا دین تبدیل کرے اسے قتل کردیا جائے۔“
۳۔طلبِ توبہ کی مہلت کے دوران مرتد کو اس کے ذاتی مال میں تصرف سے منع بھیکیا جائے گا۔ اگر دوبار اسلام کا اقرار کرلے تو وہ مال اسی کا ہے، وگرنہ اسے قتل کیے جانے کے بعد، یا حالت ارتداد اس کی موت واقع ہونے کے بعد اس کا مال بطورِ مال فئے بیت المال کی ملکیت قرار پائے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مرتد کے وقتِ ارتداد ہی اس کا مال مسلمانوں کے مصالح میں خرچ کردیا گا۔
۴۔  مرتد کا اور اس کے اقارب کا باہمی وراثت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔ نہ وہ اپنے رشتہ داروں میں سے کسی کا وارث بنے گا اور نہ ہی اس کے رشتہ دار اس کے وارث قرار پا سکتے ہیں۔
۵۔ حالتِ ارتداد میں مرنے یا قتل کیے جانے کی صوت میں اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں کیا جائے گا۔ اسے کفار کے قبرستان میں دفنایا جائے گا، یا مسلمانوں کے قبرستان کے علاوہ کسی جگہ بھی اسے یوں ہی دبا دیا جائے گا۔ (ماخوذمن کتاب التوحید لمحمد بن صالح الفوزان)

Thursday, November 24, 2022

زمانہ کو بُرا کہنے سے نبی ﷺ نے منع کیا ہے


ہم لوگ اکثر ایسے الفاظ بول جاتے ہیں جس میں ہم زمانے کو بُرا بھلا کہہ دیتے ہیں مثلاً کہ یہ زمانہ ہی بہت بُرا ہوگیا ہے، آجکا زمانہ بہت خراب ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ مگر یہ سب انجانے میں کہتے ہیں کیونکہ ہمیں علم نہیں ہوتا کہ نبیﷺ نے منع کیا ہے زمانہ کو بُرا کہنے سے ،اب آپ کے سامنے وہ احادیث پیش کرتا ہوں جن میں ممانعت آئی ہے۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَقُولُ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُکُمْ يَا خَيْبَةَ الدَّهْرِ فَإِنِّي أَنَا الدَّهْرُ أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے وہ کہتا ہے ہائے زمانے کی ناکامی پس تم میں سے کوئی یہ نہ کہے ہائے زمانے کی ناکامی کیونکہ میں ہی زمانہ ہوں میں اس رات اور دن کو بدلتا ہوں اور جب میں چاہوں گا ان دونوں کو بند کر دوں گا۔
Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: Allah, the Exalted and Glorious, said: The son of Adam causes Me pain as he says: Woe be upon the Time. None of you should say this: Woe be upon the Time, as I am the Time (because) I alternate the day and the night, and when I wish I can finish them up.
صحیح مسلم:جلد سوم:باب:گفتگو کا بیان :زمانے کو گالی دینے کی ممانعت کے بیان میں

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کہا بنی آدم زمانہ کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہی ہوں رات اور دن میرے ہی قبضہ میں ہے۔
Narrated Abu Huraira: 
Allah's Apostle said, "Allah said, "The offspring of Adam abuse the Dahr (Time), and I am the Dahr; in My Hands are the night and the day." 
صحیح بخاری:جلد سوم:باب:ادب کا بیان :زمانے کو برا بھلا نہ کہو۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانہ کو گالی دیتا ہے، حالانکہ زمانہ تو میں ہی ہوں میرے ہی قبضہ قدرت میں تمام امور ہیں میں رات اور دن کو گردش دیتا ہوں۔
صحیح بخاری:جلد دوم:باب:تفاسیر کا بیان 
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایازمانے کو بُرا بھلا نہ کہو کیونکہ اللہ ہی زمانہ ہے۔
Abu Huraira reported Allah's Apostle (may peace be upon him) as saying: Do not abuse Time, for it is Allah Who is the Time.
صحیح مسلم:جلد سوم:باب:گفتگو کا بیان :زمانے کو گالی دینے کی ممانعت کے بیان میں
اس پر اور بھی بہت سی احادیث موجود ہیں مگر بات سمجھنے کے لیئے ایک حدیث بھی کافی ہوتی۔
اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں دین کا علم عطاء فرمائے تاکہ ہم اس طرح کی غلطیوں اور گناہوں سے بچ سکیں آمین۔

DUA When Rain as it is an incredible blessing Of Allah

Rain is an incredible blessing which Allah s.w.t showers upon the earth. It is mentioned in numerous verses of the Quran, including the process of its formation and how it facilitates life on earth. This process is highlighted and described clearly in Surah Ar-Rum and Surah An-Nur whereby Allah s.w.t says:

اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ ۖ فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ

It is Allah who sends the winds, and they stir the clouds and spread them in the sky however He wills, and He makes them fragments so you see the rain emerge from within them. And when He causes it to fall upon whom He wills of His servants, immediately they rejoice.

(Surah Ar-Rum, 30:48)

أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ جِبَالٍ فِيهَا مِنْ بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَنْ مَنْ يَشَاءُ ۖ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ

Do you not see that Allah drives clouds? Then He brings them together, then He makes them into a mass, and you see the rain emerge from within it. And He sends down from the sky, mountains (of clouds) within which is hail, and He strikes with it whom He wills and averts it from whom He wills. The flash of its lightning almost takes away the eyesight.

