Wednesday, August 31, 2022

) اور (رنج وتکلیف میں) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو

٭ شکر کے بعد صبر کا بیان ہو رہا ہے  ٭
اور سات ہی نماز کا ذکر کر کے ان بڑے بڑے نیک کاموں کو ذریعہ نجات بنانے کا حکم ہو رہا ہے، ظاہر بات ہے کہ انسان یا تو اچھی حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ شکر کا ہے یا اگر بری حالت میں ہو گا تو یہ موقعہ صبر کا ہے، حدیث میں ہے، مومن کی کیا ہی اچھی حالت ہے کہ ہر کام میں اس کے لیے سراسر بھلائی ہی بھلائی ہے اسے راحت ملتی ہے۔ شکر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے، رنج پہنچتا ہے صبر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے۔  [صحیح مسلم:2999] ‏‏‏‏ آیت میں اس کا بھی بیان ہو گیا کہ مصیبتوں پر تحمل کرے اور انہیں ٹالنے کا ذریعہ صبر و صلوۃ ہے، جیسے اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ آیت «وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ»  [ البقرة: 45 ] ‏‏‏‏ صبر و صلوٰۃ کے ساتھ استعانت چاہو یہ ہے تو اہم کام لیکن رب کا ڈر رکھنے والوں پر بہت آسان ہے، حدیث میں ہے جب کوئی کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غم میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کر دیتے۔  [سنن ابوداود:1319، قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏
صبر کی دو قسمیں ہیں، حرام اور گناہ کے کاموں کے ترک کرنے پر، اطاعت اور نیکی کے کاموں کے کرنے پر یہ صبر پہلے سے بڑا ہے، تیسری قسم صبر کی مصیبت، درد اور دکھ پر یہ بھی واجب ہے، جیسے عیبوں سے استغفار کرنا واجب ہے، حضرت عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کی فرمانبرداری میں استقلال سے لگے رہنا چاہے انسان پر شاق گزرے طبیعت کے خلاف ہو جی نہ چاہے یہ بھی ایک صبر ہے۔ دوسرا صبر اللہ تعالیٰ کی منع کئے ہوئے کے کاموں سے رک جانا ہے چاہے طبعی میلان اس طرف ہو خواہش نفس اکسا رہی ہو،  [تفسیر ابن ابی حاتم:144/1] ‏‏‏‏ امام زین العابدین فرماتے ہیں قیامت کے دن ایک منادی ندا کرے گا کہ صبر کرنے والے کہاں ہیں؟ اٹھیں اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلے جائیں کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور جنت کی طرف بڑھیں گے فرشتے انہیں دیکھ کر پوچھیں گے کہ کہاں جا رہے ہو؟ جواب دیں گے ہم صابر لوگ ہیں اللہ کی فرمانبرداری کرتے رہے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے، مرتے دم تک اس پر اور اس پر صبر کیا اور جمے رہے، فرشتے کہیں گے پھر تو ٹھیک ہے بیشک تمہارا یہی بدلہ ہے اور اسی لائق تم ہو جاؤ جنت میں مزے کرو اچھے کام والوں کا اچھا ہی انجام ہے۔
575


یہی قرآن فرماتا ہے آیت «إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ»  [ 39-الزمر: 10 ] ‏‏‏‏ صابروں کو ان کا پورا پورا بدلہ بے حساب دیا جائے گا۔ حضرت سعید بن جیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں صبر کے یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اقرار کرے اور مصیبتوں کا بدلہ اللہ کے ہاں ملنے کا یقین رکھے ان پر ثواب طلب کرے ہر گھبراہٹ پریشانی اور کٹھن موقعہ پر استقلال اور نیکی کی امید پر وہ خوش نظر آئے۔
576


پھر فرمایا کہ شہیدوں کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ ایسی زندگی میں ہیں جسے تم نہیں سمجھ سکتے انہیں حیات برزخی حاصل ہے اور وہاں وہ خورد و نوش پا رہے ہیں، صحیح مسلم شریف میں ہے کہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں پھر ان قندیلوں میں آ کر بیٹھ جاتی ہیں جو عرش کے نیچے لٹک رہی ہیں ان کے رب نے ایک مرتبہ انہیں دیکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اب تم کیا چاہتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا اللہ ہمیں تو تو نے وہ وہ دے رکھا ہے جو کسی کو نہیں دیا پھر ہمیں کس چیز کی ضرورت ہو گی؟ ان سے پھر یہی سوال ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ اب ہمیں کوئی جواب دینا ہی ہو گا تو کہا اللہ ہم چاہتے ہیں کہ تو ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیج ہم تیری راہ میں پھر جنگ کریں پھر شہید ہو کر تیرے پاس آئیں اور شہادت کا دگنا درجہ پائیں، رب جل جلالہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا یہ تو میں لکھ چکا ہوں کہ کوئی بھی مرنے کے بعد دنیا کی طرف پلٹ کر نہیں جائے گا۔  [صحیح مسلم:1887] ‏‏‏‏
577


مسند احمد کی ایک اور حدیث میں ہے کہ مومن کی روح ایک پرندے میں ہے جو جنتی درختوں پر رہتی ہے اور قیامت کے دن وہ اپنے جسم کی طرف لوٹ آئے گی،  [مسند احمد:455/2:صحیح] ‏‏‏‏ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر مومن کی روح وہاں زندہ ہے لیکن شہیدوں کی روح کو ایک طرح کی امتیازی شرافت کرامت عزت اور عظمت حاصل ہے۔

Friday, August 26, 2022

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا

 

حدیث کے مطابق وضوء اور سارے سر کا مسح

صحيح البخاري
باب مسح الرأس كله:
باب: اس بارے میں کہ پورے سر کا مسح کرنا
حدیث نمبر: 185
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى:‏‏‏‏ أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ:‏‏‏‏ نَعَمْ،"فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَهُ فَغَسَلَ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے عمرو بن یحییٰ المازنی سے خبر دی، وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں، سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا ہے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں! پھر انہوں نے پانی کا برتن منگوایا پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دو مرتبہ ہاتھ دھوئے۔ پھر تین مرتبہ کلی کی، تین بار ناک صاف کی، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ اس طور پر اپنے ہاتھ (پہلے) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے۔ (مسح) سر کے ابتدائی حصے سے شروع کیا۔ پھر دونوں ہاتھ گدی تک لے جا کر وہیں واپس لائے جہاں سے (مسح) شروع کیا تھا، پھر اپنے پیر دھوئے۔

