بسم الله الرحمن الرحيم
اللہ تعالی فرماتا ہے :
يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (سورۃ البقرۃ 276)
ترجمہ :
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔ اور اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔ ( سورۃ البقرۃ ۲۷۶)
اس کی تفسیر میں مفسر علامہ عبد الرحمن کیلانی فرماتے ہیں :
اگرچہ بنظر ظاہر سود لینے سے مال بڑھتا اور صدقہ دینے سے گھٹتا نظر آتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ سود کے مال میں برکت نہیں ہوتی اور مال حرام بود بجائے حرام رفت، والی بات بن جاتی ہے اور صدقات دینے سے اللہ تعالیٰ ایسی جگہ سے اس کا نعم البدل عطا فرماتا ہے جس کا اسے خود بھی وہم و گمان نہیں ہوتا اور یہ ایسی حقیقت ہے جو بارہا کئی لوگوں کے تجربہ میں آچکی ہے تاہم اسے عقلی دلائل سے ثابت کیا جاسکتا ہے اور دوسری صورت کو علم معیشت کی رو سے ثابت بھی کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے جس معاشرہ میں صدقات کا نظام رائج ہوتا ہے۔ اس میں غریب طبقہ (جو عموماً ہر معاشرہ میں زیادہ ہوتا ہے) کی قوت خرید بڑھتی ہے اور دولت کی گردش کی رفتار بہت تیز ہوجاتی ہے جس سے خوشحالی پیدا ہوتی ہے اور قومی معیشت ترقی کرتی ہے اور جس معاشرہ میں سود رائج ہوتا ہے وہاں غریب طبقہ کی قوت خرید کم ہوتی ہے اور جس امیر طبقہ کی طرف دولت کو سود کھینچ کھینچ کرلے جارہا ہوتا ہے۔ اس کی تعداد قلیل ہونے کی وجہ سے دولت کی گردش کی رفتار نہایت سست ہوجاتی ہے جس سے معاشی بحران پیدا ہوتے رہتے ہیں، امیر اور غریب میں طبقاتی تقسیم بڑھ جاتی ہے اور بعض دفعہ غریب طبقہ تنگ آکر امیروں کو لوٹنا اور مارنا شروع کردیتا ہے آقا و مزدور میں، امیر اور غریب میں ہر وقت کشیدگی کی فضا قائم رہتی ہے جس سے کئی قسم کے مہلک نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔ انتہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور ۔۔ صدقات سے مال بڑھنے ۔۔ کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی آخرت میں اس صدقہ کا کئی گنا بڑھا کر اجر دیتا ہے
مَثَلُ الَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَـبْعَ سَـنَابِلَ فِيْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيْمٌ ٢٦١سورۃ البقرۃ
جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے جس سے سات بالیاں اگیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہے اس کا اجر اس سے بھی بڑھا دیتا ہے اور اللہ بڑا فراخی والا اور جاننے والا ہے ’’
اب صدقہ اور زکاۃ کے شرعی اور لغوی مفہوم کو دیکھئے :
الزكاة لغة : النماء والريع والبركة والتطهير .
انظر : " لسان العرب " (14 / 358 ) ، " فتح القدير " ( 2 / 399 ) .
زكاۃ كى لغوى تعريف:
النماء والريع، و البركۃ، والتطھير.
نمو، اور بڑھنا اور زيادہ ہونا، بركت، اور پاكيزگى ہے.
ديكھيں: لسان العرب ( 14 / 358 ) فتح القدير ( 2 / 399 ).
اور صدقہ کا لغوی معنی :
والصدقة لغة : مأخوذة من الصدق ؛ إذ هي دليل على صدق مخرجها في إيمانه (انظر : " فتح القدير " ( 2 / 399 )
یعنی صدقہ صدق اور سچائى سے ماخوذ ہے، كيونكہ يہ صدقہ كرنے والے كے ايمان كى سچائى اور صدق كى دليل ہے.
ديكھيں: فتح القدير ( 2 / 399 )
اور لفظ صدقہ کبھی زکاۃ کی جگہ بھی استعمال کیا جاتا ہے ، جیسا کہ ذیل کی آیت میں دیکھئے :
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (103سورۃ التوبہ)
(اے نبی مکرم ! ) آپ ان کے اموال سے صدقہ وصول کیجئے اور اس صدقہ کے ذریعہ ان (کے اموال) کو پاک کیجئے اور ان (کے نفوس) کا تزکیہ کیجئے، پھر ان کے لئے دعا بھی کیجئے۔ بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین کا باعث ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دیکھنے والا ہے
توضیح : ( خذ )کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صدقہ سے مراد فرض صدقہ یعنی زکوٰۃ ہے )
علامہ حافظ صلاح الدین یوسف صاحب تفسیر احسن البیان میں اس آیہ کے تحت لکھتے ہیں :
یہ حکم عام ہے۔ صدقے سے مراد فرض صدقہ یعنی زکٰوۃ بھی ہوسکتی ہے اور نفلی صدقہ بھی ۔
جناب نبی اکرم ﷺ کو کہا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے سے آپ مسلمانوں کو تطہیر اور ان کا تزکیہ فرما دیں۔ جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زکٰوۃ و صدقات انسان کے اخلاق و کردار کی طہارت و پاکیزگی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ علاوہ ازیں صدقے کو صدقہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ خرچ کرنے والا اپنے دعوائے ایمان میں صادق ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقہ کو بڑھاتا ہے
میں صدقہ سے مراد صدقہ و زکاۃ دونوں ہی ہوسکتے ہیں ، یعنی جس طرح فرضی زکاۃ کی ادائیگی سے مال و جائیداد میں بڑھوتی ہوتی ہے
اسی طرح نفلی صدقات سے بھی اموال و احوال میں برکت حاصل ہوتی ہے ،
جیسا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلاَ يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، وَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الجَبَلِ» (صحیح البخاری ،حدیث نمبر ۱۴۱۰ )
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں زیادتی کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے تاآنکہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے ۔

No comments:
Post a Comment