Wednesday, October 12, 2022

بدگمانی کرنے سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے

بد گمانی سے بچو

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قال: قال رسول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ [متفق علیہ]
’’ حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ گمان سے بچو کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔‘‘ (متفق علیہ)
صحیح بخاری میں پوری حدیث اس طرح ہے:
وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا 
’’ اور نہ ٹوہ لگاؤ، نہ جاسوسی کرو، نہ دھوکے سے (خرید و فروخت میں) بولی بڑھاؤ، نہ ایک دوسرے پر حسد کرو ، نہ ایک دوسرے سے دل میں کینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق 
تشریح:
1 قرطبی نے فرمایا کہ اس جگہ ظن سے مراد ایسی تہمت ہے جس کا کوئی سبب نہ ہو مثلا ایک آدمی کے بد کار یا شرابی ہونےکا خیال دل میں جما لینا حالانکہ اس سے ایسی کوئی بات سرزد نہیں ہوئی کہ اسے ایسا سمجھا جائے، اس لیے اس کے ساتھ فرمایا:
’’ ولا تجسسوا‘‘ 
’’جاسوسی مت کرو۔‘‘
کیونکہ جب کسی شخص کے برے ہونے کا خیال دل میں جگہ پکڑ لیتا ہے۔ حالانکہ اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی تو آدمی وہ بات ثابت کرنے کےلئے جاسوسی کرتا ہے ، ٹوہ لگاتا ہے، کان لگاتا ہے ، اس لیے اللہ تعالی نے اس سے منع فرما دیا-
یہ حدیث اس آیت سے بہت ملتی جلتی ہے-
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ [الحجرات: 49/ 12]
’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! بہت سے گمان سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں اور نہ جاسوسی کرو اور نہ تم میں سے بعض دوسرے کی غیبت کرے-‘‘
آیت میں مسلمان کی عزت کو محفوظ رکھنے کی بہت ہی زیادہ تاکید کی گئی ہے، چنانچہ پہلے تو کسی بھی مسلم بھائی کے معاملے میں خواہ مخواہ کے گمان سے منع فرمایا جس کا کوئی باعث اور کوئی سبب نہ ہو، اگر گمان کرنے والا کہے کہ میں اس گمانے کی تحقیق کے لئے جستجو کرتا ہوں تو اسے کہا گیا:
’’وَلَا تَجَسَّسُوا‘‘
’’ جاسوسی مت کرو۔‘‘
اگر وہ کہے جاسوسی کے بغیر مجھے یہ بات ثابت ہو گئی ہے تو کہا گیا :
﴿وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا﴾ 
’’ایک دوسرے کی غیبت (دوسرے بھائی کی عدم موجودگی میں وہ بات جو اسے ناپسند ہو خواہ اس میں موجود ہی ہو۔) مت کرو۔‘‘ (فتح الباری)
2 ظن کی دو حالتیں ہیں:
ایک ظن غالب جو کسی دلیل یا مضبوط علامت کے ساتھ قوی ہو جائے ، اس پر عمل کرنا درست ہے- شریعت کے اکثر احکام اسی پر مبنی ہیں- اور دنیا کے تقریبا تمام کام اسی پر چلتے ہیں، مثلا عدالتوں کے فیصلے،گواہوں کی گواہی، باہمی تجارت، ٹیلی فون اور خطوط کے ذریعے اطلاعات او رخبر واحد کےراویوں کی روایت وغیرہ ان سب چیزوں میں غور وفکر ، جانچ پڑتال اور پوری کوشش سے حاصل ہونے والا علم بھی ظن غالب ہے اور اس پر عمل واجب ہے، اسے ظن اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کی جانب مخالف ادنی سا امکان رہتا ہے، مثلا ہو سکتا ہے گواہ کی گواہی درست نہ ہو، اطلاع دینے والا جھوٹ بول رہا ہو، راوی کو غلطی لگی ہو وغیرہ لیکن اس امکان کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ اگر اس امکان پر جائیں تو دنیا کا کوئی کام ہو نہ نہ سکے، اس لیے اپنی پوری کوشش کے بعد دلائل سے جو علم حاصل ہو ، ظن غالب ہونے کے باوجود اس پر عمل واجب ہے-
