Friday, August 26, 2022

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا

 

حدیث کے مطابق وضوء اور سارے سر کا مسح

صحيح البخاري
باب مسح الرأس كله:
باب: اس بارے میں کہ پورے سر کا مسح کرنا
حدیث نمبر: 185
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ جَدُّ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى:‏‏‏‏ أَتَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ:‏‏‏‏ نَعَمْ،"فَدَعَا بِمَاءٍ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَهُ فَغَسَلَ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ بَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ حَتَّى ذَهَبَ بِهِمَا إِلَى قَفَاهُ ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي بَدَأَ مِنْهُ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے عمرو بن یحییٰ المازنی سے خبر دی، وہ اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ جو عمرو بن یحییٰ کے دادا ہیں، سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح وضو کیا ہے؟ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں! پھر انہوں نے پانی کا برتن منگوایا پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر ڈالا اور دو مرتبہ ہاتھ دھوئے۔ پھر تین مرتبہ کلی کی، تین بار ناک صاف کی، پھر تین دفعہ اپنا چہرہ دھویا۔ پھر کہنیوں تک اپنے دونوں ہاتھ دو دو مرتبہ دھوئے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا۔ اس طور پر اپنے ہاتھ (پہلے) آگے لائے پھر پیچھے لے گئے۔ (مسح) سر کے ابتدائی حصے سے شروع کیا۔ پھر دونوں ہاتھ گدی تک لے جا کر وہیں واپس لائے جہاں سے (مسح) شروع کیا تھا، پھر اپنے پیر دھوئے۔

Narrated Yahya Al-Mazini: A person asked `Abdullah bin Zaid who was the grandfather of `Amr bin Yahya, "Can you show me how Allah's Apostle used to perform ablution?" `Abdullah bin Zaid replied in the affirmative and asked for water. He poured it on his hands and washed them twice, then he rinsed his mouth thrice and washed his nose with water thrice by putting water in it and blowing it out. He washed his face thrice and after that he washed his forearms up to the elbows twice and then passed his wet hands over his head from its front to its back and vice versa (beginning from the front and taking them to the back of his head up to the nape of the neck and then brought them to the front again from where he had started) and washed his feet (up to the ankles).
USC-MSA web (English) Reference: Volume 1, Book 4, 
Number 185
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور سنن ابی داود میں حدیث ہے کہ :
أَنَّ مُعَاوِيَةَ رضي الله عنه تَوَضَّأَ لِلنَّاسِ كَمَا رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ ، فَلَمَّا بَلَغَ رَأْسَهُ غَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ فَتَلَقَّاهَا بِشِمَالِهِ حَتَّى وَضَعَهَا عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ حَتَّى قَطَرَ الْمَاءُ أَوْ كَادَ يَقْطُرُ ، ثُمَّ مَسَحَ مِنْ مُقَدَّمِهِ إِلَى مُؤَخَّرِهِ ، وَمِنْ مُؤَخَّرِهِ إِلَى مُقَدَّمِهِ .(ورواہ أبو داود (124) صححه الألباني في صحيح أبي داود .)
ترجمہ :
معاويہ رضى اللہ تعالى عنہ نے لوگوں كے سامنے اس طرح وضوء كيا جس طرح انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو وضوء كرتے ہوئے ديكھا تھا:

" چنانچہ جب وہ سر پر پہنچے تو ايك چلو پانى ليكر اپنے بائيں ہاتھ كو ملايا اور سر كے وسط ميں ركھا حتى كہ پانى كے قطرے گرنے لگے، يا قريب تھا كہ قطرے گريں، پھر انہوں نے سر كے شروع سے ليكر آخر تك اور آخر سے ليكر شروع تك مسح كيا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 124 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

1 comment:

  1. ماشاء اللہ جی بہت ہی عمدہ

    ReplyDelete

AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...