Friday, August 25, 2023

نظام ِحق کو چھوڑ دینے کے بعد گمراہی اور جہالت کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے،

 

 اسلام میں احکام شریعت کو ترجیح حاصل ہے، جو شخص اللہ و رسول کے حکم کو تسلیم نہیں کرتا اور کوئی دوسری رائے رکھتا ہے وہ منکر و کافر ہے
 

دین اسلام کی بنیادی اساس اللہ و رسول کے احکامات پر رضامندی، اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ اللہ و رسول کا حکم سنتے ہی اپنی گردن جھکا دینااور سر تسلیم خم کر دینا دین کی بنیادی اساس ہے۔ اسلام’’تسلیم ‘‘سے ہے یعنی قرآن و سنت، اللہ و رسول کے احکام کو تہہ دل سے تسلیم کرنا، ان کے ہرامر، ہر حکم اورہر فیصلے پر راضی ہونا اور کوئی دوسری رائے نہ رکھنا اسلام ہے۔
     دین اسلام میں احکام شریعت کو ترجیح حاصل ہے۔ جو شخص اللہ و رسول کے حکم، دین(نظام ِ حیات) کو تسلیم نہیں کرتا اور کوئی دوسری رائے رکھتا ہے وہ منکر و کافر ہے۔ ہر وہ شخص، ہر وہ جماعت ،گروہ اور تنظیم جس کا مرجع اول وآخر صرف کتاب اللہ وسنت رسول نہ ہو تو وہ مسلمان نہیں بلکہ اللہ کا منکر، رسول اللہ اوردین کا منکرہے اور کافر ہے۔ ہر وہ نظام کفر ہے جو اسلامی نظام کو چھوڑ کر اپنایا جائے۔ ہر وہ اصول کفر ہے، ہر وہ ضابطہ کفر ہے جو اسلامی ضابطہ حیات کو چھوڑ کر اپنایا جائے۔ہروہ معاشرہ کافر و منکر معاشرہ کو جو اسلامی اصول و ضوابط کا پابند نہیں۔ ہر وہ امر، ہر وہ حکم کفر ہے جو کتاب و سنت سے مطابقت و موافقت نہ رکھتا ہو۔
    عام طور پر ہم لوگ سمجھتے ہیں کہ جو کلمہ نہیں پڑھتا اور اس کا دل سے اقرار نہیں کرتا وہ کافر ہے گویا ہم اور ہمارا معاشرہ کلمہ کے اقراری کو مسلمان سمجھتا ہے خواہ اس کے اعمال جیسے بھی ہوں ۔ہماری نظر میں وہ مسلمان ہے۔ یہاں ایک سوال جنم لیتا ہے کہ کلمہ گو تو مسلمان ہو گیااور جو کلمہ کا اقراری ہو کر احکام کو نظر انداز کرے، حکم سے روگردانی کرے، نظر پھیرے، جی کترائے اور عمل سے گریز کرے ،اسے کیا کہیں گے؟ جو اللہ و رسول کا ماننے والا ہو کر اللہ و رسول کے احکامات کو ماننے والا نہ ہو، یا ان کے مطابقت عمل کرنے والا نہ ہو اسے کیا کہیں گے؟ جو قرآن و حدیث کے فرامین سن کر پس پشت پھینک دیں انہیں کیا کہیں گے؟ جو معاشرہ قرآن و سنت کا عامل ہو کر ان کے مطابق احکام جاری نہ کرے اس معاشرہ کو کیا کہیں گے؟
    ایک منٹ کیلئے علماء کے کافر سے متعلق معنی اور تعریف کو سائیڈ پر رکھ کر آؤ! ذرا ہم کتاب اللہ سے دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ کریم نے کافر کی تعریف کیا کی ہے؟ کسے کافر کہا ہے؟ کسے ظالم و جابر قرار دیا ہے؟ کسے فاسق و فاجر کا خطاب دیا ہے؟:
    وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْکَافِرُوْنَ۔
    "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام و قانون کے مطابق حکم نہ دیں وہی کافر ہیں۔" ( المائدہ  44)۔