 (Surah An-Nur, 24:43)

dua rain islamqa

Rain is part of Allah’s blessings and mercy that are sent to the earth. Therefore, it is no doubt that this is one of the best times to make lots of supplications. The Prophet s.a.w. encouraged us to pray when it rains. In a hadith, he mentions:

ثِنتانِ ما تُرَدّانِ: الدُّعاءُ عند النِّداءِ، وتحْتَ المَطَرِ

Two prayers (Dua) that are not rejected: The Dua when the call to prayer (Azan) is made and the Dua made when it rains

(Mustadrak Al-Hakim)

Here are a few Dua we can recite when it rains:

1) Dua for beneficial rain

Islamic dua for beneficial rain

It is narrated from Aisyah r.a. that when it rained the Messenger of Allah s.a.w. would say: "O Allah, make it a beneficial rain."

اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا

Allahummaj-'alhu soyyiban naafi’an

O Allah, make it a beneficial rain.

(Sahih Al-Bukhari)

islamic dua for beneficial rain

2) Dua when hearing thunder

dua thunder and lightning

It is narrated by Imam Al-Bukhari in his book Al-Adab Al-Mufrad that the companion, Abdullah Bin al-Zubair r.a. would stop speaking when he heard a thunderclap. He would then read the verse from Surah Ar-Ra’d, verse 13 (in prayer):

سُبْحَانَ الَّذِي ‏‏يُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلاَئِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ‏

Subhaanal-lazii yusabbihur-ra’du bihamdihi wal-malaaikatu min khifatihi

Glory be to him whose praise the thunderclap sings and the angels glorify in awe of him.

(Al-Adab Al-Mufrad)

dua thunder storm lightning hurricane islamqa

It is also narrated by Abdullah Ibn Umar and his father, Umar Ibn Al-Khattab r.a. that when the Prophet s.a.w. would hear the sound of thunder, he would say: “O Allah, do not kill us with Your wrath, and do not destroy us with Your punishment, and pardon us before that”

اللَّهُمَّ لاَ تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلاَ تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ

Allahumma la taqtulna bi-ghadobika, wa-la tuhlikna bi-’adhabika, wa-’afina qabla dhalik

O Allah, do not kill us with Your wrath, and do not destroy us with Your punishment, and pardon us before that

(Sunan At-Tirmizi)

thunder dua hisnul muslim

3) Dua for protection from intense rain

dua heavy rain, wind and thunder to stop

Imam Al-Bukhari recorded that Anas Ibn Malik r.a. once narrated an event where the Prophet s.a.w. was delivering the Friday khutbah (sermon) when a man came and said: “O Allah's Messenger s.a.w!  livestock are dying and the roads are cut off; please pray to Allah for rain”

So the Prophet s.a.w. raised his hands and prayed: “O Allah! Bless us with rain. O Allah! Bless us with rain. O Allah! Bless us with rain!”. Anas r.a. then mentioned in that very narration that there were no clouds in the sky on that day when a big cloud suddenly appeared heading towards them from behind the Sila’ mountain. It came and rained so much they could hardly reach their homes. It continued raining till the next Friday. 

Anas further said in that narration that the next Friday, a person came during the Friday khutbah and said: “O Allah's Messenger s.a.w! Livestock are dying and the roads are cut off; please pray to Allah to withhold rain”

So the Prophet s.a.w. raised his hands and prayed: 

اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلاَ عَلَيْنَا

Allahumma hawalaina wala ‘alaina

O Allah! (Let it rain) around us and not on us.

(Sahih Al-Bukhari)

Dua when it rains excessively

Afterwards, Anas r.a added in that following narration that the rain stopped and they came out, walking in the sun.

4) Dua when it rains 

dua for heavy rain and flood

It was narrated that the Prophet s.a.w led the companions in the Fajr prayer at Hudaibiya after a rainy night. In that narration, the Prophet s.a.w. informed the companions that there are those who attributed the rain to Allah and they are truly the believers. At the same time, the Prophet s.a.w. also warned the companions about ultimately attributing the phenomena to the causal effect of the rain.

The Arabs during that time would attribute the rain to the alignment of the planets and the stars that indicate the different seasons and time of the year. However, this would not arise to become a concern if one were to understand the causal effects while believing with the conviction that all of the order of creation is by the will and power of Allah s.w.t.

From this hadith, the Prophet s.a.w. taught us to pray when it rains:

مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ

Mutirna bifadhlillahi wa rahmatihi

We have received rain from Allah’s bounty and mercy.

