{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ} [الذاريات : 56]
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں
قوموں کا عروج و زوال، اسباب و عوامل کے ضابطوں کے اُسی طرح تابع ہے جس طرح افراد۔ فرد کو اپنی بدعملی کی پاداش میں جس طرح دنیا اور آخرت میں خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اسی طرح قومیں اپنی فکر و نظر کی گمراہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کیمستحق قرار پاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مطابق اپنی فکر و عمل کو ڈھالنے والی قوم اس کے انعامات کی حقداربنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اصولوں کا اعلان بار بار اپنے رسولوں کی معرفت کردیا ہے:
{وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ ۖ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ}
[ابراهيم : 7]
اور (یاد کرو) جب تمہارے رب نے آگاہ فرمایا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تمناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناً سخت ہے۔‘‘ (ابراہیم:۷)
قوموں کے عروج و زوال کے یہ اصول اس قدر اٹل ہیں کہ کوئی قوم بھی اپنی فکر و نظر کی گمراہی اور بدعملی کی پاداش سے نہ بچ سکی۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت ختم ہوگئی تو کوئی تدبیر انہیں اللہ کے عذاب کی گرفت سے محفوظ نہ رکھ سکی کیونکہ:
لَا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [يونس : 64]
’’اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں ۔‘‘ (یونس:۶۴)
وَلَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِيلًا} [الإسراء : 77]
’’اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پاؤ گے ۔‘‘
(الاسراء:۷۷)
{سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا} [الأحزاب : 62]
’’یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے ۔‘‘ (الاحزاب:۶۲)
ان اصولوں کو ذہن میں رکھ کر جب ہم قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس کے اوراق میں ہمیں متعدد قوموں کے عروج و زوال کیداستانیں ایک عبرت انگیز پیرائے میں بکھری ہوئی ملتی ہیں۔ قرآن اپنے قاری سے مطالبہ کرتا ہے کہ قوموں کی داستانوں کو محضقصے کہانیاں سمجھ کر ان سے سرسری انداز میں نہ گزر جاؤ بلکہ دل کی آنکھیں کھول کر عبرت حاصل کرو۔ مغضوب اقوام پر ہرنازل شدہ عذاب کو محض فلسفیانہ نقطۂ نظر سے نہ دیکھواور ان کو موسموں کے تغیر و تبدل اور فطرت کے طبعی عوامل پر محمول نہکرو۔ عروج و سقوط کی ان داستانوں میں دراصل پاداشِ عمل کے اصول پنہاں ہیں۔ قرآن ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ ہم جب ان قصص کوپڑھیں تو اپنی روش کا بھی جائزہ لیں کہ کہیں ہم بھی اسی راستے پر تو گامزن نہیں ہوگئے جو تباہ کن اور ہولناک گھاٹیوں میں جاکرختم ہوتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں اور تباہی یقینی ہے:
{كَلَّا إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ () فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ ()} [عبس : 11-12]
’’ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے، جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے۔‘‘ (عبس:۱۱۔۱۲)
قرآن کا مقصد ہے کہ انسان ماضی کے آئینے کو سامنے رکھ کر اپنے حال اور مستقبل کی اصلاح کرے اور سلامتی کا راستہ یہی ہےکہ خدا کی باغی قوموں کی روش ترک کرکے انبیاء کرام کی لائی ہوئی ہدایت کو مشعل ِ راہ بنایا جائے۔ قرآن پاک کی اس آئینہ نمائیکی چند جھلکیاں ذیل میں ملاحظہ ہوں:
{أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ ۖ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ} [الروم : 9]
’’اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سےزیادہ طاقتور تھے اور زمین میں ان سے زیادہ زبردست آثار چھوڑ گئے ہیں مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور اُن کو اللہسے بچانے والا کوئی نہ تھا ۔‘‘ : [الروم : 9
{ أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۗ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ اتَّقَوْا ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ}
[يوسف : 109]
’’پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام انہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟‘‘ (یوسف:۱۰۹)
{قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِينَ} [النمل : 69]
