Monday, November 21, 2022

“سارے بنی آدم خطا کار ہیں اور خطا کاروں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہو۔

توبہ کی 3 شرطیں ہیں:گناہ کو چھوڑنا، شرمندہ ہونا،آئندہ نہ کرنے کا ارادہ کرنا، اگر گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو حق ادا کیا جائے

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے (جبکہ وہ اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے) اُس سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جتنی خوشی تم میں سے کسی مسافر کو اپنے اُس (سواری کے ) اونٹ کے مل جانے سے ہوتی ہے جس پر وہ چٹیل بیابان میں سفر کررہا ہو، اُسی پر اس کے کھانے پینے کا سامان بندھا ہو اور (اتفاق سے) وہ اونٹ اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر بھاگ جائے اور وہ (اس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے) مایوس ہوجائے اور اسی مایوسی کے عالم میں (تھکا ہارا بھوکا پیاسا) کسی درخت کے سایہ کے نیچے لیٹ جائے اور اسی حالت میں (اس کی آنکھ لگ جائے اور جب آنکھ کھلے تو) اچانک اس اونٹ کو اپنے پاس کھڑا ہوا پائے اور (جلدی سے) اس کی نکیل پکڑ لے اور خوشی کے جوش میں (زبان اس کے قابو میں نہ رہے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی غرض سے) کہنے لگے! اے اللہ! تو میرا بندہ اور میں تیرا رب ہوں (خوشی کے مارے اسے پتہ بھی نہ چلے کہ میں کیا کہہ گیا)(مسلم ، کتاب التوبۃ ، باب فی الحض علی التوبۃ والفرح بہا)۔
بندہ کی توبہ سے اللہ تعالیٰ کی خوشی بھی اُس کی شانِ ربوبیت اور رحمت کا تقاضا ہے کہ اس کا ایک بھٹکا ہوا بندہ اپنی نادانی سے شیطان کے فریب میں آکر اس کی عبادت کی راہ سے بھٹک گیا تھا ، راہ راست پر آگیالیکن بندہ کی توبہ واستغفار سے اللہ تعالیٰ کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ وہ بڑا ہے اور بڑا ہی رہے گا۔ وہ بے نیاز ہے، اسے ہماری ضرورت نہیں لیکن ہم اسکے محتاج ہیں۔ اس کی کوئی نظیر نہیں۔ وہ پوری کائنات کا خالق ومالک ورازق ہے۔ اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنے کا فائدہ ہمیں ہی پہنچتا ہے ، جس طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے پر اس کا نقصان بھی ہمیں ہی پہنچتا ہے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ اگر گناہ کا تعلق اللہ کے حقوق سے ہے مثلاً نماز وروزہ کی ادائیگی میں کوتاہی یا ان اعمال کو کرنا جن سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے، مثلاً شراب پینا اور زنا کرنا۔ توبہ کے لئے 3 شرطیں ہیں:
٭گناہ کو چھوڑنا ٭کئے گئے گناہ پر شرمندہ ہونا۔ ٭
آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا۔ لیکن اگر گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو ان 3 شرطوں کے علاوہ مزید ایک اہم شرط ضروری ہے کہ پہلے بندہ سے معاملہ صاف کیا جائے، یعنی اگر اس کا حق ہے تو وہ ادا کیا جائے یا اس سے معافی طلب کی جائے۔ غرضیکہ بندوں کے حقوق کے متعلق کل قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا اصول وضابطہ بیان کردیا کہ پہلے بندہ کا حق ادا کیا جائے یا اس سے معافی طلب کی جائے، پھر اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ کے لئے رجوع کیا جائے۔ توبہ کے معنیٰ لوٹنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے فرمانبرداری کی طرف لوٹنا شریعت اسلامیہ میں’’ توبہ‘‘ کہلاتا ہے۔ حقوق اللہ میں کوتاہی کی صورت میں توبہ کے صحیح ہونے کے لئے3 شرطیں اور بندے کے حقوق میں کوتاہی کرنے پر توبہ کے لئے4شرطیں ضروری ہیں لہٰذا ہمیں جس طرح اللہ کے حقوق کو مکمل طور پر ادا کرنا چاہئے ، اسی طرح بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں ادنیٰ سی کوتاہی سے بھی بچنا چاہئے۔
بندوں کے حقوق میں کوتاہی کرنے پر کل قیامت کے دن محسن انسانیت کے فرمان کے مطابق اعمال کے ذریعہ بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی جائیگی، جیساکہ فرمان رسول ہے: ’’میری امت کا مفلس شخص وہ ہے جو قیامت کے دن بہت سی نماز، روزہ، زکوٰۃ (اور دوسری مقبول عبادتیں) لے کر آئے گا، مگر حال یہ ہوگا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا پیٹا ہوگا تو اس کی نیکیوں میں سے ایک حق والے کو (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی، ایسے ہی دوسرے حق والے کو اس کی نیکیوں میں سے (اس کے حق کے بقدر) نیکیاں دی جائیں گی، پھر اگر دوسروں کے حقوق چکائے جانے سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو (ان حقوق کے بقدر) حق داروں اور مظلوموں کے گناہ (جو انہوں نے کئے ہوں گے) ان سے لے کر اس شخص پر ڈال دیئے جائیںگے اور پھر اس شخص کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘ (مسلم )۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں بھی بار بار ہمیں توبہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اختصار کے پیش نظر صرف2 آیات پیش ہیں: oاے مؤمنو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ ( النور 31)۔ o اے ایمان والو! اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو۔ بہت ممکن ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہ معاف کرکے تمہیں جنت میں داخل کردے(التحریم 8) ۔ پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ توبہ کرنے والے کامیاب ہیںاوردوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ سچی توبہ کرنے والوں کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں اور ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔ قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی حضور اکرم نے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو! اللہ کی بارگاہ میں تم توبہ واستغفار کرو، میں دن میں 100,100مرتبہ توبہ کرتا ہوں(مسلم)۔ اسی طرح فرمان نبی ہے: ’’اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ سے ایک ایک دن میں70,70 مرتبہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرتا ہوں۔ ‘‘(بخاری)۔ ہمارے نبی اکرم گناہوں سے پاک وصاف اور معصوم ہونے کے باوجود روزانہ100,100 مرتبہ استغفار کیا کرتے تھے، اس میں امت مسلمہ کو تعلیم ہے کہ ہم روزانہ اہتمام کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہیں، اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے، جیسا کہ ہمارے نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص پابندی سے استغفار کرتا رہے (یعنی اپنے گناہوں سے معافی طلب کرتا رہے ) اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں، ہر غم سے اسے نجات عطا فرماتے ہیں اور ایسی جگہ سے روزی عطا فرماتے ہیں کہ جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘ (ابوداؤد ،باب فی الاستغفار) ۔ کوئی شخص کب تک توبہ کرسکتا ہے؟ حضور اکرم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتا ہے جب تک وہ نزاع کی حالت کو نہ پہنچ جائے۔‘‘ (ترمذی)۔ یعنی جب انسان کا آخری وقت آجاتا ہے تو پھر اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتے۔
موت کا وقت اور جگہ سوائے اللہ تعالیٰ کی ذات کے کسی کو معلوم نہیں چنانچہ بعض بچپن میں، توبعض عنفوان شباب میں اور بعض ادھیڑ عمر میں جبکہ باقی بڑھاپے میں داعی اجل کو لبیک کہہ جاتے ہیں۔ بعض صحتمند تندرست نوجوان سواری پر سوار ہوتے ہیں لیکن انہیں نہیں معلوم کہ وہ موت کی سواری پر سوار ہوچکے ہیں۔ یہی دنیاوی فانی وقتی زندگی‘ اخروی ابدی زندگی کی تیاری کے لئے پہلا اور آخری موقع ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم افسوس کرنے یا خون کے آنسو بہانے سے قبل اس دنیاوی فانی زندگی میں ہی اپنے گناہوں سے توبہ کرکے ا پنے مولاکو راضی کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہماری روح ہمارے بدن سے اس حال میں جُدا ہو کہ ہمارا خالق و مالک و رازق ہم سے راضی ہو۔ سچے دل سے توبہ کرنے پر بڑے گناہوں کی بھی معافی: حدیث کی مشہور ومعروف کتابوں میں نبی اکرم کی زبان مبارک سے سنایا ہوا ایک واقعہ مذکور ہے: ’’تم سے پہلی امت میں ایک آدمی تھا جو99آدمیوں کو قتل کرچکا تھا۔ اس نے کسی بڑے عالم دین کا پتہ دریافت کیا تو لوگوں نے اسے ایک (عیسائی) راہب کا پتہ بتایا۔ یہ شخص اس راہب کے پاس گیا اور کہا کہ میں 99آدمیوں کو قتل کرچکا ہوں، کیا اب بھی میرے لئے توبہ کا امکان ہے؟ راہب نے کہا: نہیں۔ تو اُس شخص نے راہب کو بھی قتل کرڈالا اور اس طرح100 قتل پورے کردیئے(لیکن وہ اپنے کئے ہوئے گناہ پر بہت زیادہ شرمندہ تھا اور اللہ تعالیٰ سے سچی توبہ کرنا چاہتا تھا)۔ پھر لوگوں سے بڑے عالم دین کا پتہ دریافت کیا تو لوگوں نے اس کو ایک اور عالم کا پتہ بتایا۔ یہ شخص ان کے پاس گیا اور کہا: میں100 آدمیوں کو قتل کرچکا ہوں، کیا اب بھی میرے لئے توبہ کا امکان ہے؟ اس نے کہا: ہاں، ضرور ہے۔ اور بھلا اللہ کے بندہ اور توبہ کے درمیان کوئی چیز رکاوٹ ہو سکتی ہے؟ تم فلاں بستی میں چلے جاؤ۔ وہاں اللہ کے کچھ نیک بندے اپنے رب کی عبادت میں مصروف ہیں، تم ان کے ساتھ رہ کر اللہ کی عبادت میں مصروف ہوجاؤ۔ یہ شخص (توبہ کرکے) اس بستی کی جانب چل دیا۔