(Sahih Al-Bukhari)

Duas After rainfall with translation


Monday, November 21, 2022

“سارے بنی آدم خطا کار ہیں اور خطا کاروں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہو۔

توبہ کی 3 شرطیں ہیں:گناہ کو چھوڑنا، شرمندہ ہونا،آئندہ نہ کرنے کا ارادہ کرنا، اگر گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو حق ادا کیا جائے

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے (جبکہ وہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے) اُس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنی خوشی تم میں سے کسی مسافر کو اپنے اُس (سواری کے ) اونٹ کے مل جانے سے ہوتی ہے جس پر وہ چٹیل بیابان میں سفر کررہا ہو، اُسی پر اس کے کھانے پینے کا سامان بندھا ہو اور (اتفاق سے) وہ اونٹ اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر بھاگ جائے اور وہ (اس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے) مایوس ہوجائے اور اسی مایوسی کے عالم میں (تھکا ہارا بھوکا پیاسا) کسی درخت کے سایہ کے نیچے لیٹ جائے اور اسی حالت میں (اس کی آنکھ لگ جائے اور جب آنکھ کھلے تو) اچانک اس اونٹ کو اپنے پاس کھڑا ہوا پائے اور (جلدی سے) اس کی نکیل پکڑ لے اور خوشی کے جوش میں (زبان اس کے قابو میں نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی غرض سے) کہنے لگے! اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں (خوشی کے مارے اسے پتہ بھی نہ چلے کہ میں کیا کہہ گیا)(مسلم ، کتاب التوبۃ ، باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بہا)۔
بندہ کی توبہ سے اللہ تعالیٰ کی خوشی بھی اُس کی شانِ ربوبیت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ اس کا ایک بھٹکا ہوا بندہ اپنی نادانی سے شیطان کے فریب میں آکر اس کی عبادت کی راہ سے بھٹک گیا تھا ، راہ راست پر آگیالیکن بندہ کی توبہ واستغفار سے اللہ تعالیٰ کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ وہ بڑا ہے اور بڑا ہی رہے گا۔ وہ بے نیاز ہے، اسے ہماری ضرورت نہیں لیکن ہم اسکے محتاج ہیں۔ اس کی کوئی نظیر نہیں۔ وہ پوری کائنات کا خالق ومالک ورازق ہے۔ اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنے کا فائدہ ہمیں ہی پہنچتا ہے ، جس طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر اس کا نقصان بھی ہمیں ہی پہنچتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ اگر گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق سے ہے مثلاً نماز وروزہ کی ادائیگی میں کوتاہی یا ان اعمال کو کرنا جن سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے، مثلاً شراب پینا اور زنا کرنا۔ توبہ کے لئے 3 شرطیں ہیں:
٭گناہ کو چھوڑنا ٭کئے گئے گناہ پر شرمندہ ہونا۔ ٭
آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا۔ لیکن اگر گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو ان 3 شرطوں کے علاوہ مزید ایک اہم شرط ضروری ہے کہ پہلے بندہ سے معاملہ صاف کیا جائے، یعنی اگر اس کا حق ہے تو وہ ادا کیا جائے یا اس سے معافی طلب کی جائے۔ غرضیکہ بندوں کے حقوق کے متعلق کل قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا اصول وضابطہ بیان کردیا کہ پہلے بندہ کا حق ادا کیا جائے یا اس سے معافی طلب کی جائے، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کے لئے رجوع کیا جائے۔ توبہ کے معنیٰ لوٹنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف لوٹنا شریعت اسلامیہ میں’’ توبہ‘‘ کہلاتا ہے۔ حقوق اللہ میں کوتاہی کی صورت میں توبہ کے صحیح ہونے کے لئے3 شرطیں اور بندے کے حقوق میں کوتاہی کرنے پر توبہ کے لئے4شرطیں ضروری ہیں لہٰذا ہمیں جس طرح اللہ کے حقوق کو مکمل طور پر ادا کرنا چاہئے ، اسی طرح بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں ادنیٰ سی کوتاہی سے بھی بچنا چاہئے۔
بندوں کے حقوق میں کوتاہی کرنے پر کل قیامت کے دن محسن انسانیت کے فرمان کے مطابق اعمال کے ذریعہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی جائیگی، جیساکہ فرمان رسول ہے: ’’میری امت کا مفلس شخص وہ ہے جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزہ، زکوٰۃ (اور دوسری مقبول عبادتیں) لے کر آئے گا، مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا پیٹا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے ایک حق والے کو (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی، ایسے ہی دوسرے حق والے کو اس کی نیکیوں میں سے (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی، پھر اگر دوسروں کے حقوق چکائے جانے سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو (ان حقوق کے بقدر) حق داروں اور مظلوموں کے گناہ (جو انہوں نے کئے ہوں گے) ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دیئے جائیںگے اور پھر اس شخص کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘ (مسلم )۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بھی بار بار ہمیں توبہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اختصار کے پیش نظر صرف2 آیات پیش ہیں: oاے مؤمنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ ( النور 31)۔ o اے ایمان والو! اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو۔ بہت ممکن ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہ معاف کرکے تمہیں جنت میں داخل کردے(التحریم 8) ۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ توبہ کرنے والے کامیاب ہیںاوردوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی توبہ کرنے والوں کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی حضور اکرم نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ کی بارگاہ میں تم توبہ واستغفار کرو، میں دن میں 100,100مرتبہ توبہ کرتا ہوں(مسلم)۔ اسی طرح فرمان نبی ہے: ’’اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ سے ایک ایک دن میں70,70 مرتبہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرتا ہوں۔ ‘‘(بخاری)۔ ہمارے نبی اکرم گناہوں سے پاک وصاف اور معصوم ہونے کے باوجود روزانہ100,100 مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے، اس میں امت مسلمہ کو تعلیم ہے کہ ہم روزانہ اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں، اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص پابندی سے استغفار کرتا رہے (یعنی اپنے گناہوں سے معافی طلب کرتا رہے ) اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں، ہر غم سے اسے نجات عطا فرماتے ہیں اور ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتے ہیں کہ جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘ (ابوداؤد ،باب فی الاستغفار) ۔ کوئی شخص کب تک توبہ کرسکتا ہے؟ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک وہ نزاع کی حالت کو نہ پہنچ جائے۔‘‘ (ترمذی)۔ یعنی جب انسان کا آخری وقت آجاتا ہے تو پھر اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتے۔
موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی کو معلوم نہیں چنانچہ بعض بچپن میں، توبعض عنفوان شباب میں اور بعض ادھیڑ عمر میں جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔ بعض صحتمند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہیں۔ یہی دنیاوی فانی وقتی زندگی‘ اخروی ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم افسوس کرنے یا خون کے آنسو بہانے سے قبل اس دنیاوی فانی زندگی میں ہی اپنے گناہوں سے توبہ کرکے ا پنے مولاکو راضی کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہماری روح ہمارے بدن سے اس حال میں جُدا ہو کہ ہمارا خالق و مالک و رازق ہم سے راضی ہو۔ سچے دل سے توبہ کرنے پر بڑے گناہوں کی بھی معافی: حدیث کی مشہور ومعروف کتابوں میں نبی اکرم کی زبان مبارک سے سنایا ہوا ایک واقعہ مذکور ہے: ’’تم سے پہلی امت میں ایک آدمی تھا جو99آدمیوں کو قتل کرچکا تھا۔ اس نے کسی بڑے عالم دین کا پتہ دریافت کیا تو لوگوں نے اسے ایک (عیسائی) راہب کا پتہ بتایا۔ یہ شخص اس راہب کے پاس گیا اور کہا کہ میں 99آدمیوں کو قتل کرچکا ہوں، کیا اب بھی میرے لئے توبہ کا امکان ہے؟ راہب نے کہا: نہیں۔ تو اُس شخص نے راہب کو بھی قتل کرڈالا اور اس طرح100 قتل پورے کردیئے(لیکن وہ اپنے کئے ہوئے گناہ پر بہت زیادہ شرمندہ تھا اور اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنا چاہتا تھا)۔ پھر لوگوں سے بڑے عالم دین کا پتہ دریافت کیا تو لوگوں نے اس کو ایک اور عالم کا پتہ بتایا۔ یہ شخص ان کے پاس گیا اور کہا: میں100 آدمیوں کو قتل کرچکا ہوں، کیا اب بھی میرے لئے توبہ کا امکان ہے؟ اس نے کہا: ہاں، ضرور ہے۔ اور بھلا اللہ کے بندہ اور توبہ کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ تم فلاں بستی میں چلے جاؤ۔ وہاں اللہ کے کچھ نیک بندے اپنے رب کی عبادت میں مصروف ہیں، تم ان کے ساتھ رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجاؤ۔ یہ شخص (توبہ کرکے) اس بستی کی جانب چل دیا۔
آدھا راستہ طے کیا تھا کہ موت آگئی۔ اس کی روح کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں جھگڑا ہونے لگا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ شخص اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوچکا ہے، لہٰذا ہم اس کی روح لے کر جائیں گے۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے ابھی تک کوئی نیک عمل نہیں کیا، لہٰذا یہ شخص رحمت کا مستحق نہیں ہے۔ اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ انسانی شکل میں ان کے سامنے آیا۔ دونوں فریق نے اس کو اپنا حکم بنالیا۔ اس انسان نمافرشتہ نے کہا کہ دونوں سرزمینوں (گناہ کی بستی اور عبادت کی بستی) کی پیمائش کرلو، جس علاقہ سے یہ قریب ہو اسی علاقہ کے لوگوں میں شامل کردو۔ چنانچہ انہوں نے زمین کی پیمائش کی، اُس علاقہ سے قریب تر پایا جس میں عبادت الٰہی کے ارادہ سے وہ جارہا تھا۔‘‘ بعض روایات میں آتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے بدکاری کی سرزمین کو حکم دیا کہ تو دور ہوجا اور نیکوکاری کی سرزمین کو حکم دیا کہ تو قریب ہوجا ،اور اس طرح نیکی کی سرزمین ایک بالشت قریب نکلی چنانچہ اس کی مغفرت کردی گئی ۔ اس واقعہ کی تائید قرآن وحدیث سے بھی ہوتی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ الزمر، آیت 53 میں ارشاد فرماتا ہے: ’’(میری جانب سے)کہہ دو کہ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کررکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتاہے۔ یقینا وہ بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘ فرمان رسول ہے: ’’ اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن میں گناہ کرنے والا رات کو توبہ کرے اور دن کو اپنا دست قدرت پھیلاتے ہیں تاکہ رات کو گناہ کرنے والا دن کو توبہ کرے۔‘‘( مسلم) ۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں شرک جیسے بڑے گناہ کو بھی سچی توبہ کرنے پر معاف کردیتا ہے لہٰذا ہمیں گناہوں کی کثرت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے، لیکن فرمان رسول (عقلمند شخص وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرتا رہے اور مرنے کے بعد کیلئے عمل کرتا رہے۔اور بے وقوف شخص وہ ہے جو اپنی خواہش پر عمل کرے اور اللہ تعالیٰ سے بڑی بڑی امیدیں باندھے) (ترمذی وابن ماجہ) کے مطابق ہمیں گناہ کرنے کی جرأت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ توبہ کی توفیق ملنے سے قبل ہی ہماری روح جسم سے پرواز کرجائے۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت بھی معاف کرنے کے لئے تیار ہے، لہٰذا فوراً گناہوں سے معافی مانگ کر اچھائیوں کی طرف سبقت کریں۔
کل ، جمعہ یا رمضان پر اپنی توبہ کو معلق نہ کریں بلکہ ابھی گناہوں سے بچ کر اپنے کئے ہوئے گناہوں پر شرمندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں۔ ان شاء اللہ ہمارے بڑے بڑے گناہوں کو بھی اللہ تعالیٰ معاف کرنے کیلئے تیار ہے۔ اگر توبہ سے قبل ہماری روح ہمارے جسم سے دور ہونے لگے تو پھر خون کے آنسو بہانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر ہم نے بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی ہے تو پہلی فرصت میں حقوق کی ادائیگی کرکے یا معافی طلب کرکے بندے سے اپنا معاملہ صاف کرلیں ورنہ قیامت کے دن اعمال کے ذریعہ حقوق کی ادائیگی کی جائے گی جیساکہ ہمارے نبی نے بیان کیا ہے۔ جہاں تک دنیاوی زندگی میں مشغولیت کا تعلق ہے تو ہمارے نبی اکرم نے ارشاد فرمایا کہ اگر انسان کو ایک وادی سونے کی مل جائے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس2 وادیاں ہوں۔ اس کے منہ کو قبر کی مٹی ہی بھرے گی اور توبہ کرنے والے کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے ()۔ بڑے بڑے گناہوں سے مستقل توبہ کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مغفرت کے لئے استغفار پڑھنا بھی کافی ہے۔
اسی لئے علمائے کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ ہمیں ہر نماز کے بعد اور صبح وشام استغفار پڑھنا چاہئے۔ انسان کے ساتھ شیطان، اپنا نفس اور معاشرہ لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے انسان گناہ سے سچی توبہ کرنے کے باوجود اس گناہ کو دوبارہ کر بیٹھتا ہے لیکن انسان کو ہمیشہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوکر آئندہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ توبہ کرتے رہنا چاہئے اور اس بات کی دن رات فکر کرنی چاہئے کہ فلاں گناہ سے کیسے نجات حاصل کی جائے، جیسا کہ مذکورہ بالا واقعہ میں100قتل کرنے کے بعد وہ شخص سچے دل سے توبہ کرنا چاہتا تھا۔ اگر گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس شخص کو گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔

گناہگاروں اور اللّٰہ کے درمیان دوری ہوجاتی ہے اور دل کا سکون نہیں ملتا ﴿أَلا بِذِكرِ‌ اللَّهِ تَطمَئِنُّ القُلوبُ ٢٨ ﴾... سورة الرعد" اللّٰہ کی یاد سے ہی قرار پکڑتے ہیں ،لوگوں سے وحشت اور دوری ہوتی ہے،خاص طور پر اصلاح کرنے والوں سے۔ان کےساتھ اُٹھنے بیٹھنے اور میل ملاقات سے گناہ گار گریز کرتا ہے۔ یہاں تک کہ بیوی بچوں اور اپنے اقربا سے وحشت ہو جاتی ہے. دل کا مقفل ہونا : دل پر مہر لگ جاتی اور وہ غافل وبےخبر ہوجاتاہے۔ جب انسان ایک گناہ کرتاہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہےاور پھر گناہ پر اصرار کی وجہ سے آخر سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔پھر توبہ کی توفیق ہی نہیں ہوتی،اسےکہتے ہیں:﴿خَتَمَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَعَلىٰ سَمعِهِم...﴿٧﴾... سورة البقرة ''اللّٰہ نے ان کے دلوں اورکانوں پر مہر لگا دی ہے۔''


﴿كَلّا ۖ بَل ۜ ر‌انَ عَلىٰ قُلوبِهِم ما كانوا يَكسِبونَ ﴿١٤﴾... سورة المطففين ''ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔''


﴿ثُمَّ قَسَت قُلوبُكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالحِجارَ‌ةِ أَو أَشَدُّ قَسوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الحِجارَ‌ةِ لَما يَتَفَجَّرُ‌ مِنهُ الأَنهـٰرُ‌ ۚ وَإِنَّ مِنها لَما يَشَّقَّقُ فَيَخرُ‌جُ مِنهُ الماءُ ۚ وَإِنَّ مِنها لَما يَهبِطُ مِن خَشيَةِ اللَّـهِ ۗ وَمَا اللَّـهُ بِغـٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ ﴿٧٤﴾... سورة البقرة


'' مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمہارے دل سخت ہوگئے، پتھروں کی طرف سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے، کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے اللّٰہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔''


اورپھر انسان کا ازلی دشمن شیطان پوری قوت سے اس پر غالب

آجاتا ہے اور اسے جہاں چاہتا ہے، ہانک کر لے جاتاہے۔

لہذا جوبھی اللہ کی عبادت اور اس کی مرضی کے کام کرے گا، وہ اپنا فرض ادا کرےگا، اور جو اللہ کی عبادت سے منہ موڑےگا اور اس کی ناراضگی کے کام کرے گا تو وہ جس کام کے لیےپیدا ہوا تھا اس کے خلاف کام کر رہا ہے اسے اس کا وبال بھگتنا پڑےگا۔