’’کہو، ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے ۔‘‘ (النمل:۶۹)
{ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ} [الأعراف : 103]
’’پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔‘‘
(الاعراف:۱۰۳)
{فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَمَن مَّعَهُ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنَاهُمْ خَلَائِفَ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنذَرِينَ} [يونس : 73]
’’اور ان سب لوگوں کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا پس دیکھ لو کہ جنہیں متنبہ کیا گیا تھا ( پھر بھی وہ نہمانے) اُن کا کیا انجام ہوا۔‘‘ (یونس:۷۳)
{وَاسْتَكْبَرَ هُوَ وَجُنُودُهُ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ إِلَيْنَا لَا يُرْجَعُونَ ) فَأَخَذْنَاهُ وَجُنُودَهُ فَنَبَذْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ ۖ فَانظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظَّالِمِينَ () [القصص : 39-40]
’’اُس نے (یعنی فرعون نے) اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھیہماری طرف پلٹنا نہیں ہے ۔آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کاکیسا انجام ہوا ۔‘‘ (القصص:۳۹۔۴۰)
{أَلَمْ يَأْتِهِمْ نَبَأُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَقَوْمِ إِبْرَاهِيمَ وَأَصْحَابِ مَدْيَنَ وَالْمُؤْتَفِكَاتِ ۚ أَتَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ ۖ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ}
[التوبة : 70]
’’کیا اِن لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی؟ نوحؑ کی قوم، عاد، ثمود، ابراہیمؑ کی قوم، مدین کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیںالٹ دیا گیا؟ اُن کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنےاوپر ظلم کرنے والے تھے ۔‘‘ (التوبہ:۷۰)
{وَتِلْكَ عَادٌ ۖ جَحَدُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهُ وَاتَّبَعُوا أَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ) وَأُتْبِعُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ أَلَا إِنَّ عَادًا كَفَرُوا رَبَّهُمْ ۗ أَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُودٍ ()
[هود : 59-60]
’’اور یہ تھے عاد، اپنے رب کی آیات سے انہوں نے انکار کیا، اس کے رسولوں کی بات نہ مانی، اور ہر جبار دشمن حق کی پیروی کرتےرہے۔ آخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی (پڑے گی)۔
(ہود:۵۹۔۶۰)
{فَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَاهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَقَصْرٍ مَّشِيدٍ (45) أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَتَكُونَ لَهُمْ قُلُوبٌ يَعْقِلُونَ بِهَا أَوْ آذَانٌ يَسْمَعُونَ بِهَا ۖ فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ ()
[الحج : 45-46]
’’کتنی ہی خطاکاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور کتنے ہیقصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں ۔کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سننے والے ہوتے؟حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں ۔‘‘ الحج:۴۵۔۴۶
{وَلَقَدْ أَتَوْا عَلَى الْقَرْيَةِ الَّتِي أُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ ۚ أَفَلَمْ يَكُونُوا يَرَوْنَهَا ۚ بَلْ كَانُوا لَا يَرْجُونَ نُشُورًا
[الفرقان : 40]
’’اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی کیا انہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہو گا؟ مگر یہموت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔‘‘
(الفرقان:۴۰)
{أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ (6) إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ (7) الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ (8) وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ (9) وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ (10) الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ (11) فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ (12) فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ (13) إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ (14)}
[الفجر : 6-14]