Narrated Yahya Al-Mazini: A person asked `Abdullah bin Zaid who was the grandfather of `Amr bin Yahya, "Can you show me how Allah's Apostle used to perform ablution?" `Abdullah bin Zaid replied in the affirmative and asked for water. He poured it on his hands and washed them twice, then he rinsed his mouth thrice and washed his nose with water thrice by putting water in it and blowing it out. He washed his face thrice and after that he washed his forearms up to the elbows twice and then passed his wet hands over his head from its front to its back and vice versa (beginning from the front and taking them to the back of his head up to the nape of the neck and then brought them to the front again from where he had started) and washed his feet (up to the ankles).
USC-MSA web (English) Reference: Volume 1, Book 4, 
Number 185
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سنن ابی داود میں حدیث ہے کہ :
أَنَّ مُعَاوِيَةَ رضي الله عنه تَوَضَّأَ لِلنَّاسِ كَمَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَهُ غَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَلَقَّاهَا بِشِمَالِهِ حَتَّى وَضَعَهَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ حَتَّى قَطَرَ الْمَاءُ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ ، ثُمَّ مَسَحَ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ ، وَمِنْ مُؤَخَّرِهِ إِلَى مُقَدَّمِهِ .(ورواہ أبو داود (124) صححه الألباني في صحيح أبي داود .)
ترجمہ :
معاويہ رضى اللہ تعالى عنہ نے لوگوں كے سامنے اس طرح وضوء كيا جس طرح انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو وضوء كرتے ہوئے ديكھا تھا:

" چنانچہ جب وہ سر پر پہنچے تو ايك چلو پانى ليكر اپنے بائيں ہاتھ كو ملايا اور سر كے وسط ميں ركھا حتى كہ پانى كے قطرے گرنے لگے، يا قريب تھا كہ قطرے گريں، پھر انہوں نے سر كے شروع سے ليكر آخر تك اور آخر سے ليكر شروع تك مسح كيا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 124 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

Thursday, August 25, 2022

اللَّهُمَّ اعْتِقْ رِقَابَنَا وَرِقَابَ آبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا


..🌙 اللَّهُمَّ اعْتِقْ رِقَابَنَا وَرِقَابَ آبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا وَإِخْوَانَنَا وَأَخَوَاتِنَا وَأَبْنَاءَنَا وَبَنَاتِنَا وَأَهْلِينَا وَمَنْ لَهُ حَقٌّ عَلَيْنَا وَالْمُسْلِمِينَ مِنَ النَّارِ

 

خواہش نفس (نفس کی اتباع کرنا ) کو اپنا خدا بنانے

اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنانے 

{أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ أَفَأَنتَ تَكُونُ عَلَيْهِ وَكِيلًا (43) أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ ۚ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ ۖ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا (44)} [الفرقان : 43-44]

کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے (25:43,44)

یعنی جو شخص اللہ کے بجائے اپنی خواہش نفس کا بندہ یا غلام بن جائے اور اللہ کے احکام کے بجائے اپنی خواہش نفس کی بات ماننے کو ترجیح دے تو ایسے شخص کے راہ راست پر آنے کے امکانات ختم ہوجاتے ہیں، نہ ہی آپ ایسے ہوا پرستوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھا سکتے ہیں۔ قرآن کے اندر بیان ہے جو بات فوراً ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے خواہش نفس کی اتباع بھی شرک کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔ 

خواہش نفس کی اتباع ایک ایسا عام مرض ہے جس میں کافر و مشرک تو درکنار، مومن و مسلم اور عوام و خواص سب ہی تقریباً متبلا ہوتے ہیں۔ مثلاً عام لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ شریعت کے احکام میں سے آسان اور ان کے من پسند ہوں ان پر تو عمل کرلیتے ہیں اور جو مشکل ہوں تو طبیعت کو گراں معلوم ہوتے ہوں انھیں چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے لوگ حقیقتاً شریعت کے متبع نہیں ہوتے بلکہ اپنی خواہشات کے متبع ہوتے ہیں اور خواص یا علماء کی اتباع ہوائے نفس یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیات کی تاویل کرلیتے جو ان کی۔۔ طبع ہو اور انھیں پسند ہو، بعض غلط استنباط کرکے اور غلط فتوے دے کر دنیا کا مال بٹورتے ہیں۔ پھر جو اور زیادہ ذہین طبع ہوتے ہیں وہ عوام میں کوئی بدعی عقیدہ رائج کرکے عوام کی توجہ کا مرکز بننا چاہتے ہیں اور نئے فرقہ کی بنیاد رکھ دیتے ہیں جس کی تہہ میں حب مال و باہ میں سے کوئی نہ کوئی جذبہ کار فرما ہوتا ہے اور کافر جو انبیاء کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ قرآن کا بھی مفہوم یہ ہوتا ہے کہ انھیں جو مقام معاشرہ میں حاصل ہے وہ ان سے چھن نہ جائے۔ اور مشرکوں کی اتباع خواہش کا تو پوچھنا ہی کیا۔ آج ایک پتھر اچھا معلوم بنا تو اسے پوجنے لگے کل دوسرا اس سے خوبصورت پتھر مل گیا تو پہلے کو چھوڑ کر اس کے آگے سر جھکا دیا۔ یا کسی شخص نے کسی ولی کے مزاد سے متلعق کوئی کرامت یا حاجت روائی کا قصہ بیان کردیا تو اس کے مزاد پر نذریں نیازیں دینا شروع کردیں۔ پھر کسی اس سے بڑے بزرگ کے مزار کے حالات سے متاثر ہوئے تو اپنی ساری نیاز مندیاں ادھر منتقل کردیں۔ غرضیکہ جس طرح انسانوں کی بیشمار اقسام ہیں۔ اسی طرح وہ ان کی خواہش نفس اور اتباع کی بھی بیشمار اقسام ہیں اور رسول بھلا ان ہر طرح کے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری کیسے اٹھا سکتے ہیں ؟ 
 أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے
 ولا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔
وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔
وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120]  اگر تم ان کی خواہشوں پر چلو گے ۔ میں اھواء جمع لاکر بات پت تنبیہ کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے سے مختلف اور جدا ہے اور ایہ ایک کی خواہش غیر متنا ہی ہونے میں اھواء کا حکم رکھتی ہے لہذا ایسی خواہشات کی پیروی کرنا سراسر ضلالت اور اپنے آپ کو درطہ حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔
وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] اور نادانوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ۔ 
وَلا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا [ المائدة/ 77] اور اس قوم کی خواہشوں پر مت چلو ( جو تم سے پہلے ) گمراہ ہوچکے ہیں ۔ 
قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْواءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ [ الأنعام/ 56] ( ان لوگوں سے ) کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔ ایسا کروں میں گمراہ ہوچکا ہوں گا ۔ 
وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ [ الشوری/ 15] اور ان ( یہود ونصاریٰ کی کو اہشوں پر مت چلو اور ان سے صاف کہدو کہ میرا تو اس پر ایمان ہے ۔ جو خدا نے اتارا ۔ 
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50]
اور اس سے زیادہ وہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔
خواہش نفس کا خدا بنا لینے سے مراد اس کی بندگی کرنا ہے ، اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے جیسا بت کو پوجنا یا کسی مخلوق کو معبود بنانا ۔ حضرت ابو امامہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماتحت ظل السمآء من الٰہ یعبد من دون اللہ تعالیٰ اعظم عند اللہ عزوجل من ھوی یتبع ، اس آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جا رہے ہیں ان میں اللہ کے نزدیک بد ترین معبود وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جا رہی ہو ۔ ( طبرانی ) ۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الکہف ، حاشیہ 50 ۔ 
جو شخص اپنی خواہش کو عقل کے تابع رکھتا ہو اور عقل سے کام لے کر فیصلہ کرتا ہو کہ اس کے لیے صحیح راہ کون سی ہے اور غلط کونسی ، وہ اگر کسی قسم کے شرک یا کفر میں مبتلا بھی ہو تو اس کو سمجھا کر سیدھی راہ پر لایا جا سکتا ہے ، اور یہ اعتماد بھی کیا جا سکتا ہے کہ جب وہ راہ راست اختیار کرنے کا فیصلہ کر لے گا تو اس پر ثابت قدم رہے گا ۔ لیکن نفس کا بندہ اور خواہشات کا غلام ایک شتر بے مہار ہے ۔ اسے تو اس کی خواہشات جدھر جدھر لے جائیں گی وہ ان کے ساتھ ساتھ بھٹکتا پھرے گا ۔ اس کو سرے سے یہ فکر ہی نہیں ہے کہ صحیح و غلط اور حق و باطل میں تمیز کرے اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے ۔ پھر بھلا کون اسے سمجھا کر راستی کا قائل کر سکتا ہے ۔ اور بالفرض اگر وہ بات مان بھی لے تو اسے کسی ضابطہ اخلاق کا پابند بنا دینا تو کسی انسان کے بس میں نہیں ہے ۔
......................