    یہ صریح، واضح اور کھلا حکم ہے، کوئی متشابہات میں ڈھکی چھپی بات نہیں کہ کسی کی سمجھ میں نہ آئے۔ یہ قرآن کا کھلا اور واشگاف الفاظ میں نوٹس ہے ۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ یا اپنے رسول کے ذریعہ سے بتائے ہوئے احکام میں سے کسی ایک کا ترک کرنا بھی کفر ہے ۔
    اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے حکمران، ہمارے اولی الامر اللہ رب العزت کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم دے رہے ہیں؟کیا ہمارے اولی الامر کی طرف سے اللہ و رسول کے احکامات کی پیروی و اتباع کرنے اور کروانے کا کوئی پلان، کوئی اہتمام ، کوئی کوشش جو سرکاری سطح پر کی گئی ہو؟ کیا ہماری عدالتیں اللہ ور سول کی بنائی گئی شریعت، قوانین اور اصولوں کے مطابق حکم دے رہی ہیں؟ کیا ہماری عدالتیں قرآن وسنت کے مطابق عدل و انصاف پر مبنی فیصلہ سنا رہی ہیں؟کیا ہمارے محکمے، ہمارے ادارے قرآن و سنت اور شریعت مطہرہ کے اصولوں کے مطابق چل رہے ہیں یا ان کی تنفیذ کی تگ و دو میں ہیں؟ ہمارے اس خزاں رسیدہ معاشرہ میں ایسا کچھ نہیں ہو رہا ۔ کوئی حکومت، کوئی عدالت، کوئی محکمہ، کوئی ادارہ دین کی تنفیذ میں سنجیدہ نہیں ۔ صرف نام کے اسلامی ہونے کا لبادہ اڑے ہوئے ہیں، اندر اسلام والی کوئی بات نہیں۔ اب قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے تو واضح حکم صادر فرما دیا کہ جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق حکم نہ دیں وہی کافر ہیں۔ اس آیت مبارکہ کومد نظر رکھتے ہوئے ہم اور ہمارا مجموعی معاشرہ خود اپنا مشاہدہ و محاسبہ کر لے کہ وہ کہاں کھڑے ہیں؟کہیں یہ آیت مبارکہ ان کے کفر پر دلیل تو ثابت نہیں ہو رہی؟
    اب آگے اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ظالم کی بھی تعریف فرما دی کہ حقیقی ظالم کون ہے اور ظلم کیا ہوتا ہے؟ دنیا چاہے جسے ظالم کہتی پھرے،مگر قرآن کی نظر میں ظالم کون ہے مندرجہ ذیل آیت مبارکہ کھلے الفاظ میں بیان کر رہی ہے:
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ۔
    "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام و قانون کے مطابق حکم نہ دیں وہی ظالم ہیں۔"( المائدہ 45)۔
    اب ذرا اور آگے بڑھیں، اللہ جلاشانہ نے آگے فاسق و فاجر کی بھی تعریف و نشاندہی فرما دی کہ فاسق کون ہوتا ہے؟ فاسق و فاجر کی نشانی کیا ہے؟ ہم اور ہمارا معاشرہ تو اسے فاسق کہتا ہے جو گناہوں میں حد سے بڑھ گیا ہو۔مگر غور کریں کہ قرآن تو کچھ اور کو فاسق کہہ رہا ہے۔ذرا سنجیدگی سے اور کھلے دل سے سوچیں اور اپنا محاسبہ کریں کہ کہیں وہ ہم اور ہمارا مجموعی معاشرہ تو نہیں؟ کیا وہ فاسق ہم اور ہمارے حکمران، ہمارے محکمے اور اداروں کے نگران و ذمہ دار آفسران تو نہیں؟
    وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ۔