یاد رکھیٔے! اللہ کی نافرمانی اور گناہ کے کا موں سے اللہ کا کچھ نہیں بگڑتا ۔ اس کا و بال خود اسی کو بھگتنا پڑتا ہے،جو گناہ کرتا ہے اسی طرح نیکی اور ثواب کے کاموں کا فائدہ خود اسی کو پہنچتا ہے جو نیکی کرتا ہے۔ اس سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔


محترم بھائیوں اور بہنوں!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کے کاموں کو قاذورات (گندگی اور آلائش)سے تعبیر کیا ہے۔ موطأ امام مالک کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


(من أصاب من ھذہ القاذورات شیئا فلیستتر بستر اللہ)


“ جو اس طرح کے گندے کام ( گناہ) کر بیٹھے تو وہ اسے اللہ کے پردے میں چھپالے۔”


اس حدیث میں آپ نے گناہ کے کاموں کو قاذورات یعنی گندے کام سے تعبیر کیا ہے۔ اور فی الواقع ہے بھی یہ گندگی۔ اگرچہ ہم اس گندگی کو دیکھ نہیں سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی بدبو سونگھ سکتے ہیں۔ لیکن ان گنا ہوں کا اثر ہم دلوں پر دیکھتے ہیں۔ جب انسان مسلسل گناہ کرتا ہے تویہ گناہ اس کے دل کو ڈھانپ لیتے ہیں اور اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ اور کوئی بھی بھلی بات اس کے دل کو اچھی نہیں لگتی۔


ارشاد باری ہے:


( كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) [المطففين: 14]


”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے۔”


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:


(إن العبد إذا أذنب ذنبا کانت نکتۃ سوداء فی قلبہ، فإن تاب منھا صقل قلبہ وإن زادت زاد)


“بندہ جب کو ئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے تویہ نکتہ اس کے دل سے صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ مزید گناہ کرتا ہے تو وہ نکتہ اور بڑھ جاتا ہے۔ اور جتنا وہ گناہ کرتا جاتا ہے وہ نکتہ بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ پورے دل کو ڈھانپ لیتا ہے۔”


یہ گناہ جو دل پر برابر بڑھتا چلا جاتا ہے اور اسے توبہ واستغفار کے ذریعہ صاف نہیں کیا جاتا،ایک سخت حجاب بن جاتا ہے۔ پھر اس کے دل میں کوئی بھلی بات داخل نہیں ہوپاتی۔


میرے بھائیوں اور بہنوں!آپ غور کریں، کپڑے پر برابر گندگی لگتی چلی جائے اور اسے صابن وغیرہ سے نہ دھو یا جائےتو اس کا کیا حال ہوگا؟ اسی طرح جب دل پر گنا ہ کا اثر بڑھتا چلا جائےاور توبہ واستغفار سے اس کے اثر کو زائل نہ کیا جائےتو پھر دل کا کیا حال ہوگا؟ ہم دن رات گناہ پر گناہ کیےجاتے ہیں۔ اور اپنے پورے دل کو سیاہ کرلیتے ہیں اور ہمیں توبہ واستغفار کی بھی توفیق نہیں ہوتی کہ ہم ہاتھ اٹھا کر اللہ سے اپنے گنا ہوں کی معافی مانگيں۔ پھر ہم گنا ہوں سے آلودہ اپنے ان دلوں سے کیاامید رکھ سکتے ہیں۔


میرے بھائیوں اور بہنوں!اصل صفائی وستھرائی ہے دل کی صفائی وستھرائی۔ دل اگر گندہ ہو تو کپڑوں اور جسم کی ظاہری صفائی سے کچھ نہیں ہوتا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے جسم اور کپڑے بظاہر صاف ستھرے ہوتے ہیں؛لیکن وہ دل کے انتہائی گندے ہوتے ہیں، گناہ اور معصیت کی کثرت سے ان کے دل بدبودار ہوتے ہیں، اور ان کی یہ بدبوبڑھتی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ توبہ واستغفار سے اسے صاف نہیں کرتے۔ پھر ایسے دل کی قیامت کے دن اللہ کی نظر میں کیا وقعت ہوگی، جس دن دلوں کے سارے راز منکشف ہوجائیں گے اور دلوں میں جو کچھ ہے باہر آجائےگا، اور اللہ سے کوئی چیز چھپی نہیں رہےگی۔


میر بھائیوں اور بہنوں!انسان سب کے سب خطا کار ہیں۔ (کل بنی آدم خطاؤن وخیر الخطائین التوابون)


“سارے بنی آدم خطا کار ہیں اور خطا کاروں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہو۔”


گناہ بھی لوگوں سے ہوتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے گناہوں پر شر مندہ اور نادم ہوتے ہیں اور اللہ سے توبہ واستغفار کر کے اپنے گناہ بخشوا لیتے ہیں اور ان کے دل پاک وصاف ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ اپنے گناہوں سے غافل اور لاپرواہ ہوتے ہیں اور ان کے گناہوں کی سیاہی ان کے دلوں کو برابر ڈھانپتی چلی جاتی ہے۔


