قرآنِ مجید میں پردے کے احکام
عورت کے پردے کے بارے میں اکثر لوگ یہ خلط ِ مبحث کرتے ہیں کہ وہ ستر اور حجاب میں فرق نہیں کرتے، جب کہ شریعت ِاسلامیہ میں ان دونوں کے الگ الگ احکام ہیں ۔ عورت کا ستر یہ ہے کہ وہ اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے سوا اپنا پورا جسم چھپائے گی جس کا کوئی حصہ بھی وہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور کے سامنے کھول نہیں سکتی۔ ستر کا یہ پردہ ان افراد سے ہے جن کو شریعت نے مَحرمقرار دیا ہے اور ان محرم افرادکی پوری تفصیل قرآنِ مجید کی سورۂ نور کی آیت: ۳۱ میں موجود ہے اوران میں عورت کا باپ، اس کا بیٹا، اس کا بھائی، اس کا بھانجا اور اس کابھتیجا وغیرہ شامل ہیں ۔ ان محرم افراد سے عورت کے چہرے اور اس کے ہاتھوں کا پردہ نہیں ہے، البتہ ان کے سامنے عورت اپنے سر اور سینے کواوڑھنی یا دوپٹہ وغیرہ سے ڈھانپے گی۔ ستر(i) کے یہ احکام سورۂ نور میں اسی طرح بیان ہوئے ہیں :
وَقُل لِّلْمُؤْمِنَـٰتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَـٰرِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ ءَابَآئِهِنَّ أَوْ ءَابَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَآئِهِنَّ أَوْ أَبْنَآءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ إِخْوَٰنِهِنَّ أَوْ بَنِىٓ أَخَوَٰتِهِنَّ أَوْ نِسَآئِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُنَّ أَوِ ٱلتَّـٰبِعِينَ غَيْرِ أُولِى ٱلْإِرْبَةِ مِنَ ٱلرِّجَالِ أَوِ ٱلطِّفْلِ ٱلَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَىٰ عَوْرَٰتِ ٱلنِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ ۚ وَتُوبُوٓاإِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١﴾...سورۃ النور
''اے نبیؐ! آپ مؤمن عورتوں سے کہیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں ، اپنے ستر کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے خود بخود ظاہر ہوجائے او راپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہیں ۔ اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں کے سامنے، یا اپنے باپ کے، یا اپنے سسر کے، یا اپنے بیٹوں کے، یا اپنے شوہر کے بیٹوں کے، یا اپنے بھائیوں کے، یااپنے بھائیوں کے بیٹوں کے، یا اپنی بہنوں کے بیٹوں کے، یا اپنی عورتوں کے، یا اپنے لونڈی غلام کے، یا زیردست مردوں کے جو کچھ غرض نہیں رکھتے، یا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی باتوں سے ابھی ناواقف ہوں ۔ اس کے علاوہ وہ اپنے پاؤں زور سے نہ ماریں کہ ان کی مخفی زینت معلوم ہوجائے اور اے ایمان والو! تم سب مل کر اللہ کی طرف رجوع کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔''
گھر میں محرم مردوں کے سامنے عورت کے لئے پردے کی یہی صورت ہے۔ مگر عورت کا حجاب اس کے ستر سے بالکل مختلف ہے اوریہ وہ پردہ ہے، جب عورت گھر سے باہر کسی ضرورت کے لئے نکلتی ہے یا گھر کے اندر غیر محرم مردوں سے سامنا ہوتا ہے(ii)۔ اس صورت میں شریعت کے وہ احکام ہیں جو اجنبی مردوں سے عورت کے پردے سے متعلق ہیں ۔ حجاب کے یہ احکام قرآنِ مجید کی سورۂ احزاب کی دو آیات (59 اور54) میں بیان ہوئے ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت عورت جِلباب یعنی بڑی چادراوڑھے گی تاکہ اس کا پورا جسم ڈھک جائے، ایسے ہی چہرے پر بھی چادرکا ایک پلو ڈالے گی۔ اب وہ صرف اپنی آنکھ کھلی رکھ سکتی ہے، باقی پورا جسم چھپائے گی۔ یہ چہرے پر نقاب کا حکم ہے، اجنبی مردوں سے عورت کا یہ پردہ ہے جسے 'حجاب' کہا جاتا ہے۔ اُردو زبان میں اسے 'گھونگھٹ نکالنا' بھی کہتے ہیں ۔ اس کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے کہ
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِىُّ قُل لِّأَزْوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَـٰبِيبِهِنَّ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ...﴿٥٩﴾...سورۃ الاحزاب
''اے نبیؐ! اپنی بیویوں ، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں ۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور اُنہیں کوئی نہ ستائے۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔''