آدھا راستہ طے کیا تھا کہ موت آگئی۔ اس کی روح کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں میں جھگڑا ہونے لگا۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا کہ یہ شخص اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوچکا ہے، لہٰذا ہم اس کی روح لے کر جائیں گے۔ عذاب کے فرشتوں نے کہا کہ اس نے ابھی تک کوئی نیک عمل نہیں کیا، لہٰذا یہ شخص رحمت کا مستحق نہیں ہے۔ اللہ کے حکم سے ایک فرشتہ انسانی شکل میں ان کے سامنے آیا۔ دونوں فریق نے اس کو اپنا حکم بنالیا۔ اس انسان نمافرشتہ نے کہا کہ دونوں سرزمینوں (گناہ کی بستی اور عبادت کی بستی) کی پیمائش کرلو، جس علاقہ سے یہ قریب ہو اسی علاقہ کے لوگوں میں شامل کردو۔ چنانچہ انہوں نے زمین کی پیمائش کی، اُس علاقہ سے قریب تر پایا جس میں عبادت الٰہی کے ارادہ سے وہ جارہا تھا۔‘‘ بعض روایات میں آتا ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے بدکاری کی سرزمین کو حکم دیا کہ تو دور ہوجا اور نیکوکاری کی سرزمین کو حکم دیا کہ تو قریب ہوجا ،اور اس طرح نیکی کی سرزمین ایک بالشت قریب نکلی چنانچہ اس کی مغفرت کردی گئی ۔ اس واقعہ کی تائید قرآن وحدیث سے بھی ہوتی ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ الزمر، آیت 53 میں ارشاد فرماتا ہے: ’’(میری جانب سے)کہہ دو کہ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کررکھی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو،یقین جانو اللہ سارے کے سارے گناہ معاف کردیتاہے۔ یقینا وہ بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔‘‘ فرمان رسول ہے: ’’ اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتے ہیں تاکہ دن میں گناہ کرنے والا رات کو توبہ کرے اور دن کو اپنا دست قدرت پھیلاتے ہیں تاکہ رات کو گناہ کرنے والا دن کو توبہ کرے۔‘‘( مسلم) ۔ اللہ تعالیٰ دنیا میں شرک جیسے بڑے گناہ کو بھی سچی توبہ کرنے پر معاف کردیتا ہے لہٰذا ہمیں گناہوں کی کثرت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے، لیکن فرمان رسول (عقلمند شخص وہ ہے جو اپنا محاسبہ کرتا رہے اور مرنے کے بعد کیلئے عمل کرتا رہے۔اور بے وقوف شخص وہ ہے جو اپنی خواہش پر عمل کرے اور اللہ تعالیٰ سے بڑی بڑی امیدیں باندھے) (ترمذی وابن ماجہ) کے مطابق ہمیں گناہ کرنے کی جرأت نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ توبہ کی توفیق ملنے سے قبل ہی ہماری روح جسم سے پرواز کرجائے۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت بھی معاف کرنے کے لئے تیار ہے، لہٰذا فوراً گناہوں سے معافی مانگ کر اچھائیوں کی طرف سبقت کریں۔
کل ، جمعہ یا رمضان پر اپنی توبہ کو معلق نہ کریں بلکہ ابھی گناہوں سے بچ کر اپنے کئے ہوئے گناہوں پر شرمندہ ہوں اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں۔ ان شاء اللہ ہمارے بڑے بڑے گناہوں کو بھی اللہ تعالیٰ معاف کرنے کیلئے تیار ہے۔ اگر توبہ سے قبل ہماری روح ہمارے جسم سے دور ہونے لگے تو پھر خون کے آنسو بہانے سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر ہم نے بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی ہے تو پہلی فرصت میں حقوق کی ادائیگی کرکے یا معافی طلب کرکے بندے سے اپنا معاملہ صاف کرلیں ورنہ قیامت کے دن اعمال کے ذریعہ حقوق کی ادائیگی کی جائے گی جیساکہ ہمارے نبی نے بیان کیا ہے۔ جہاں تک دنیاوی زندگی میں مشغولیت کا تعلق ہے تو ہمارے نبی اکرم نے ارشاد فرمایا کہ اگر انسان کو ایک وادی سونے کی مل جائے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس2 وادیاں ہوں۔ اس کے منہ کو قبر کی مٹی ہی بھرے گی اور توبہ کرنے والے کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے ()۔ بڑے بڑے گناہوں سے مستقل توبہ کرنا ضروری ہے۔ اگرچہ چھوٹے چھوٹے گناہوں کی مغفرت کے لئے استغفار پڑھنا بھی کافی ہے۔
اسی لئے علمائے کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں تحریر کیا ہے کہ ہمیں ہر نماز کے بعد اور صبح وشام استغفار پڑھنا چاہئے۔ انسان کے ساتھ شیطان، اپنا نفس اور معاشرہ لگا ہوا ہے جس کی وجہ سے انسان گناہ سے سچی توبہ کرنے کے باوجود اس گناہ کو دوبارہ کر بیٹھتا ہے لیکن انسان کو ہمیشہ اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوکر آئندہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ توبہ کرتے رہنا چاہئے اور اس بات کی دن رات فکر کرنی چاہئے کہ فلاں گناہ سے کیسے نجات حاصل کی جائے، جیسا کہ مذکورہ بالا واقعہ میں100قتل کرنے کے بعد وہ شخص سچے دل سے توبہ کرنا چاہتا تھا۔ اگر گناہ سے بچنے کا پختہ ارادہ ہے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس شخص کو گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔

گناہگاروں اور اللّٰہ کے درمیان دوری ہوجاتی ہے اور دل کا سکون نہیں ملتا ﴿أَلا بِذِكرِ‌ اللَّهِ تَطمَئِنُّ القُلوبُ ٢٨ ﴾... سورة الرعد" اللّٰہ کی یاد سے ہی قرار پکڑتے ہیں ،لوگوں سے وحشت اور دوری ہوتی ہے،خاص طور پر اصلاح کرنے والوں سے۔ان کےساتھ اُٹھنے بیٹھنے اور میل ملاقات سے گناہ گار گریز کرتا ہے۔ یہاں تک کہ بیوی بچوں اور اپنے اقربا سے وحشت ہو جاتی ہے. دل کا مقفل ہونا : دل پر مہر لگ جاتی اور وہ غافل وبےخبر ہوجاتاہے۔ جب انسان ایک گناہ کرتاہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہےاور پھر گناہ پر اصرار کی وجہ سے آخر سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔پھر توبہ کی توفیق ہی نہیں ہوتی،اسےکہتے ہیں:﴿خَتَمَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَعَلىٰ سَمعِهِم...﴿٧﴾... سورة البقرة ''اللّٰہ نے ان کے دلوں اورکانوں پر مہر لگا دی ہے۔''