میرے بھائیوں اور بہنوں!توبہ واستغفار کا دروازہ برابر کھلا ہوا ہے، ارشاد باری ہے:


( قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ) [الزمر: 53]


“(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے۔"

مومنوں کا جہنم میں داخل ہونے والے بھائیوں کے حق میں اپنے رب سے مجادلہ


مومنوں کا جہنم میں داخل ہونے والےاپنے بھائیوں کے بارے میں رب تعالیٰ سے
 بڑی شدومد کے ساتھ مجادلہ کریں گے
بالآخر توحید پرست گنہگار جہنم سے نکل آئیں گے 

 It was narrated that Abu Sa'eed Khudri said:

"The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'When Allah has saved the believers from Hell and they are safe, none of you will dispute with his companion more vehemently for some right of his in this world than the believers will dispute with their Lord on behalf of their brothers in faith who have entered Hell. They will say: " Our Lord! They are our brothers, they used to pray with us, fast with us and perform Hajj with us, and you have admitted them to Hell." He will say: "Go and bring forth those whom you recognize among them." So they will come to them , and they will recognize them by their faces. The Fire will not consume their faces, although there will be some whom the Fire will seize halfway up their shins, and others whom it will seize up to their ankles. They will bring them forth, and will say. "Our Lord, we have brought forth those whom You commanded us to bring forth." Then He will say: "Bring forth those who have a Dinar's weight of faith in their hearts, then those who have half a Dinar's weight in their hearts, then those who have a mustard-seed's weight." Abu Sa'eed said. :"He who does not believe this, let him recite, 'Surely, Allah wrongs not even of the weight of an atom (or a small ant), but is there is any good (done), He doubles it, and gives from Him a great reward.'"

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ إِذَا خَلَّصَ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ مِنَ النَّارِ وَأَمِنُوا فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا أَشَدَّ مُجَادَلَةً مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ ‏.‏ قَالَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمُ النَّارَ ‏.‏ فَيَقُولُ اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ مِنْهُمْ فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لاَ تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ قَدْ أَمَرْتَنَا ‏.‏ ثُمَّ يَقُولُ أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنَ الإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ هَذَا فَلْيَقْرَأْ {إِنَّ اللَّهَ لاَ يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا}‏ ‏.‏

Grade: Sahih (Darussalam)

 Grade: Sahih (Darussalam)  Reference : Sunan Ibn Majah 60

In-book reference : Introduction, Hadith 60 - English translation : Vol. 1, Book 1, Hadith 60

Grade: Sahih (Darussalam) Reference : Sunan Ibn Majah 60

In-book reference : Introduction, Hadith 60 - English translation : Vol. 1, Book 1, Hadith 60