    "اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون و شریعت کے مطابق حکم نہ دیں، فیصلے نہ کریں وہی فاسق ہیں۔" ( المائدہ  47)۔
    قرآن کریم تو کھلے الفاظ میں نوٹس دے رہا ہے اور ہمار ی اس بڑے نوٹس پر نہ کوئی توجہ ہے نہ کوئی فکر،نہ کوئی ڈر اور خوف۔ اللہ رب العزت نے تو واضح فرما دیا کہ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں، جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں، جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔ قرآن کریم کے اس صریح اور واضح حکم کے باوجود ہم نہ کافر، نہ ظالم اور نہ ہی فاسق؟ اگر ہم نہیں تو بتائیں کہ قرآن کی ان آیات کی رو سے کافر کون ہے؟ ظالم کون ہے؟ اور فاسق کون ہیں؟جو لوگ حقیقی کافر ہیں ، سرے سے جن کا قرآن و حدیث پر ایمان ہی نہیں، ان کا معاملہ تو الگ ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیاکرے گا مگر جو مان کر، ایمان رکھ کر،یقین کر کے روگردانی کریں، جو ایک کان سے سنیں اور دوسرے سے نکال کر پس پشت پھینک دیں، جو زبان سے تو اقرار کریں کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت برحق ہے اور یقین بھی رکھیںمگر ان کے اعمال اس کے موافق نہ ہوں، ان کے کردار اس کے برعکس ہوں تو ان کا حشر یقینا بہت ہی برا ہو گا اور یہ حشر، ذلت و رسوائی، خواری و ناداری ہم دنیا میں ظاہری آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیںکہ آج دنیا میں سب سے ذلیل و خوار قوم مسلمان ہے۔دنیا کے جس کونے میں دیکھو ہم مسلمان ہی ذلیل و رسواء ہو رہے ہیں۔دین سے دوری اور بے یقینی اس کا سبب ہے۔
سن اے تہذیب ِ حاضر کے غلام
غلامی سے بد تر ہے بے یقینی
    آگے چل کراللہ کریم مزید ارشاد فرماتے ہیں کہ جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا ، ان کے مطابق عمل نہ کیا وہ آگ میں بند کر دئیے جائیں گے:
    وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِآٰ یَاتِنَا ھُمْ اَصْحَابُ الْمَشْئَمَۃِ ،عَلَیْھِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ  ۔
    "اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا( نہ مانا، ان کے مطابق عمل نہ کیا)وہی بائیں (یعنی) دوزخ والے ہیں، انہیں چاروں اطراف سے آگ میں بند کر دیا جائے گا۔"( البلد 20-19)۔
    آج دیکھیں دنیا میں کون ہر سو آگ میں بند ہے؟کس قوم پر ہر سمت آگ و آہن کی بارش ہو رہی ہے؟دنیا میں جس سمت دیکھو ہم مسلمانوں پر ہی آگ برس رہی ہے۔ اگر آج دنیا میں ہماری نظروں کے سامنے قرآن کی آیت سچ ثابت ہو رہی ہے اور آخرت تو ہے ہی احکام قرآن کو سچا ثابت کرنے کی،یہ قرآن کریم کی حقانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اللہ کریم نے فرمایا کہ جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا اور اس کے مطابق عمل نہ کیا وہ آگ میں بند کر دئیے جائیں گے،تو کیا آج دنیا کا منظر اس کی عکاسی نہیں کر رہا ؟ اگر آج دنیا میں ہم چار سو آگ میں بند ہیں تو ممکن ہے کہ آخرت میں بھی وہ ہم ہی ہوں غفلت و کوتاہی اور عدم اتباع کی وجہ سے؟ ممکن ہے ہمارا حشر ان سے بھی بد تر ہوجنہیں ہم کافر سمجھتے ہیں۔