سب سے پہلے اس آیت کے اصل الفاظ پر غورکیجئے۔ اس میں ( یُدنین )کا لفظ آیا، جس کا مصدر اِدنائ ہے اور عربی زبان میں اس کے معنی 'قریب کرنے' اور 'لپیٹ لینے' کے ہیں مگر جب ا س کے ساتھ عَلی کا صلہ آجائے تو پھر اس میں اِرخاء کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے کہ 'اوپر سے لٹکا لینا'۔ دوسرا اہم لفظ جَلَابِیْبِھِنَّ ہے۔جَلابیب جمع ہے جلبابکی جس کے معنی رِدَاءیعنی 'بڑی چادر ' کے ہیں اور ا س کے ساتھ مِنْکا حرف آیا ہے جو یہاں تبعیض ہی کے لئے ہوسکتا ہے، یعنی چادر کا ایک حصہ۔ مطلب یہ ہے کہ عورتیں جب کسی ضرورت کے لئے گھر سے باہرنکلیں تو اپنی بڑی چادریں اچھی طرح اوڑھ لپیٹ لیں اور ان کا ایک حصہ یا ان کا پلو اپنے اوپر لٹکا لیاکریں ۔ اُردو زبان میں اسے گھونگھٹ نکالنا کہا جاتاہے۔ اِدْنَاءعَلی کے الفاظ کااستعمال عربی زبان میں اسی مفہوم کے لئے ہے۔ جب کسی عورت کے چہرے پر سے کپڑا سرک جائے تو اسے دوبارہ چہرے پر لٹکا لینے کے لئے عربی زبان میں یوں کہا جائے گا:
اَدْنِيْ ثَوْبَکِ عَلیٰ وَجْھِکِ
''اپنا کپڑا اپنے چہرے پر لٹکا لو۔''
اور جب ہم یہ کہتے ہیں کہ عورت کے لئے چہرے کے پردے اور کپڑا لٹکانے کا یہ حکم اجنبی مردوں سے متعلق ہے تو یہ مفہوم لینے کا واضح قرینہ اسی آیت کے ان الفاظ میں موجود ہے کہ
ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ...﴿٥٩﴾...سورۃ الاحزاب
یعنی جب عورتیں اپنے چہرے کا پردہ کریں اور چادر اوڑھیں گی تو اجنبی لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ شریف زادیاں ہیں ۔ اس طرح کسی بدباطن کو یہ جرأت نہ ہوگی کہ وہ ان کو چھیڑے یا ستائے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح پہچاننے کی اور چھیڑنے ستانے کی صورت گھر سے باہر کے ماحول ہی میں پیش آسکتی ہے۔
دوسرے یہ کہ بڑی چادر لینے کی ضرورت بھی عموماًگھر سے باہر ہوسکتی ہے، کیونکہ گھر میں اجنبی مردوں کی آمد شاذ ونادر ہی ہوتی ہے۔ گھر میں چونکہ اکثر محرم مردوں سے ہی سامنا ہوتا ہے، لہٰذا اس کے لیے عورت کے پردے کے بارے میں الگ سے حکم موجود ہے جو سورۂ نور کی آیت 31 میں اس طرح آیا ہے:{وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ}''اور عورتوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں ۔ '' گویا گھر کے اندر عورت کو چادر پہننے کی ضرورت نہیں ، صرف اوڑھنی کافی ہوسکتی ہے،کیونکہ گھر میں اجنبی مردوں سے بہت کم سامنا ہوتا ہے اورجب وہ گھر سے باہر نکلے گی تو بڑی چادر اوڑھے گی جس کا ایک حصہ اپنے چہرے پر بھی ڈال لے گی۔(iii)
اُمت ِمسلمہ کے تمام جلیل ُالقدر مفسرین نے سورۂ احزاب کی اس آیت کا یہی مفہوم بیان کیا ہے :
1 حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس کی جو تفسیر بیان فرمائی ہے، اسے حافظ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ نے اپنی تفسیر میں اس طرح نقل کیا ہے کہ
أمراﷲ نساء المؤمنین إذا خرجن من بیوتھن في حاجة أن یغطین وجوھھن من فوق رؤسھن بالجلابیب ویبدین عینا واحدة
''اللہ نے مسلمان عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کام کے لئے گھروں سے نکلیں تو اپنی چادروں کے پلو اوپر سے ڈال کر اپنا منہ چھپالیں اور صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں ۔''
2 ابن جریر رحمة اللہ علیہ اور ابن منذر رحمة اللہ علیہ کی روایت ہے کہ محمد بن سیرین رحمة اللہ علیہ نے حضرت عبیدہ سلمانی سے اس آیت کا مطلب پوچھا۔( یہ حضرت عبیدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہوچکے تھے مگر حاضر خدمت نہ ہوسکے تھے۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں مدینہ آئے اور وہیں کے ہوکر رہ گئے۔ اُنہیں فقہ اور قضا میں قاضی شریح ؓکے ہم پلہ مانا جاتا تھا۔)اُنہوں نے جواب میں کچھ کہنے کی بجائے اپنی چادر اٹھائی اور اسے اس طرح اوڑھاکہ پورا سر او رپیشانی اور پورا منہ ڈھانک کر صرف ایک آنکھ کھلی رکھی۔
3 امام ابن جریر طبری رحمة اللہ علیہ نے اپنی تفسیر جامع البیان (ج22؍33) پر اسی آیت کے تحت لکھا ہے کہ
''شریف عورتیں اپنے لباس میں لونڈیوں سے مشابہ بن کر گھر سے نہ نکلیں کہ ان کے چہرے اور سر کے بال کھلے ہوئے ہوں ، بلکہ اُنہیں چاہئے کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کا ایک حصہ لٹکا لیا کریں تاکہ کوئی فاسق ان کو چھیڑنے کی جرأت نہ کرے۔''
No comments:
Post a Comment