﴿كَلّا ۖ بَل ۜ ر‌انَ عَلىٰ قُلوبِهِم ما كانوا يَكسِبونَ ﴿١٤﴾... سورة المطففين ''ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔''


﴿ثُمَّ قَسَت قُلوبُكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالحِجارَ‌ةِ أَو أَشَدُّ قَسوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الحِجارَ‌ةِ لَما يَتَفَجَّرُ‌ مِنهُ الأَنهـٰرُ‌ ۚ وَإِنَّ مِنها لَما يَشَّقَّقُ فَيَخرُ‌جُ مِنهُ الماءُ ۚ وَإِنَّ مِنها لَما يَهبِطُ مِن خَشيَةِ اللَّـهِ ۗ وَمَا اللَّـهُ بِغـٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ ﴿٧٤﴾... سورة البقرة


'' مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمہارے دل سخت ہوگئے، پتھروں کی طرف سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے، کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے اللّٰہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔''


اورپھر انسان کا ازلی دشمن شیطان پوری قوت سے اس پر غالب

آجاتا ہے اور اسے جہاں چاہتا ہے، ہانک کر لے جاتاہے۔

لہذا جوبھی اللہ کی عبادت اور اس کی مرضی کے کام کرے گا، وہ اپنا فرض ادا کرےگا، اور جو اللہ کی عبادت سے منہ موڑےگا اور اس کی ناراضگی کے کام کرے گا تو وہ جس کام کے لیےپیدا ہوا تھا اس کے خلاف کام کر رہا ہے اسے اس کا وبال بھگتنا پڑےگا۔


یاد رکھیٔے! اللہ کی نافرمانی اور گناہ کے کا موں سے اللہ کا کچھ نہیں بگڑتا ۔ اس کا و بال خود اسی کو بھگتنا پڑتا ہے،جو گناہ کرتا ہے اسی طرح نیکی اور ثواب کے کاموں کا فائدہ خود اسی کو پہنچتا ہے جو نیکی کرتا ہے۔ اس سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔


محترم بھائیوں اور بہنوں!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ کے کاموں کو قاذورات (گندگی اور آلائش)سے تعبیر کیا ہے۔ موطأ امام مالک کی روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:


(من أصاب من ھذہ القاذورات شیئا فلیستتر بستر اللہ)


“ جو اس طرح کے گندے کام ( گناہ) کر بیٹھے تو وہ اسے اللہ کے پردے میں چھپالے۔”


اس حدیث میں آپ نے گناہ کے کاموں کو قاذورات یعنی گندے کام سے تعبیر کیا ہے۔ اور فی الواقع ہے بھی یہ گندگی۔ اگرچہ ہم اس گندگی کو دیکھ نہیں سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی بدبو سونگھ سکتے ہیں۔ لیکن ان گنا ہوں کا اثر ہم دلوں پر دیکھتے ہیں۔ جب انسان مسلسل گناہ کرتا ہے تویہ گناہ اس کے دل کو ڈھانپ لیتے ہیں اور اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ اور کوئی بھی بھلی بات اس کے دل کو اچھی نہیں لگتی۔


