Monday, November 21, 2022

’اور سجدہ کر اور قریب ہوجا ( وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ }


 


’’اور سجدہ کر اور قریب ہوجا۔ ‘

{وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ} [العلق:۱۹]

معدان ابن ابی طلحہ الیعمری فرماتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ کو ملا تو میں نے کہا

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ(ﷺ) سے عرض کیا مجھے وہ عمل بتائیے جس سے اللہ مجھے جنت میں داخل کر دے یا میں نے عرض کیا : مجھے وہ عمل بتائیے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہو۔ آپ ﷺ خاموش رہے۔ میں نے پھر سوال کیا، آپ ﷺ خاموش رہے، جب میں نے تیسری بار سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کے لئے کثرت سے سجدے کیا کرو، کیونکہ تم جب بھی اللہ کےلئے سجدہ کرو گے تو اللہ اس سجدہ کی وجہ سے تمہارا ایک درجہ بلند کرے گا اور تمہارا ایک گناہ مٹا دے گا۔ (صحیح مسلم، ترمذی)

((أَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ أَعْمَلُہٗ یُدْخِلُنِيْ اللّٰہُ بِہِ الْجَنَّۃَ … أَوْ … بِأَحَبِّ الْأَعْمَالِ إِلَی اللّٰہِ، فَسَکَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُہٗ فَسَکَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: (( عَلَیْکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ لِلّٰہِ، فَإِنَّکَ لَا تَسْجُدُ لِلّٰہِ سَجْدَۃً إِلاَّ رَفَعَکَ اللّٰہُ بِھَا دَرَجَۃً، وَحَطَّ عَنْکَ بِھَا خَطِیْئَۃً۔ ))
أخرجہ مسلم في کتاب الصلاۃ، باب: فضل السجود والحث علیہ، رقم: ۱۰۹۳۔

سجدۂ نماز کا ایک رکن ہے اور اس کی ادائیگیزمین پر ناک اور پیشانی رکھنے سے ہوتی ہے چنانچہ جب نمازی یہ فعل کرتا ہے تو اس وقت وہ اپنے ربّ کے قریب ترین ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(( أَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَّبِّہٖ وَھُوَ سَاجِدٌ فَأَکْثِرُوْا الدُّعَائَ۔ ))
أخرجہ مسلم في کتاب الصلاۃ، باب: ما یقال في الرکوع والسجود، رقم: ۱۰۸۳۔

قرآن مجید سے اس کی تائید اس طرح ہوتی ہے:
{وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ o} [العلق:۱۹]

’’اور سجدہ کر اور قریب ہوجا۔ ‘‘

کثرتِ سجود اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے انتہاء درجہ کی عاجزی، انکساری اور بندگی کا اظہار ہوتا ہے اور انسانی اعضاء میں سے سب سے عزت والا عضو (چہرہ) اس مٹی میں رکھا جاتا ہے جو روندی جاتی، حقیر سمجھی جاتی ہے۔تمام تر عزت اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہے۔ تو جیسے جیسے انسان اللہ تعالیٰ کی اس صفت (یعنی عزت والا ہونا) سے دور ہوتا جاتا ہے (اپنے آپ کو اس کے سامنے ذلیل کرتا جاتا ہے) ویسے ویسے اس کی جنت اور اس کے پڑوس میں قریب ہوتا جاتا ہے۔
سجدہ کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اس لیے ظاہر ہے کہ اس کے بدلہ میں اتنا بڑا اجر ملے گا جس کا کوئی آدمی اندازہ نہیں کرسکتا مثلاً کیا کوئی مسلمان جنت میں خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نصیب ہونے کے برابر کسی چیز کا تصور بھی کرسکتا ہے؟ یقینا اس کا جواب نفی میں ہی ہے۔
چنانچہ حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتا تھا، میں آپ کے لیے پانی اور کوئی ضرورت کی چیز لاتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا:
(( کُنْتُ أَبِیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَتَیْتُہُ بِوَضُوْئِہِ وَحَاجَتِہٖ فَقَالَ لِيْ (( سَلْ )) فَقُلْتُ: أَسْأَلُکَ مُرَافَقَتَکَ فِيْ الْجَنَّۃِ۔ قَالَ: (( أَوْ غَیْرَ ذٰلِکَ؟ )) قُلْتُ: ھُوَ ذَاکَ، قَالَ: (( فَأَعِنِّيْ عَلیٰ نَفْسِکَ بِکَثْرَۃِ السُّجُوْدِ۔ ))
أخرجہ مسلم في کتاب الصلاۃ، باب: فضل السجود والحث علیہ، رقم: ۱۰۹۴۔