الله کی کتاب پر ایمان اور نفس

 { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا} [النساء : 135]

.اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالٰی اس سے پوری طرح باخبر ہے  (4:135)
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنزَلَ مِن قَبْلُ ۚ وَمَن يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا} [النساء : 136]
 اے ایمان والو! اللہ تعالٰی پر اس کے رسول (  صلی اللہ علیہ وسلم  ) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول  (  صلی اللہ علیہ وسلم  ) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل فرمائی گئی ہیں ،  ایمان لاؤ!  جو شخص اللہ تعالٰی سے اور اس کے فرشتوں سے اور اس کی کتابوں سے اور اس کے رسولوں سے اور قیامت کے دن سے کفر کرے وہ تو بہت بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔  (4:136)
.فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ( المرسلات 77:50)
اب اس قرآن کے بعد کس حدیث  پر ایمان لائیں گے؟ ( المرسلات 77:50)
کفر کرنے کے بھی  دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ  آدمی صاف صاف انکار کر دے۔ دوسرے یہ کہ زبان سے تو مانے مگر دل سے نہ مانے ، یا اپنے رویّے سے ثابت کر دے کہ وہ جس چیز کو ماننے کا دعویٰ کر رہا ہے فی الواقع اسے نہیں مانتا۔ یہاں کفر سے یہ دونوں معنی مراد ہیں اور آیت کا مقصُود لوگوں کو اس بات پر متنبّہ کرنا ہے کہ اسلام کے اِن اساسی عقیدوں کے ساتھ کفر کی اِن دونوں اقسام میں سے جس قسم کا برتاؤ بھی آدمی اختیار کرے گا ، اس  کا نتیجہ حق سے دوری اور باطل کی روہوں میں سر گشتگی و نا مرادی کے سوا کچھ نہ ہوگا۔
 ایمان لانے والوں سے کہنا کہ ایمان لاؤ بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے ۔ لیکن دراصل یہاں لفظ ایمان دو الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے ۔ ایمان لانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آدمی انکار کے بجائے اقرار کی راہ اختیار کرے ، نہ ماننے والوں سے الگ ہو کر ماننے والوں میں شامل ہو جائے ۔
 اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو مانے اسے سچے دل سے مانے ۔ پوری سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مانے ۔
اپنی فکر کو ، اپنے مذاق کو ، اپنی پسند کو ، اپنے رویے اور چلن کو ، اپنی دوستی اور دشمنی کو ، اپنی سعی و جہد کے مصرف کو بالکل اس عقیدے کے مطابق بنالے جس پر وہ ایمان لایا ہے ۔
 خطاب ان تمام مسلمانوں سے ہے جو پہلے معنی کے لحاظ سے ”ماننے والوں“ میں شمار ہوتے ہیں ۔ اور ان سے مطالبہ یہ کیا گیا ہے کہ دوسرے معنی کے لحاظ سے سچے مومن بنیں-

Wednesday, August 24, 2022

“Every soul shall taste death"

 

Dear Brothers and Sisters in Islam,

The topic of this reminder has a very deep spiritual significance.  It also has been dealt with numerously in the Quran and the sayings of our Prophet (SAW).  In spite of its importance, most people rarely remember it and if they do, they usually are not willing to reflect upon it because for some people it causes some inconvenience.  Let us follow the guidance of the Quran and reflect upon it.  This topic is DEATH.

Death is a very well-known fact.  It has always been indisputable.  No one has ever doubted death. although human beings rarely agree on anything, they have never disagreed on their mortality.

Death is mentioned in the Quran almost everywhere.  The word "Death" and its derivatives "die, dying, dead" is found more than 160 times in the Quran.  The Quran has put a lot of emphasis on death.  Why is it that the Quran is consistently reminding the believers about their own mortality while they already take it for granted??  To understand why we have to take a close look at the verses which mention death in the Quran and reflect upon them.  Let us explore some of these verses:

"Every soul shall taste death" (al-Imran 3:185)

The verse is clear and emphatic.  The massage it conveys to us is: Make no mistake about death, it is a foregone conclusion. Every soul shall taste it no matter what.  Listen now to full verse:

"Every soul shall death: And only on the Day of Judgement shall you be paid your full recompense.Only he who is saved from the Fire and  admitted to the Garden will have succeeded. For the life of this world is but goods o fdeception"  (al-Imran 3:185)

This verse represents one of the important Tenets of Islam which is the fact that there is another life after death. Thus, for us death is not the end of the world it is just the start of an ever-lasting life.  The other fact stated in this verse with no uncertainty is that the true measure of success is not in this life.  Success is not having a huge sum of money, or a large family, or a prestigious job, or an impressive title, or a degree from a respected university, or a big house, or a nice car, all these are nothing but goods of deception.  The real success is to be saved from the hell fire and be admitted to paradise.  Anything short of this is a mere deception.