    مندرجہ بالا آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذرا ہم اپنا محاسبہ کریں،اپنے جمہوری معاشرت و رہن سہن کو دیکھیں، اپنے طرزِ حیات اور اصول و ضوابط کو دیکھیں، اپنے نظام ِ سلطنت جمہوری نظام کو دیکھیں کہ کیا ہماری اس جمہوریت میں کتاب و سنت ِ رسول کے مطابق احکامات جاری کیے جا رہے ہیں؟ کیا یہ جمہوری نظام قرآن و سنت کے نفاذ کا حامی ہے یا اس کے لیے کوشش کر رہا ہے؟ اگر نہیں کر رہا تو یہ کفر ہے اور ہم سب اس کفر میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ ہم اس نظام کو ووٹ دیتے ہیں، سپورٹ کرتے ہیں جو قرآن و سنت کا حامی نہیں، جو کتاب اللہ کے نفاذ میں مخلص نہیں ۔ جس نظام کا قبلہ قرآن و سنت کے سوا کوئی اور ہواُس کے کفر ہونے میں کوئی شک نہیں ۔گویا ہم یہ جانتے ہوئے کہ یہ نظام ہمارے اسلامی اصول و ضوابط کے موافق نہیں ، یہ یقین رکھتے ہوئے بھی ہم دیدہ و دانستہ اسے سپورٹ کریں تو ہم کیا ہوئے؟ جمہوریت قرآن و سنت، اللہ و رسول کا واضح کردہ نظام ِسلطنت نہیں اور اس کے مطابق احکام جاری کرتا ہے تو یہ کفر ہے، شرک ہے اور شیطان کی عبادت ہے، جمہوریت کے پجاری شیطان کے پجاری ہیں۔
    کیا کسی شیطان کے ساتھ لفظ اسلام لگا دیا جائے تو وہ مشرف بہ اسلام ہو جاتا ہے؟ کیا کسی شیطانی و کافرانہ نظام کے ساتھ لفظ اسلام لگا دیا جائے تو وہ اسلامی نظام بن جاتا ہے؟ جیسے کسی کافرانہ نظام سوشلزم، لبرلزم، سیکولرزم کے ساتھ اسلام لگانے سے وہ نظام کفر ہی رہتا ہے تو پھر ایک کافرانہ نظام ِجمہوریت کے ساتھ اسلام لگانے سے وہ کیسے مشرف بہ اسلام ہو جائے گا؟ اگر کسی فاسق و فاجر شخص کے نام کے ساتھ لفظ محمد لگا دیا جائے تو کیا وہ شخص محمد کریم کے اوصاف کا حامل ہو جاتا ہے؟ اگر نہیں تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ ایک کافرانہ نظام جمہوریت کے اسلام لگاد ینے وہ نظام اسلامی اوصاف کا حامل نہیں ہو جا تا وہ نظام کفر ہی رہتا ہے۔ہمارے ہاں نظام کفر جمہوریت کے ساتھ لفظ اسلامی لگا ہے ، اسلامی جمہوریہ پاکستان۔ کیا اسلامی لفظ کے اضافہ سے جمہوریت مشرف بہ اسلام ہو کر پاک صاف ہو گئی ہے؟ کل اگر کوئی کافرانہ نظام سوشلزم کے ساتھ لفظ اسلامی دیتا ہے تو کیا وہ نظام بھی پاک ہو جائے گا؟ کل کلاں اگر اور کوئی شاطر دماغ اٹھ کر اسلامی سود کاری متعارف کروا دیتا ہے تو کیا وہ جائز ہو جائے گی؟ اگر کوئی اسلامی یہودیت اور اسلامی عیسائیت کا فلسفہ ایجاد کر لیتا ہے تو کیا اسے بھی قبول کر لیا جائے گا؟ آخرکار اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے استعمال کی گئی کتاب و سنت سے ثابت شدہ اصطلاحات اور صد فیصد کامیابی سے ہمکنار نظام ِخلافت اور نظام ِشورائیت سے پہلو تہی اختیار کرنے کی کیا وجہ ہے؟
