آپکو کیا لگتا ہے ... آپکے مرنے کے بعد آپکے رشتےدار آپکے دوست آپکی اولاد آپکے بہن بھائی قرآن پڑھ پڑھ کے آپکو بخشوا لیں گے؟
یہ اولادیں آپکے لیے قرآن پڑھیں گی ... جو آج آپکے کہنے پر نماز پڑھنے نہیں اٹھتی, یہ رشتےدار آپکے لیے دعا کریں گے ... جن سے آپکی لڑایاں ہی ختم نہیں ہوتیں؟
یہ دوست, یہ بہن بھائی آپکے لیے صدقہ خیرات کریں گے جو عید کے عید ملتے ہیں ؟
میں تو کہتا ہوں کہ خلوص کے زمانے گزر گئے ہیں۔ اب یہ افراتفری کا دور ہے۔ یہاں لوگ زندوں کو بھولے بیٹھے ہیں۔ مرنے کے بعد کون یاد رکھے گا اس لیے اپنی آخرت کی فکر خود eکریں۔ اپنے لیے قرآن خود پڑھیں۔ یقین مانے یہی عقلمندی ہے۔
کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ محروم کون ہے ؟
چلیں میں بتاتا ہوں محروم وہ ہے۔ جسے علم ھو کہ اشراق/چاشت کا وقت تقریباً 6 گھنٹے ھے اور وہ 2 رکعتیں نہ پڑھ سکے جو کہ انسانی جسم کے 360 جوڑوں کا صدقہ ھیں۔
[Al-Bukhari and Muslim].
In Muslim, it is reported on the authority of 'Aishah (May Allah be pleased with her) that Messenger of Allah (ﷺ) said, "Everyone of the children of Adam has been created with three hundred and sixty joints; so he who declares the Glory of Allah (i.e., saying Allahu Akbar), praises Allah (i.e., Al-hamdu lillah), declares Allah to be One (i.e., La ilaha illallah), glorifies Allah, and seeks forgiveness from Allah (i.e., Astaghfirullah), and removes stone, or thorn, or bone from people's path, and enjoins good and forbids evil, to the number of those three hundred and sixty, will walk that day having rescued himself from Hell".
ورواه مسلم أيضاً من رواية عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إنه خلق كل إنسان من بني آدم على ستين وثلاثمائه مفصل، فمن كبر الله، وحمد الله، وهلل الله، وسبح الله واستغفر الله، وعزل حجراً عن طريق الناس أو شوكة أو عظماً عن طريق الناس، أو أمر بمعروف أو نهى عن المنكر، عدد الستين والثلاثمائة، فإنه يمسي يومئذ وقد زحزح نفسه عن النار".
| Reference | : Riyad as-Salihin 122 |
| In-book reference | : Introd |
محروم وہ ہے۔ جسے علم ھو کہ رات تقریباً 11 گھنٹوں کی ھے اور وہ تہجّد کی 2 رکعت بھی نہ پڑھ سکے جس میں تقریبا 5 منٹ لگتے ہیں۔
محروم وہ ہے۔ جسے علم ھو کہ دن اور رات میں 24 گھنٹے ھوتے ھیں اور وہ قرآن کریم کے ایک رکوع کی بھی تلاوت نہ کر سکے۔ جس میں محض 2 منٹ لگتے ہیں۔
یقیناً محروم وہ ہے۔ جسے علم ھو کہ زبان تھکتی نہیں اور وہ دن بھر میں بالکل بھی الله کا ذکر نہ کرے۔
( أستغفر الله ربّی من کلِّ ذنبٍ وّ أتوب إليه )
یہ زندگی اسی طرح سے گزر رھی ھے اور ہم اپنے آپ سے غافل ھیں اور اپنے وقت کو ضائع کرتے جا رھے ھیں ۔
یا اَلله ... ہم ان محرومیوں سے تیری پناہ مانگتے ھیں۔

No comments:
Post a Comment