In another verse which conveys a similar meaning is:

"Every soul shall taste death.  And We test you by evil and by good by way of trial. To Us must you return." (al-Anbiyaa 21:36)

The message is clear: everyone will die and this life is just a probation on this earth, our faith will be tested by many things.  Some are tested by calamities and some are tested by good things of this life and at the end we will return to Allah so that we be appraised according to our test results.

The whole story of each and everyone of us is best summarized in these verses:

"We did create man from a quintessence of clay; Then We placed him as a drop of sperm in a place of rest firmly fixed then We made the sperm into a clot of congealed blood; Then of that clot We made a lump; Then We made out of the lump bones and clothed the bones with flesh then We developed out of it another creature.  So blessed be Allah the best to create. After that, you will die.  On the day of judgement you will be raised up again." (al-Muuminun 23:12-16)

This is the history of each one of us, CREATION, LIFE, DEATH, and then RESURRECTION.  So we have to understand that our life on this earth is just a part, actually a very small part, of the whole picture.  Also, we should not overestimate the value of this tiny fraction compared to our whole existence.

There is no escape from death.  Allah (SW) says:

"Wherever you are, death will find you out.  Even if you are in towers built up strong and high." (al-Nisaa 4:78)

No matter how long one lives, nothing will save him/her from death.  Strong towers won't save him.  Progress of science will never overcome death.  Advanced health care systems will never overcome death.  Family, friends, money, power, prestige, all are of no avail.

Listen to the following verse which describes our helplessness  when death comes:

"Why don't you intervene when the soul of the dying  man reaches the throat and you sit looking on but We are nearer to him than you are but you do not see.  Then why don't you, if you are exempt from future account, call back the soul if you are true in your claim of independence? If the dying man be          of those nearest to Allah, there is for him rest          and satisfaction and a garden of delight.  And if he be of the companions of the right hand, for him is the salutation `Peace be unto you from the companions of the right hand' And if he be of those who treat truth as falsehood, those who go wrong, for him is entertainment with boiling water, and burning in hell fire.  Verily this is the truth and certainty.  So celebrate with praises the name of Thy Lord, The Supreme." (al-Waqia 56:83-96)

One also finds in the Quran many verses which adnominish the believers of their obligations in this life before they die.  Allah says:

 "O you who believe fear Allah as He should be feared and die not except in the state of Islam" (al-Imran 3:102)

Allah is commanding us not to die except as Muslims.  But we are never sure when death will come to us.  Therefore, we have to be Muslims all the time.  That is, the message is be muslim today, tomorrow and forever, be muslim in faith and in behaviour, be muslim in private and in public.  Be muslim with others and with your ownself, be muslim when at ease and be muslim when in hardship.  Always be in a state of Islam, in a state of submission to your Allah, so that when death comes, you will be ready.

The same meaning is very eloquently put in the following verse:

"O you who believe let not your riches or your children divert you from the remembrance of Allah and whoever do this, the loss is their own. And spend in charity out of the substance which we have bestowed on you before death should come to any of you and he would say `O my Lord why don't You give me a respite for a little while?  I should then have given largely in charity and I will be one of the doers of good.  But to no soul will Allah grant respite when the time appointed for it has come and Allah is well-acquainted with all that you do." (al-Munafiqun 63:9-11)

This verse is extremely important to us.  It states in no uncertain terms that there is no second chance-- when death comes, it is over.  If you want to do good, do it now before you are dead.  If you fail to be a good Muslim in this life, you will be the eternal loser because you will not be granted a second chance.  You will not be given some extra time and there are no exemptions.

The same meaning is emphasized in another verse:

"When death comes to one of them, he would say `O my Lord send me back to life in order that I may work righteousness in the things I neglected.' No, by no means"  (al-Muuminun 23:99-100)

It is the same warning again, Allah is reminding us to watch out: whatever good you might do, do it now, don't delay it, don't postpone it.  If you fail to do good now, it is your mistake, you have already been warned and all the loss will be yours.

There are numerous references to death in the Quran.  The scenes of death and the scenes of the day of judgement are plenty in the Quran.  They are almost every where.  If we suppose that we read the Quran everyday, which is the sunnah of the Prophet (SAW), then it is very likely that we will read about death everyday.  If we follow the Quranic guidance by reflecting upon everything we read, then we will end up thinking about death everyday. We have to ask ourselves why is it that Allah wants us to reflect upon death everyday? What is the value of such constant reminder ?  The fact is, remembering death has far-reaching implications in the life of the believer.  Remembering death daily can and does transform the whole life of a believer to the better.  Death awareness helps the believer to set his/her priorities right.

Imagine a believer who reads the Quran everyday, read and reflect upon death and the Day of Reckoning and then act accordingly.  This believer will certainly be more altruistic, less greedy, more careful to the needs of the poor and the needy, more helpful to the weak and the helpless, more giving in charity, more generous because simply this believer asks himself/herself everyday the same question  "Will this money I have save me from death ?"  Will the money deliver me from hell-fire ?" "Will greed or saving the money for myself guarantee me the pleasure  of my Lord ?"  Actually, it is quite the opposite.  The more you spend for the sake of your Lord, the more you become closer to Him.  Death remembrance is the best way to become one of those whom allah has praised in the Quran by saying:

 "And those in whose wealth there is a recognized right for the needy and the destitute and those who believe in the truth of the Day of Judgement and those who fear the displeasure of their Lord.  For their Lord's displeasure is one against which there is no security."(al-Maarij 70:24-28)

Death awareness does create a caring, helpful, generous believer. In short a truly wonderful person.  If death awareness is spread among a whole community of believers, that community will be amazing.

Death remembrance also does give the believer a huge spiritual boost.  The believer who is always aware of his/her own mortality will always be in need to seek refuge with the Almighty.  This kind of believer will be very careful not to displease his/her Lord and if it happens that he/she does something wrong he/she will be quick to ask for forgiveness.  repentance will become his/her daily practice since he/she remembers that death might come to him/her at any time, so he is taking precautions by being always repentant.

This mortality awareness will improve the spiritual quality of the believer's prayers.  If in your prayer you remember very well that someday you will be a dead person, then you will truly humble yourself in this prayer.  That's why the Prophet (SAW) once advised us that at the start of every prayer we should consider that, this prayer as our last prayer in this life. Repentance, prayer, humbleness, self-restraint, patience, charity, Fear of allah,and hope, all of these are the immediate outcomes of death remembrance.