ارشاد باری ہے:


( كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) [المطففين: 14]


”یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے۔”


اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:


(إن العبد إذا أذنب ذنبا کانت نکتۃ سوداء فی قلبہ، فإن تاب منھا صقل قلبہ وإن زادت زاد)


“بندہ جب کو ئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے تویہ نکتہ اس کے دل سے صاف ہوجاتا ہے۔ اور اگر وہ مزید گناہ کرتا ہے تو وہ نکتہ اور بڑھ جاتا ہے۔ اور جتنا وہ گناہ کرتا جاتا ہے وہ نکتہ بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ پورے دل کو ڈھانپ لیتا ہے۔”


یہ گناہ جو دل پر برابر بڑھتا چلا جاتا ہے اور اسے توبہ واستغفار کے ذریعہ صاف نہیں کیا جاتا،ایک سخت حجاب بن جاتا ہے۔ پھر اس کے دل میں کوئی بھلی بات داخل نہیں ہوپاتی۔


میرے بھائیوں اور بہنوں!آپ غور کریں، کپڑے پر برابر گندگی لگتی چلی جائے اور اسے صابن وغیرہ سے نہ دھو یا جائےتو اس کا کیا حال ہوگا؟ اسی طرح جب دل پر گنا ہ کا اثر بڑھتا چلا جائےاور توبہ واستغفار سے اس کے اثر کو زائل نہ کیا جائےتو پھر دل کا کیا حال ہوگا؟ ہم دن رات گناہ پر گناہ کیےجاتے ہیں۔ اور اپنے پورے دل کو سیاہ کرلیتے ہیں اور ہمیں توبہ واستغفار کی بھی توفیق نہیں ہوتی کہ ہم ہاتھ اٹھا کر اللہ سے اپنے گنا ہوں کی معافی مانگيں۔ پھر ہم گنا ہوں سے آلودہ اپنے ان دلوں سے کیاامید رکھ سکتے ہیں۔


میرے بھائیوں اور بہنوں!اصل صفائی وستھرائی ہے دل کی صفائی وستھرائی۔ دل اگر گندہ ہو تو کپڑوں اور جسم کی ظاہری صفائی سے کچھ نہیں ہوتا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے جسم اور کپڑے بظاہر صاف ستھرے ہوتے ہیں؛لیکن وہ دل کے انتہائی گندے ہوتے ہیں، گناہ اور معصیت کی کثرت سے ان کے دل بدبودار ہوتے ہیں، اور ان کی یہ بدبوبڑھتی چلی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ توبہ واستغفار سے اسے صاف نہیں کرتے۔ پھر ایسے دل کی قیامت کے دن اللہ کی نظر میں کیا وقعت ہوگی، جس دن دلوں کے سارے راز منکشف ہوجائیں گے اور دلوں میں جو کچھ ہے باہر آجائےگا، اور اللہ سے کوئی چیز چھپی نہیں رہےگی۔


میر بھائیوں اور بہنوں!انسان سب کے سب خطا کار ہیں۔ (کل بنی آدم خطاؤن وخیر الخطائین التوابون)


“سارے بنی آدم خطا کار ہیں اور خطا کاروں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو کثرت سے توبہ کرنے والے ہو۔”


گناہ بھی لوگوں سے ہوتے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنے گناہوں پر شر مندہ اور نادم ہوتے ہیں اور اللہ سے توبہ واستغفار کر کے اپنے گناہ بخشوا لیتے ہیں اور ان کے دل پاک وصاف ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ اپنے گناہوں سے غافل اور لاپرواہ ہوتے ہیں اور ان کے گناہوں کی سیاہی ان کے دلوں کو برابر ڈھانپتی چلی جاتی ہے۔


میرے بھائیوں اور بہنوں!توبہ واستغفار کا دروازہ برابر کھلا ہوا ہے، ارشاد باری ہے:


( قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ) [الزمر: 53]


“(میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے۔"

No comments:

Post a Comment

AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...