دوسرا ظن وہ ہے جو دل میں آ جاتا ہے ، مگر اس کی کوئی دلیل نہیں ہوتی دلیل نہ ہونے کی وجہ سے دل میں اس کے ہونے یا نہ ہونے کی بات برابر ہوتی ہے اسے شک بھی کہتے ہیں یا اس کے ہونے کا امکان اس کے نہ نہ ہونے سے بھی کم ہوتا ہے، یہ وہم کہلاتا ہے- ظن کی یہ صورتیں مذموم ہیں اور ان سے اجتناب واجب ہے:
﴿إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
’’بے شک بعض گمان گناہ ہیں۔‘‘
سے یہی مرادہے اور اور 
﴿إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا﴾ [یونس: 36]
’’بے شک گمان حق کے مقابلہ میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔‘‘
اور 
﴿إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ﴾[النجم:23]
’’یہ لوگ صرف اپنے گمان اور اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں- میں اسی ظن کا ذکر ہے۔‘‘
3 . جیسا کہ اوپر گذرا حدیث میں ایسے ظن (گمان) سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے جو بے دلیل ہو مثلا ایک آدمی جو ظاہر میں صالح ہے ، اس کے عیوب پر اللہ کی طرف سے پردہ پڑا ہو ا ہے، عام مشاہدہ میں وہ عفیف اور امانت دار ہے اس کی بدنیتی یا گناہ گار ہونے کی کوئی دلیل یا علامت نہیں، اس وقت گمان بدگمانی حرام ہے- ہاں اگر گمان کرنے کی کوئی واقعی دلیل یا علامت موجود ہو تو اس وقت گمان منع نہیں، اس لیے اللہ تعالی نے ہر گمان سے منع فرمایا بلکہ فرمایا:
﴿اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ﴾
’’زیاد گمان سے بچو کیونکہ بعض گمان گنا ہ ہیں۔‘‘
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں فرمایا:
’’ما يجوز من الظن‘‘
’’جو گمان جائز ہیں۔‘‘
اور اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ حدیث ذکر کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مَا أَظُنُّ فُلَانًا وَفُلَانًا يَعْرِفَانِ مِنْ دِينِنَا شَيْئًا‘‘
’’میں فلاں اور فلاں کے متعلق گمان نہیں کرتا کہ وہ ہمارے دین میں سے کچھ بھی جانتے ہیں۔
لیث نے فرمایا:
یہ دونوں آدمی منافق تھے- انتہی‘‘
اس جائز گما سے وہ گمان مراد ہے جس کی علامات اور دلیلیں واضح ہوں۔
3 اگر دل میں کسی شخص کے برا ہونے کا خیال آئے مگر آدمی اسے اپنے دل میں جگہ نہ دے نہ ہی اس کا پیچھا کرے نہ اس کی غیبت کرے تو اس میں کوئی گناہ نہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا وَسْوَسَتْ أَوْ حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَكَلَّمْ‘‘
’’اللہ تعالی نے میری امت کو وہ باتیں معاف کر دی ہیں جو وہ اپنے دل سے کریں جب تک ان پر عمل نہ کریں یا زبان پر نہ لائیں۔‘‘
4 بد گمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے کیونکہ جب کوئی شخص کسی کے متعلق بد گمانی کرتا ہے تو وہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ شخص ایسا ایسا ہے، چونکہ حقیقیت میں وہ شخص ایسا نہیں ہوتا، اسے لیے اس کے اس فیصلے کو جھوٹ کہا گیا اور بد ترین اس لیے کہ اس نے بغیر کسی قرینے یا سبب کے محض نفس اور شیطان کے کہنے پر اسے برا قرار دیا ، جب کہ اس کے برا ہونے کی سرے سے کوئی بنیاد نہیں۔


قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے: ترجمہ ’’ اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو، بے شک بعض گمان ( ایسے) گناہ ہوتے ہیں (جن پر اُخروی سزا واجب ہوتی ہے)۔‘‘الحجرات،۹۴:۲۱

حضور نبی اکرم ﷺ نے درج ذیل احادیث مبارکہ میں بدگمانی کرنے کی مذمت اور ممانعت فرمائی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہؓ روایت کر تے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ بدگمانی کرنے سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے، ایک دوسرے کے ظاہری اور باطنی عیب مت تلاش کرو۔‘‘

(مسلم، الصحیح،۴:۵۸۹۱،رقم:۳۶۵۲)

سیدنا علی المرتضیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ جب بدگمانی دل میں گھر کر جاتی ہے تو یہ مصالحت و مفاہمت کے سب امکانات ختم کر دیتی ہے۔ یہ اخلاقی برائی انسان میں موجود بقیہ اخلاقی خوبیوں کو بھی نگل جاتی ہے ۔ ایسا شخص حقیقت و سچائی کا ادراک کرنے سے بھی محروم ہو جاتا ہے ۔

ضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ دو خیالات ہر انسانی دل میں چکر لگاتے رہتے ہیں ۔ ایک خیال اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے جو انسان کو نیکی اور سچائی کی طرف راغب کر تا ہے اور دوسرا خیال شیطان کی طرف سے ہے ۔ یہ انسان کو حق اور بھلائی سے روکتا ہے ۔ جس شخص کا دل بدگمانی میں مبتلا ہو ،شیطان ا س کے لیے کینہ ، بغض اور ٹوہ یعنی تجسس جیسے گناہ سرزد کروانے کے لیے راہ ہموار کرتا ہے ۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے خون ، اس کی عزت اور اس کے متعلق بدگمانی کو حرام کر دیاہے ۔‘‘  حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کر تی ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے اپنے بھائی کے متعلق بدگمانی کی اس نے اپنے رب کے متعلق بدگمانی کی۔ ‘‘

بدگمانی ایک ایسا گناہ ہے جس کے کرنے سے انسان دیگر گناہوں کی دلدل میں خود بخود پھنستا چلا جاتا ہے کیونکہ جب انسان کے دل میں کسی کے متعلق کوئی بُرا گمان آتا ہے پھر وہ اپنے گمان کی تصدیق کے لیے اس کی ٹوہ میں رہتا ہے، اس کی باتیں سنتاہے اور اس کے حالات کامشاہدہ کرتاہے ۔ بعض اوقات جاسوسی کرتا اور کرواتا ہے تاکہ اس کے ذہن میں اس شخص کے متعلق جو براگمان آیا تھا، اس کی تائید اور توثیق حاصل کر سکے ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی ﷺ نے بدگمانی کے بعد تجسس کرنے یعنی کسی کی ٹوہ میں لگے رہنے سے منع فرمایا ہے ۔

قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:ترجمہ’’ اور ( کسی کے عیبوں اور رازوں کی) جستجو نہ کیا کرو اور نہ پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی کیا کرو۔‘‘( الحجرات، ۹۴:۲۱)

حضرت ابن عباس ؓ روایت کر تے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو چھپایا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیب چھپائے گا اور جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب ظاہرکیے، اللہ تعالیٰ اس کے عیب کا پردہ چاک کر دے گا اور اس شخص کو اس کے گھر میں رسوا کر دے گا۔ (کشف الخفاء، ۲:۱۳۳)