One of the most important ramifications of continuous death remembrance is that it emboldens the believer to do Jihad, to struggle for the sake of Allah.  For the believer who is always aware that he/she will die sooner or later,  then he/she will certainly prefer an honourable death to ordinary death and the most honourable death is to die for the cause of Islam, to be a martyr of faith.  listen how allah praises those who sacrifices their lives for His sake:

 "Allah has purchased of the believers their souls and their wealth in return for the paradise.  They fight in His cause and kill or get killed. A promise binding on him in truth through the Torah, the Gospel, and the Quran and who is more faithful to his covenant than Allah ?  Then rejoice in the deal which you have concluded.  That is the supreme achievement." (al-Touba 9:111)

This attitude of continuous death awareness and preferring an honourable death to any other kind of death was the root cause of all the glories of early Islam.  Those fearless companions of the Prophet (SAW) spread Islam to the shores of the Atlantic and to the borders of China in less than one century. They led the most impressive military campaigns in history and their incentive was very simple:  The search for martyrdom, the most honourable death for a Muslim.  Today, it is the fear of death, honourable or otherwise, that is making us by far the most humiliated nation on earth.  Last Friday's massacre of the Palestinians (February 25th, 1994) is just a reminder of this humiliation. 

At the core of all the ills of the Muslim World today lies this simple fact, We, Muslims, fear death. Martyrdom is not as appealing to us as it was to the early Muslims.  We are not willing to sacrifice our wealth and our standard of living either.  The evidence to this fact is abundant.  The Muslim World has betrayed Bosnia.  Muslims in the East were not willing to sacrifice their standard of living and threaten an oil and economic embargo against all those who help the Serbs and those who prevent the Bosnia Muslims from defending themselves. 

Muslims in the West didn't fare better, the amount of help we provided to our Brothers and Sisters in Bosnia was just peanuts compared to the wealth that Muslims in the West enjoy.  Muslims are not willing to sacrifice, we consider donating $20 a "sacrifice."  Why are we not willing to sacrifice ?  For the same reason, fear of death. We love life so much, we think we will live forever.  We have to understand that fear of poverty and fear of honourable death makes cowards out of men.  One of the casualties of our fear of honourable death is that we become afraid of saying the truth.  We are now in the month of fasting.  This is the truth, but when a Muslim ruler of a Muslim country said that fasting is an obstacle to economic development and it should be abolished, very few objected.  When a Muslim ruler described the hijab of the women as a "filthy rag" no one objected.  When another muslim ruler said that hijab was "an act of satan" because Eve had no clothes at all, no one objected.  Actually, the only reaction to this particular comment was a wave of applause from the audience who happened to be members of parliament of another Muslim country! In Islam, keeping silence when one should protest is a sin, but why no one protested? Because life is so dear to Muslims. Muslims assume they will live for too long.  The irony is that Muslims countries, by and large, have the lowest life expectancy rates on earth !

To sum up, I would remind myself and my dear brothers and sisters that death is a reality and we have to always be prepared for it.  Please, don't assume that we will live for too long. we usually think that we will live for too long especially if we are young and healthy.  This is not true. Young people die everyday and for a variety of reasons.  I myself have 2 friends who died in their twenties.  One was about 24 the other was 27 and this one was very healthy indeed.  i graduated in the class of 1986, so far I have been told of 2 the graduates of my 1986 class who already died.  No one has immunity against death.  No one is too heathy to die, or too young to die or too wealthy to die or too powerful to die or too famous to die.

The question that we should always ask ourselves is not whether we are going to die, it is what preparations are we making to die as good Muslims ?  We should always be ready, we should always struggle to improve ourselves until we become the best persons we can be.  We should humble ourselves in our prayers.  Read the Quran more and reflect upon what we read more, we should help others, we should pay more in charity we have to get rid of our greed and selfishness.  We have to love to others what we love to ourselves.  And also we have to sacrifice for the sake of allah by spending from our wealth, our time, our efforts and if the need arises by our lives.  We have to remember to repent everyday and during and after every prayer.

Finally, the best way to remember death is to read the Quran. We have to read Quran everyday.  This is major source of spiritual power in Islam.

Ameen!

ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے

 


آئے دن ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ پیدا ہو رہے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں وفات پا رہے ہیں ، دنیا میں ہرآنے والا یہاں سے جا رہا ہے اس لئے اس بات میں کسی کو شک واختلاف نہیں کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہرکسی کو دنیا سے جانا ہے جیسا کہ الله تعالى کا فرمان ہے  ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ۔ جب اس دنیا میں آنے کے بعد ہمیں مرہی جانا ہے تو پھر اس دنیا کی کیا حقیقت ہے ، یہاں ہم کیوں آئے ہیں اور ہمیں دنیا میں کیا کرنا چاہئے ؟
یہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے یعنی ہمیں الله تعالى نے دنیا میں اس لئے بھیجا ہے کہ تاکہ ہم اس کی بندگی کریں اور اس نے جو صراط مستقیم دیا ہے اس پر چلتے ہوئے زندگی کریں ۔ الله تعالى کے سوا کسی کو بقا نہیں ہے ، یہاں ہرکسی کی زندگی متعین وہ محدود ہے جب اس کی زندگی کا متعین دن آجاتا ہے وہ اس دن یہاں سے کوچ کر جاتا ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ یہ دنیا ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ مسافر کی طرح چند لمحہ بسر کرنے کی جگہ ہے ،ہمارا اصل ٹھکانہ آخرت ہے اور ہمیشہ رہنے والی ہے ، الله تعالى کا فرمان ہے : يَا قَوْمِ إِنَّمَا هَٰذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ(غافر:39)
ترجمہ : اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے، یقین مانو کہ قرار اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے۔
بلکہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی گھڑی بھر کا ٹھکانہ ہے ، الله تعالى کا فرمان ہے :
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ اللَّهِ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ (یونس:45)
ترجمہ : اور ان کو وہ دن یاد دلائیےجس دن الله تعالى ان کو اپنے حضور جمع کرے گا تو ان کو ایسا محسوس ہوگا کہ گویا وہ دنیا میں سارے دن کی ایک آدھ گھڑی رہے ہوں گے اور آپس میں ایک دوسرے کو پہچاننے کو ٹھہرے ہوں ، واقعی خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے الله تعالى کے پاس جانے کو جھٹلایا اور وہ ہدایت پانے والے نہ تھے۔