سجدے کی ایک یہ بھی فضیلت ہے کہ 

(( إِذَا أَرَادَ اللّٰہُ رَحْمَۃً مَنْ أَرَادَ مِنْ أَھْلِ النَّارِ، أَمَرَ اللّٰہُ الْمَلَائِکَۃَ أَنْ یُخْرِجُوْا مَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ، فَیُخْرِجُوْنَھُمْ، وَیَعْرِفُوْنَھُمْ بِآثَارِ السُّجُوْدِ، وَحَرَّمَ اللّٰہُ عَلَی النَّارِ أَنْ تَأْکُلَ أَثَرَ السُّجُوْدِ، فَیَخْرُجُوْنَ مِنَ النَّارِ، فَکُلُّ ابْنِ آدَمَ تَأْکُلُہُ النَّارُ إِلاَّ أَثَرَ السُّجُوْدِ۔ ))
أخرجہ البخاري في کتاب الأذان، باب: فضل السجود، رقم: ۸۰۶۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ o} [الفتح:۲۹]

’’ ان کی پہچان ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے اثر سے۔ ‘‘

سجدے کی فضیلت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ با نسبت دوسری حالتوں کے اس حالت میں دعا قبول ہونے کے زیادہ مناسبات و امکانات ہوتے ہیں اس لیے سجدوں میں زیادہ سے زیادہ محنت سے دعا کرنی چاہیے۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما قَالَ کَشَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم السّتَارَۃَ وَالنَّاسُ صُفُوْفٌ خَلْفَ أَبِیْ بَکْرٍ فَقَالَ: (( أَیُّھَا النَّاسُ اِنَّہٗ لَمْ یَبْقَ مِنْ مُّبَشِّرَاتِ النُّبُوَّۃِ اِلاَّ الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃُ یَرَاھَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرٰی لَہٗ أَ لَا وَإِنِّیْ نُھِیْتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاکِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّکُوْعُ فَعَظِّمُوْا فِیْہِ الرَّبَ عَزَّوَجَلَّ، وَأَمَا السُّجُوْدُ فَاجْتَھِدُوْا فِيْ الدُّعَائِ، فَقَمِنٌ أَنْ یُسْتَجَابَ لَکُمْ۔ ))
أخرجہ مسلم في کتاب الصلاۃ، باب النہي عن قراء ۃ القرآن في الرکوع والسجود، رقم: ۱۰۷۵۔

{فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ o} [الحجر:۹۸]

’’ اپنے رب کی حمد بیان کیجیے اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیے۔ ‘‘

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:

بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدہ کر رہا ہو پس تم (سجدہ میں) بہت دعا کیا کرو۔ (صحیح مسلم، سنن داﺅد) 

حضرت ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں ایک رات رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ تھا، میں آپ ﷺ کے وضو اور طہارت کےلئے پانی لایا۔ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : سوال کرو، میں نے عرض کیا میں آپ ﷺ سے جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت کا سوال کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : اور کسی چیز کا؟ میں نے عرض کیا مجھے یہ کافی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر کثرت سے سجدے کر کے اپنے نفس کے اوپر میری مدد کرو۔ (صحیح مسلم، سنن ابوداﺅد)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ﷺ) نے فرمایا: جب ابن آدم سجدہ تلاوت کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ جا کر روتا ہے اور کہتا ہے ہائے میرا عذاب! ابن آدم کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کیا سو اس کو جنت ملے گی، اور مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا سو مجھے دوزخ ملے گی۔ (صحیح مسلم، سنن ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث مروی ہے اس میں ہے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: اعضاء سجود کے جلانے کو اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کر دیا ہے۔ (صحیح بخاری، سنن نسائی) 

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ(ﷺ) نے فرمایا: بندہ کا جو حال اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے وہ یہ ہے کہ اللہ بندہ کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھے اور اس کا چہرہ مٹی میں لتھڑا ہوا ہو۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں افلح نامی ہمارا ایک غلام تھا، جب وہ سجدہ کرتا تو مٹی کو پھونک مار کر اڑاتا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے افلح! اپنے چہرے کو خاک آلودہ کرو۔ (سنن الترمذی)

No comments:

Post a Comment

AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...