مندرجہ بالا آیات اور احادیث مبارکہ میں جس بدگمانی اور تجسس سے منع کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اگر کسی شخص کا عیب صرف اس کی ذات تک محدود ہو تو اس سے متعلق کسی بھی طرح کی بدگمانی ، عیب جوئی اور تجسس کرنا منع ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کا عیب اجتماعی زندگی ، کسی ملک ، تنظیم یا ادارے کے لیے مضر ہو تو پھر اس کی تحقیق کرکے اس سے باز پرس کرنا اور اس کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے ۔ اسی طرح اگر کسی جگہ کام کرنے والے کسی شخص یا بعض افراد کے متعلق شبہ ہو کہ اس کی در پردہ سرگرمیاں ادارے اور کارکنان کے لیے نقصان دہ ہیں یا اس سے ادارے کی عزت، ساکھ اور سلامتی کو خطرہ ہے، تو ایسی صورت میں اس کو پرایا معاملہ سمجھ کر یا خود کو غیر جانب دار ثابت کرنے کے خیال میں خاموش نہ رہا جائے بلکہ اسے ادارے کے علم میں لانا ضروری ہے ۔  اس کے برعکس، کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بدگمانی جیسی مہلک بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں اور وہ ہمہ وقت اسی فکر اور جستجو میں رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طریقے سے دوسرے شخص کو بُرا بھلا کہا جائے یا کسی شعبے کو بدنام کیا جائے۔ اس سلسلے میں اسے ہر وہ شخص دیانت دار اور صاحب الرائے نظر آتا ہے جو اس کے مزاج کے عین مطابق ہو۔ پس یہیں سے کسی کے عیب کا کھوج لگانے کے لیے یہ لوگ لکڑیاں اور تیل مہیا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور اِدھر اُدھر سے معلومات حاصل کر تے رہتے ہیں ، جس میں بتانے والوں کی اپنی کدورتیں اور بدگمانیاں بھی شامل ہو جاتی ہیں۔ نتیجتاً کام میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے اور کارکنان گروپ بندی اور اختلافات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔

حضرت جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ کیا تمہیں بدترین انسان کے متعلق آگاہ نہ کروں؟ صحابہ کرام نے عرض کیا: جی یارسول اللہ، آپﷺ نے فرمایا،وہ چغل خور لوگ ہیں جو اچھے دوستوں کے درمیان تفرقہ ڈال دیتے ہیں۔‘‘ (علل الحدیث،۲: ۳۹۲،رقم:۷۸۳۲)

لہٰذا جب آپ کو ایسے بدگمان شخص سے کسی دوسرے شخص کے بارے میں کوئی ایسی معلومات ملیں جو کسی کے لیے نقصان دہ ہوں، تو آپ پر لازم ہے کہ کوئی رائے قائم نہ کریں کیوں کہ سماعت اور نظر میں دھوکے کا امکان بہر حال رہتا ہے اور حقیقت ویسے نہیں ہوتی جیسے آدمی سمجھ رہا ہوتا ہے ۔ ہر وہ خبر جس کے متعلق کوئی صحیح علامت اور گواہی موجود نہ ہو اس کے بارے میں بدگمانی کرنا حرام ہے اور اس بدگمانی سے اجتناب کرنا واجب ہے ۔لیکن ایسی بات یا خبر جس کے مثبت اور منفی پہلو نکل سکتے ہوں تو مسلمان کو حکم ہے کہ آپس میں حسنِ ظن سے کام لے کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’حسن ظن رکھنا حسن عبادت میں سے ہے۔‘‘

ابو دائود، السنن، کتاب الادب، باب فی حسن الظن ،۴:۸۹۲،رقم:۳۹۹۴)

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بدگمانی جیسی بدترین اخلاقی برائی کو کسی بھی صورت میں پیدا ہونے  کا موقع نہ دیں اور جہاں تک ممکن ہو حسنِ ظن اور باہمی اتفاق اور بھائی چارے کا ماحول پیدا کریں، تاکہ آقائے دو جہاں ﷺ کے حسب ارشاد بدگمانی پنپ نہ سکے ۔

No comments:

Post a Comment

AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...