کیا ہم نہیں دیکھتے کہ دنیا میں ایک سے بڑھ کر ایک دنیا دار آیا ، فرعون آیا، قارون آیا، ہامان وشداد آیا مگر کسی کو اپنی فوج ، طاقت، سلطنت اور دنیا نے نہیں بچایا آخرکار دنیا چھوڑ کر سب کو جانا ہی پڑااس لئے کافر لوگ بھی موت سے انکار نہیں کرتے مگر وہ موت سے نصیحت نہیں لیتے اور مرنے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرتے ہیں ، الله تعالى کا فرمان ہے :
زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا ۚقُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۚ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (التغابن:7)
ترجمہ : کافروں کا خیال یہ ہے کہ انہیں دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا ، آپ کہہ دیجئے ! کیوں نہیں الله  کی قسم ! تمھیں ضرور بلضرور اٹھایا جائے گا ، پھر جو کچھ تم نے کیا ہے اس کی تمھیں خبر دی جائے گی اور یہ کام الله تعالى پر انتہائی آسان ہے ۔
ہر مسلمان آخرت پر ایمان رکھتا ہے کیونکہ ایمان کے چھ ارکان میں ایک رکن آخرت پر ایمان لانا ہے بلکہ اس آیت کی روشنی میں سب پہلے ہمارے اوپر لازم ہے کہ ہم یہ یختہ عیقدہ بنائیں کہ اس دنیا سے وفات پاجانے کے بعد الله تعالى تعالی سارے انسانوں کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کرے گا اور سب کے عملوں کا حساب وکتاب ہوگا پھر آخرت سے متعلق قرآن وحدیث میں جتنی باتیں مذکور ہیں ان سب پر ایمان لانا ہے مثلا برزخ کی زندگی،قبر کی نعمتیں، قبر کا عذاب، اسرافیل علیہ السلام کا صور پھونکنا، قبروں سے دوبارہ زندہ ہوکرکھڑا ہونا، محشر میں سب کا جمع ہونا، الله تعالى کی عدالت قائم ہونا، حساب وکتاب، حوض کوثر، پل صراط اور جنت وجہنم میں داخلہ وغیرہ ۔
آخرت برحق ہے اور اس دنیا کی زندگی میں دراصل آخرت کی تیاری کے لئے ہی آئے اس لئے الله تعالى نے قرآن میں جابجا آخرت کی تیاری کا حکم دیا ہے ، الله تعالى کا فرمان ہے :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (الحشر:18)
ترجمہ : اے ایمان والو! الله تعالى سے ڈرتے رہو اور ہرشخص دیکھ لے کہ کل قیامت کے واسطے اس نے اعمال کا کیا ذخیرہ بھیجا ہے۔ اور ہروقت الله تعالى سے ڈرتے رہو ، الله تعالى تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔
سورہ اسراء کی ایک آیت میں الله تعالى نے آخرت کی فکر کرنے کے ساتھ اس کی بہتر تیاری کرنے والوں کو سعی مشکور(قدرکی جانے والی تیاری)کہہ کربشارت بھی دی ہے گویا وہاں فکرآخرت، تیاری اور نتیجہ تینوں بیان ہوا ہے، الله تعالى فرماتا ہے:
وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا (الاسراء:19)
ترجمہ : جس نے آخرت کی فکر کی اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہئے وہ کرتا بھی ہو اور وہ باایمان بھی ہو پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی الله تعالى کے یہاں پوری قدردانی کی جائے گی ۔
ایک دوسری جگہ الله تعالى کا فرمان ہے:وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا (المزمل:20)
ترجمہ : اور جو نیکی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے الله تعالی کے یہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤگے ۔
اس آیت سے سبق ملتا ہے کہ کل کے لئے خرچ کرنےاور کسی قسم کی قربانی دینےسے گریز نہیں کرنا چاہئے بلکہ آخرت میں بہتر بدلہ پانے کی امید میں ہر قسم کی خیروبھلائی کرتے رہنا چاہئے۔
یہاں ایک افسوسناک پہلو ذکرکرکے مضمون کے اصل ہدف کی طرف آؤں گا ۔ ہمارے دین کی اصل اور اس کا لب لباب آخرت کی تیاری اور اس کے ذریعہ آخرت کی کامیابی حاصل کرنا ہے،یہاں کی تمام دینی کارگزاریوں کا اصل ہدف آخرت کی تیاری ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت فکر آخرت سے حددرجہ غافل ہے جس سے کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان بھی دوبارہ زندہ ہونے ، رب سے ملاقات کرنے اور آخرت کے حساب وکتاب کےمنکر ہوگئے؟۔انسانوں کی غفلت کی طرف الله تعالی نے بھی اشارہ کیا ہے ، الله رب العالمین کا فرمان ہے:

اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ (الانبیاء:1)
ترجمہ: لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے پھر بھی وہ بے خبری میں منہ پھیرے ہوئے ہیں۔
مذکورہ باتوں تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئےہمیں آخرت پر ایمان پختہ کرنے کے ساتھ اپنے اندر فکر آخرت پیداکرنےکی اشد ضرورت ہے ، آخر اسی بات سے ہم میں اور کافروں میں دنیاوی زندگی کے مقصد میں فرق ہے ، وہ آخرت سے غافل دنیا کو ہی مسکن سمجھ بیٹھے ہیں جبکہ ہمارے نزدیک اصل مسکن آخرت ہے۔چنانچہ میں سطورذیل میں چند اہم نکات ذکر کرناچاہتا ہوں جوفکر آخرت پیدا کرنے میں معاون ہوں گے ، ان شاء الله۔
(1)فکرآخرت پیداکرنے میں اہم رول اس احساس کا ہے کہ ہم ہمہ وقت اس شعورواحساس کے ساتھ جئیں کہ الله دیکھ رہا ہے ۔وہ ہمارے عملوں سے باخبر ہے ،اس سے چھپاکر ہم کوئی بھی کام انجام نہیں دے سکتے ہیں۔ الله تعالى کا فرمان ہے : أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى (العلق:14)
ترجمہ: کیا اسے نہیں معلوم کہ الله تعالى اسے خوب دیکھ رہا ہے ۔
اس احساس کے ساتھ جینے والا مسلمان ایمان کی حفاظت کرے گا، عمل صالحہ کی طرف گامزن رہے گا اور برائی کے انجام سے خوف کھاتے ہوئے اس سے بچنے کی کوشش کرتا رہے گا، گویا وہ ہمیشہ فکر آخرت اور اس کی تیاری میں لگارہے گا۔
(2) تقوی اختیار کرنے والا آخرت کے لئے فکرمند رہتا ہے اس لئے الله تعالى نے سفر آخرت کے لئے تقوی کا توشہ لینے کا حکم دیا ہے ، فرمان الہی ہے:
وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ(البقرۃ:197)
اوراپنے ساتھ سفر خرچ لے لیا کرو ، سب سے بہتر توشہ تقوی یعنی الله تعالی کا ڈر ہے۔
تقوی کی تعریف ہے:"التقوى هي الخوف من الجليل والعمل بالتنزيل والرضا بالقليل والاستعداد ليوم الرحيل"یعنی تقوی الله تعالى سے ڈرنے، اس کے حکم پر عمل کرنے ، تھوڑی چیز پر قناعت کرنے اور آخرت کی تیاری کرنے کا نام ہے ۔
آج انسان عمل سے کورا اور گناہوں کا رسیا الله تعالى سے بے خوف ہوجانے کی وجہ سے ہے ، جس کے دل میں خوف الہی ہو وہ آخرت کی فکر اور اس کی تیاری کرتا ہے ۔
(3) موت کو کثرت سے یاد کرنا اپنے اندر فکر آخرت پیداکرنے کے لئے بڑا معاون ذریعہ ہے ، موت دنیاوی زندگی کے خاتمے کا نام ہے ، پھر اس کے بعد آخرت کی منزل شروع ہوجاتی ہےاس لئے نبی ﷺ نے موت کو بکثرت یاد کرنے کا حکم دیا ہے ، آپ ﷺ کا فرمان ہے:
أَكثروا ذِكرَ هاذمِ اللَّذَّات يعني الموتَ(صحيح الترمذي:2307)
ترجمہ: لذتوں کو توڑنے والی چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرو۔
آپ ﷺ کے اس فرمان کا مقصد ہے کہ ہم دنیا کی عارضی لذتوں اور شہوتوں سے کنارہ کشی اختیار کریں، اللہ سے تعلق جوڑیں اور موت کو کثرت سے یاد کرکے موت کے بعد کی زندگی کی تیاری کریں ، اسی لئے متعدد اسلاف سے منقول ہے کہ نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے۔ویسے تو الله تعالى نے بڑے بڑے ظالم کو عبرتناک موت دی ہے لیکن ان سب میں فرعون کی موت کو خصوصی طورپر نشان عبرت بنایا ہے۔
(4) فکر آخرت پیداکرنے میں قبروں کی زیارت بھی اہم ذریعہ ہے، کسی کی موت سے بالفور نصیحت ملتی ہی ہے ساتھ ہی گاہے بگاہے قبرستان جاکران مرنے والوں کی قبروں سے بھی نصیحت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ انسان میں خوف الہی، نرم دلی اور فکر آخرت پیدا ہو، نبی ﷺ کا فرمان ہے:
كنتُ نهيتُكم عن زيارَةِ القبورِ ألا فزورُوها ، فإِنَّها تُرِقُّ القلْبَ ، و تُدْمِعُ العينَ ، وتُذَكِّرُ الآخرةَ ، ولا تقولوا هُجْرًا(صحيح الجامع:4584)
ترجمہ: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ، اب تم قبروں کی زیارت کرو کیونکہ یہ دلوں کو نرم کرتی ہے، آنکھوں سے خشیت کے آنسو بہاتی ہے اور آخرت یاد دلاتی ہے اور تم وہاں لغو بات نہ کرو۔
اس حدیث کے پس منظر میں عثمان رضی الله عنہ کی حالت پہ غور کریں ،آپ رضی الله عنہ جب کسی قبر پرجاتے تو اتنا روتے کہ داڑھی تر ہوجاتی ، آپ سے پوچھا جاتا کہ جنت و جہنم کے ذکر پہ آپ نہیں روتے اس پہ کیوں روتے ہیں ؟تو وہ جواب دیتے کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
إنَّ القبرَ أوَّلُ مَنازلِ الآخرةِ ، فإن نجا منهُ ، فما بعدَهُ أيسرُ منهُ ، وإن لم يَنجُ منهُ ، فما بعدَهُ أشدُّ منهُ قالَ : وقالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ : ما رأيتُ مَنظرًا قطُّ إلَّا والقَبرُ أفظَعُ منهُ(صحيح ابن ماجه:3461)
ترجمہ: آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سواگر کسی نے قبرکے عذاب سے نجات پائی تواس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے، عثمان رضی الله عنہ نے مزید کہاکہ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اورمنظر کو نہیں دیکھا.
قبراور قبرستان ایک بھیانک جگہ ہے ، وہاں اپنے ان دوست واحباب ، رشتے دار اور اعزاء واقرباء کی قبروں کو پاتے ہیں جن کے ساتھ زندگی کے یادگار لمحات گزارے ہوتے ہیں کیا ان کے بچھڑنے کا غم نہیں ہوتا اور ان کی جگہ خود بھی جانے کی فکر پیدا نہیں ہوتی ؟
(5) موت کے بعد جتنے بھیانک مرحلے اور ہولناک مناظر ہیں ان سب پہ غور کیا کریں ۔ ان اسباق کوکتابوں سے اور علماء کے بیانات سے دہرایا کریں ،اس عمل سے آخرت کی تذکیر ہوتی رہے گی اور اس کی فکر پیداہونے میں مدد ملتی رہے گی۔ موت کی سختی، عذاب قبر، محشر کی ہولناکی، نفسی نفسی کا عالم ، حساب کی سختی ، پل صراط کی حقیقت اور جہنمیوں کی بھوک وتڑپ اور شدید سے شدید عذاب کا مطالعہ کرکے یقینا ایک مسلمان تڑپ اٹھے گا اور آخرت کی پریشانیوں اور سختیوں سے بچنے کی فکر کرے گا۔
(6) آخرت کی فکر اور اس کی تیاری میں سب سے بڑی رکاوٹ دنیا کی محبت یا دنیا طلبی ہے ، یہ حقیقت بھی ہے کہ جس کی دنیا جس قدر وسیع اور کشادہ ہے اس کے اندر دینداری کی اتنی ہی قلت ہے اور جس کی دنیا چھوٹی ہوتی ہے اس کے پاس دین زیادہ ہوتاہے۔اس بات کو دوسرے الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس نے دین پر دنیا کو ترجیح دیدی اس نے آخرت کو بھلادیا ، اس حقیقت کو الله قرآن میں بایں الفاظ ذکر کررہا ہے ۔
بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَاوَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ (الاعلی:16-17)
ترجمہ:بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو جبکہ آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے ۔
ہمارے عملوں پر تعجب ہے کہ ہم دارفانی اور اس کے لمحہ بھر کی لذتوں کوابدی زندگی اور ابدی سکون وراحت پر ترجیح دیتے ہیں جبکہ الله اس دنیا کو مچھر کے پر برابربھی نہیں اہمیت دیتا ، سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:
لو كانتِ الدُّنيا تعدلُ عندَ اللهِ جناحَ بعوضةٍ ما سقى كافرًا منها شربةَ ماءٍ(صحيح الترمذي:2320)
ترجمہ: الله تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی وقعت اگر ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نہ پلاتا۔
(7) آخرت کی فکر اور اس کی تیاری میں ایک بڑی رکاوٹ دلوں کی سختی اور ان میں کفر ومعصیت کی آلودگی کا ہونا بھی ہے ۔ اگر ہم اپنے نفس کا تزکیہ اور دلوں کو کفر ومعصیت اوراخلاق رذیلہ سے پاک وصاف کرلیتے ہیں تو عبرت حاصل کرنے والی چیزوں سے ہمیشہ عبرت حاصل کرسکیں گے ورنہ دلوں کی سختی مانع عبرت کے علاوہ ترک واجبات اور فعل منکرات کا سبب بھی ہےاور الله کے یہاں وہی لوگ کامیاب ہوں گے جو اپنے نفس کو اخلاق رذیلہ سے اور دلوں کو شرک ومعصیت کی آلودگیوں سے پاک کریں گے جیساکہ الله کا فرمان ہے قد افلح من تزکی یعنی بے شک اس نے فلاح پالی جو پاک ہوگیا۔
(8) دنیا کی زندگی کو مسافر کی طرح گزاریں اس سے ہمارے اندرسے یہاں زیادہ دیر تک رہنے اور پرتعیش زندگی گزارنےکا خیال جاتا رہے گا اس کی جگہ دل میں ذکر الہی اور فکر عقبی پیدا ہوگی۔یہ حقیقت بھی ہے کہ دنیا میں ہر آنے والا آخرت کے سفر کا مسافر ہے ، اس حقیقت کو جو سمجھ لیتا ہے وہ خود کو دنیا میں مسافر ہی سمجھتا ہے اوردنیاکا ایک مسافر جس طرح اپنا سامان سفر تیار رکھتا ہے کہ نہ جانے کب کوچ کرنا پڑے اسی طرح آخرت کا مسافر دین و ایمان اورعمل وعقیدہ کے ساتھ تیار رہتا ہے کہ نہ جانے کب موت کی سواری آجائے اور آخرت کی طرف کوچ کرجانا پڑے ۔ فکر آخرت کے اسی تناظر میں نبی ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے :
كُن في الدُّنيا كأنَّكَ غَريبٌ أو عابرُ سبيلٍ وعدَّ نفسَكَ في أَهْلِ القبورِ(صحيح الترمذي:2333)
ترجمہ: تم دنیا میں ایسے رہو گویا تم ایک مسافر یا راہ گیر ہو، اور اپنا شمار قبر والوں میں کرو۔
جاہد کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما نے مجھ سے کہا: جب تم صبح کرو تو شام کا یقین مت رکھو اور جب شام کرو تو صبح کا یقین نہ رکھو، اور بیماری سے قبل صحت و تندرستی کی حالت میں اور موت سے قبل زندگی کی حالت میں کچھ کر لو اس لیے کہ الله کے بندے! تمہیں نہیں معلوم کہ کل تمہارا نام کیا ہو گا۔
اس حدیث میں دنیا سے بے رغبتی اور دنیاوی آرزوئیں کم رکھنے کا بیان ہے، مفہوم یہ ہے کہ جس طرح ایک مسافر دوران سفر کچھ وقت کے لیے کسی جگہ قیام کرتا ہے، تم دنیا کو اپنے لیے ایسا ہی سمجھو، بلکہ اپنا شمار قبر والوں میں کرو، گویا تم دنیا سے جا چکے، اسی لیے آگے فرمایا: صبح پا لینے کے بعد شام کا انتظار مت کرو اور شام پا لینے کے بعد صبح کا انتظار مت کرو بلکہ اپنی صحت و تندرستی کے وقت مرنے کے بعد والی زندگی کے لیے کچھ تیاری کر لو، کیونکہ تمہیں کچھ خبر نہیں کہ کل تمہارا شمار مردوں میں ہو گا یا زندوں میں۔(منقول ازشرح ترمذی اردو)
(9) قرآن کو تفکر وتدبر کے ساتھ پڑھنا اپنے اندرفکر آخرت پیداکرنے کا ذریعہ ہے ۔ الله کی کتاب ہی تو ہدایت کا سرچشمہ اور دنیا وآخرت میں کامیابی ضامن ہے ۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے ایک طرف ایمان میں زیادتی پیداہوتی ہے اور اعمال صالحہ کا داعیہ پیدا ہوتا ہے تو دوسری طرف الله کا خوف ، نیتوں کی اصلاح اور جہنم سے بچنے کی فکر دامن گیر ہوتی ہے،یہ دونوں کیفیات قرآن کے انذار وتبشیر سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب مومن ایمان وعمل اور اس کے بدلے جنت ونعمت کی بشارت پڑھتا ہے تو وہ شوق جنت میں اس کےحصول کی طرف آتا ہے اور جب الله تعالى کے عذاب ، جہنم اور نافرمانوں کے حالات پڑھتا ہے تو مارے خوف کے جہنم سے بچنے کی فکر کرتا ہے ۔ اس لئے ہمیشہ سمجھ کر قرآن کی تلاوت جاری رکھیں تاکہ جنت کا شوق اور جہنم کا خوف لگارہے ۔
(10) آخری پوائنٹ اس بات کا سدا احساس رہے کہ ہم مسلمان ہیں اور مرتے دم تک اس احساس کی حفاظت کرتے رہیں تاآنکہ موت آجائے ،ایک مسلمان کے سامنے مقصد تخلیق یعنی عبادت الہی رہنا چاہئے اور خلوص کے ساتھ ، سنت کے مطابق الله تعالى کی بندگی کرتے رہنا چاہئے تاآنکہ موت آجائے ، ان دونوں باتوں کا الله تعالى نے ہمیں حکم دیا ہے ۔ اللہ کا فرمان ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (ِآل عمران:102)
ترجمہ:اے ایمان والو! الله تعالى سے اتنا ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہئے اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔
اور فرمان رب العالمین ہے:وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (الحجر:99)
ترجمہ:اوراپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔
یہ چند نکات تھے جو فکر آخرت پیدا کرنےمیں معاون ہوں گے ، ان کے علاوہ بھی بہت سارے نکات ان میں داخل کئے جاسکتے ہیں مثلا دلوں کو نرم کرنے والے اور ان میں خوف پیداکرنے والے سارے عملوں سے فکرآخرت کی ترغیب ملے گی حتی آخرت میں ملنے والے ہرقسم کے عیش وآرام سے بھی آخرت کی فکر پیدا ہوگی۔الله تعالی ہمارے اندر فکر آخرت پیدا کردے تاکہ ہم اس کی جیسی تیاری ہونی چاہئے کرسکیں اور آخرت میں نجات پاسکیں۔


AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...