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مومن روز قیامت جہنم کی آگ سے آزاد ہو کر امن و اطمینان میں آ جائیں گے تو وہ دوزخ میں داخل ہونے والے اپنے بھائیوں کے بارے میں رب تعالیٰ سے بڑی شدومد کے ساتھ مجادلہ کریں گے، جس طرح تم میں سے کوئی اپنے دوست کے حق کی خاطر جھگڑا کرتا ہے۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے بھائی، جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے، روزے رکھتے تھے اور حج کرتے تھے، لیکن تو نے ان کو آگ میں داخل کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ اور جن کو پہچانتے ہو، نکال لاؤ۔ وہ جائیں گے اور ان کے چہروں کو دیکھ کر انہیں پہچان لیں گے، کیونکہ آگ ان کے چہروں پر کوئی اثر نہیں کر سکے گی، کسی کو آگ نے پنڈلیوں کے نصف تک جلا دیا ہو گا اور کسی کو گھٹنوں تک۔ (‏‏‏‏بہرحال) وہ ان کو نکال کر لے آئیں گے اور کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم ان مومنوں کو نکال لائے ہیں جن کے بارے میں تو نے حکم دیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں دینار کے بقدر ایمان ہے اسے بھی دوزخ سے نکال لاؤ . . .، پھر جس کے دل میں نصف دینار کے بقدر ایمان ہے اسے بھی نکال لاؤ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہے (‏‏‏‏اسے بھی جہنم سے باہر نکال لاؤ)۔ ‏‏‏‏ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو آدمی اس حدیث کی تصدیق نہیں کرتا، وہ یہ آیت پڑھ لے: «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» (۴-النساء:۴۰) ‏‏‏‏ بیشک اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر نیکی ہو تو اسے دگنی کر دیتا ہے اور خاص اپنے پاس سے بہت بڑا ثواب دیتا ہے۔ (‏‏‏‏حدیث مبارکہ کا بقیہ حصہ یہ ہے) وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہم تیرے حکم کے مطابق مومنوں کو جہنم سے نکال لائے ہیں، اب وہاں وہی رہ گیا ہے جس میں کسی قسم کی خیر و بھلائی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: فرشتوں نے سفارش کر لی، انبیاء بھی سفارش کر چکے اور مومنوں نے بھی سفارش کر لی ہے، اب صرف ارحم الراحمین باقی رہ گئے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ آگ سے ایسے لوگوں کی ایک یا دو مٹّھیاں بھریں گے، جنہوں نے کوئی نیک عمل نہیں کیا ہو گا اور وہ جل کر کوئلہ بن چکے ہوں گے۔ ان کو «ماء الحياة» (‏‏‏‏آب حیات) کے پاس لا کر ان پر یہ پانی بہایا جائے گا، ان کا جسم سیلاب کے بہاؤ میں اگنے والے دانے کی طرح اگے گا اور وہ لؤلؤ موتی کی طرح ہو گا، ان کی گردنوں میں «عتقاء الله» (‏‏‏‏اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ) نقش کی مہر ہو گی۔ ان سے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تم جو آرزو کرو گے یا جو چیز دیکھو گے وہ تمہیں دے دی جائے گی اور بعض نعمتیں اس سے بھی بڑھ کر ہوں گی۔ وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! وہ نعمتیں کون سی ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تم پر راضی ہو گیا ہوں، کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3982]
حدیث نمبر: 3983
-" أما أهل النار الذين هم أهلها (وفي رواية: الذين لا يريد الله عز وجل إخراجهم) فإنهم لا يموتون فيها ولا يحيون، ولكن ناس أصابتهم النار بذنوبهم (يريد الله عز وجل إخراجهم) فأماتهم إماتة، حتى إذا كانوا فحما أذن بالشفاعة، فجيء بهم ضبائر ضبائر، فبثوا على أنهار الجنة، ثم قيل: يا أهل الجنة أفيضوا عليهم، فينبتون نبات الحبة تكون في حميل السيل".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جن دوزخیوں کو جہنم سے نکالنے کا اللہ تعالیٰ کا کوئی ارادہ نہیں ہو گا۔ وہ نہ مریں گے اور نہ جئیں گے۔ لیکن جن جہنمیوں کو وہاں سے نکالنے کا اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہو گا، وہ انہیں وہاں موت دے دے گا، یہاں تک کہ وہ (‏‏‏‏جل جل کر) کوئلہ بن جائیں گے، پھر ان کے لیے سفارش کرنے کی اجازت دی جائے گی اور ان کو گروہوں کی شکل میں وہاں سے نکال کر جنت کی نہروں میں ڈال دیا جائے گا، وہ ایسے نشوونما پائیں گے جیسے سیلاب کے بہاؤ میں دانہ اگتا ہے۔ یعنی بہت جلد اپنے وجود میں آ جائیں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3983]
2610. اہل توحید جہنمیوں کے عذاب کی کیفیت
حدیث نمبر: 3984
-" إن الله عز وجل يخرج قوما من النار بعدما لا يبقى منهم فيها إلا الوجوه، فيدخلهم الله الجنة".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو جہنم سے اس وقت نکالے گا جب ان کے وجود میں سے صرف چہرے باقی رہ چکے ہوں گے اور ان کو جنت میں داخل کر دے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3984]
حدیث نمبر: 3985
- (إن قوماً يَخرجونَ مِنَ النارِ؛ يَحترقونَ فيها إلا داراتِ وجوهِهِم، حتى يَدْخلوا الجنة).
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعض لوگ جب جہنم سے نکالے جائیں گے تو ان کے چہرے کے علاوہ سارا وجود جل چکا ہو گا، پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3985]
2611. مومنوں اور مشرکوں کے نابالغ بچوں کا انجام
حدیث نمبر: 3986
-" أطفال المسلمين في جبل في الجنة يكفلهم إبراهيم وسارة حتى يدفعونهم إلى آبائهم يوم القيامة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں کے بچے جنت کے ایک پہاڑ میں رہتے ہیں، سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور سیدہ سارہ علیہا السلام ان کی کفالت کرتے ہیں، روز قیامت انہیں ان کے آباء کے حوالے کر دیں گے۔ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3986]
حدیث نمبر: 3987
-" ذراري المسلمين في الجنة تكفلهم إبراهيم صلى الله عليه وسلم".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ‏‏‏‏مسلمانوں کے (‏‏‏‏ ‏‏‏‏نابالغ) بچے جنت میں ہیں، سیدنا ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کرتے ہیں۔ ‏‏‏‏ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3987]
حدیث نمبر: 3988
-" صغارهم دعاميص الجنة، يتلقى أحدهم أباه ـ أو قال: أبويه ـ فيأخذ بثوبه ـ أو قال بيده ـ كما آخذ أنا بصنفة ثوبك هذا فلا يتناهى ـ أو قال: فلا ينتهي ـ حتى يدخله الله وإياه الجنة".
ابوحسان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ میرے دو بیٹے فوت ہو گئے ہیں، کیا آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بیان کر سکتے ہیں، جس سے ہمیں اپنے فوت شدگان کے بارے میں صبر و تسلی ہو جائے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (‏‏‏‏مومنوں کے) چھوٹے بچے جنت کے کیڑے ہوں گے (‏‏‏‏یعنی بے روک ٹوک جنت میں آتے جاتے رہیں گے)۔ ایسا بچہ اپنے باپ یا اپنے والدین سے ملاقات کرے گا، اس کا ہاتھ پکڑ لے گا، جس طرح میں نے تیرے کپڑے کا کنارہ پکڑ لیا ہے۔ اور اسے نہیں چھوڑے گا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ اسے اور اس کے باپ دونوں کو جنت میں داخل کر دے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3988]
حدیث نمبر: 3989
-" أطفال المشركين هم خدم أهل الجنة".
سیدنا ابومالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنتیوں کے خادم ہوں گے۔ [سلسله احاديث صحيحه/الجنة والنار/حدیث: 3989]

AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...