’’تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا اونچے ستونوں والے عادِ ارم کے ساتھ، جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میںپیدا نہیں کی گئی تھی؟ اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں؟ اور میخوں والے فرعون کے ساتھ؟ یہ وہ لوگ تھےجنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا۔ آخرکار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑابرسا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب (سرکشوں اور نافرمانوں کی) خوب تاک میں ہے ۔‘‘ (الفجر: ۶؍تا۱۴)
اللہ تعالیٰ نے قوموں پر دنیوی عذاب کی مختلف صورتیں بیان کی ہیں۔ ذیل میں اختصار کے ساتھ اُن کی وضاحت پیش کی جاتیہے:
(۱) نوح علیہ السلام کی قوم
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تمام آسائشوں سے نوازا اس کے باوجود یہ بدبخت قوم شرک جیسی عظیمگمراہی میں مبتلا ہوگئی۔ پھر اس قوم کے اندر شرک کے باعث دوسری بے شمار اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی گمراہیوں نے جنم لیا۔اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی فہمائش کے لئے حضرت نوح ؑ کو مبعوث کیا۔ آپؑ ساڑھے نوسو برس تک اپنی قوم کی اصلاح کی کوشش کرتےرہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کی ایک ہی پکار تھی کہ:
{لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَٰهٍ غَيْرُهُ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ}
[الأعراف : 59]
’’اے برادران قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتاہوں۔‘‘ (الاعراف:۵۹)
اس کے جواب میں قوم کے سرمایہ دار اور خوشحال لوگوں نے اُن کا تمسخر اڑایا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو گمراہ کن نظریات سےتعبیر کیا اور الزام لگایا کہ وہ اِن نظریات کے ذریعے اپنی قوم پر برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے یہاعتراضات نقل فرمائے ہیں:
{قَالَ الْمَلَأُ مِن قَوْمِهِ إِنَّا لَنَرَاكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ}
[الأعراف : 60]
’’ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔‘‘ (الاعراف:۶۰)
{ مَا هَٰذَا إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُرِيدُ أَن يَتَفَضَّلَ عَلَيْكُمْ
[المؤمنون : 24]
’’یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا اِس کی غرض یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے۔‘‘
(مومنون:۲۴)
اور یوں اُس قوم کے سرمایہ داروں اور سرداروں نے حضرت نوح علیہ السلام کی اصلاح کی کوششوں کی بے حد مخالفت کی۔ وہسرکشی اور بغاوت میں اس حد تک بڑھ گئے کہ انہوں نے حضرت نوحؑ کو سنگسار کردینے کی دھمکی دی:
{قَالُوا لَئِن لَّمْ تَنتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ}
[الشعراء : 116]
’’اے نوحؑ، اگر تو باز نہ آیا تو تُو ضرور سنگسار کردیا جائے گا۔‘‘ (الشعراء:۱۱۶)
اور ان ظالموں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہماری گمراہیوں اور بداعمالیوں کی پاداش میں جس عذاب کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو وہ لےآؤ:
{قَالُوا يَا نُوحُ قَدْ جَادَلْتَنَا فَأَكْثَرْتَ جِدَالَنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ} [هود : 32]
’’ اُن لوگوں نے کہا کہ اے نوحؑ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا۔ اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگرتم سچے ہو۔‘‘ (ہود:۳۲)
آخر اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کو دی ہوئی مہلت ختم کردی۔ حضرت نوح ؑ صدیوں اس قوم کو اللہ کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرتےرہے اور ہدایت ِ الٰہی کے مطابق ان کے نظریات کی تطہیر کیلئے کوشاں رہے لیکن جب وہ اپنے خودساختہ اور گمراہ نظریات اور شرکپر مبنی اعمال پر زیادہ متشدد ہوگئے اور ان کی اصلاح اور نصیحت پزیری کی کوئی صورت باقی نہ رہی تو اللہ کے عذاب نے انہیں آلیا کہ اسے تو آنا ہی تھا۔
عذاب کیا آیا، ایسی ایسی جگہوں سے عذاب الٰہی کے چشمے پھوٹ پڑے جہاں سے اس کے آنے کا وہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ایک ایسا ہولناک سیلاب ان پر چھا گیا کہ اس خطہ ٔ زمین کا کوئی مجرم اپنی جان نہ بچا سکا۔ خود حضرت نوح علیہ السلام کےسرکش اور نافرمان بیٹے نے بھاگ کر پہاڑوں پر پناہ لینے کی کوشش کی مگر خدا کے عذاب کی موجوں نے اُس پہاڑ کی بلندی پر بھیجا کر گھیر لیا۔ پھر حضرت نوح علیہ السلام کی نگاہوں کے سامنے طوفان نے اسے نگل لیا ۔

No comments:
Post a Comment