    ہر مہذب اور باشعور قوم کا نظام ِ حیات اس کے بنیادی عقائد و نظریات ، اقدار و روایات، اصول و ضوابط اور نظریہ حیات کا آئینہ دار ہوتاہے اس لیے اگر آج مسلمانوں میں اسلامی نظام ِ حیات رائج نہیں تو ماننا پڑے گا کہ انہوں نے اسلام کو محض زبانی دعوئوں اور ایمان کے کھوکھلے نعروں کے علاوہ اسے ایک دین ، ایک مکمل ضابطہ حیات کی حیثیت سے قبول ہی نہیں کیا، اسے ایک کامل دین اور ایک مکمل نظام ِ ہائے زندگی کی حیثیت سے اپنے دل و دماغ میں جگہ ہی نہیں دی ۔ اس کی بجائے جو ضابطہ حیات ہم نے اختیار کیا وہ ہمارے اجتماعی نظام (معاشرت، معیشت، عدل و انصاف، قانون وسیاست) وغیرہ سے صاف ظاہرہے۔اِسے جو چاہے نام دیں مگر یہ ایک اسلامی نظام ِ حیات ہرگز نہیں ۔ کیا قرآن و سنت ( اللہ عزوجل اور اسکے پیارے رسول کاتعین کردہ نظام حق نہیں ؟ اگر حق ہے تو آپ خود ہی بتائیں کہ حق کو چھوڑ دینے کے بعد ضلالت و گمراہی اور جہالت کے سوا اور رہ ہی کیا جاتا ہے۔
    فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ، فَاَنّٰی تُصْرَفَوْنَ (یونس32 )۔
    " نظام ِحق کو چھوڑ دینے کے بعد گمراہی اور جہالت کے سوا اور کیا رہ جاتا ہے، تو تم کہاں بہکے جاتے ہو۔‘‘
    اللہ کریم اور اس کے پیار ے رسول کا متعین کردہ نظام و قانون ہی برحق ہے اور اس سے ذرہ برابر بھی روگردانی کفر ہونے کی دلیل ہے۔اس راہ سے ، اس نظام قانون سے ذرا برابر بھی ہٹ کر چلنا شیطان کی راہ پر چلنا ہے۔ ہم اور ہمارا مجموعی ذرا برابر تو نہیں اسلامی قانون شریعت سے بہت ہٹ کے چل رہا ہے تو کیا ہم شیطان کی طرف نہیں جا رہے؟ اسلامی نظام حیات سے ہٹ کر چلنا جہالت اور شیطان کی اتباع و اطاعت کی دلیل ہے اور اللہ نے شیطان کی اطاعت کو شیطان کی عبادت قراردیا ہے ۔
     اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یَا بَنِیٓ آدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْاالشَّیْطَانَ، اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ ( یٰسین 60)۔
    ’’اے آدم کی اولاد! کیا ہم نے تمہیںصریح حکم و تاکید نہیں کر دی تھی کہ شیطان کی عبادت مت کرنا ،وہ تمہارا کھلادشمن ہے ۔ ‘‘
    اب شیطا ن کی عبادت تو بظاہر کوئی نہیں کرتا اور نہ کبھی تاریخ میں سنا گیا کہ کبھی کہیں کسی جگہ شیطان کی بھی عبادت ہوتی رہی ہے۔ بظاہرتو ایسا کہیں نظر نہیں آتامگر حقیقتاً ایسا ہے اور خود ہمارے معاشرہ میں ہے کہ ہر طرف شیطان کی پوجا کی جارہی ہے۔ ذرا فکر سے سوچیں کہ یہاں اللہ کریم کا شیطان کی پوجا، شیطان کی عبادت سے مراد کیا ہے؟ یہاں شیطان کی عبادت و پوجا سے مراد شیطان کی راہ پر چلنا ہے، شیطانی نظام اور اصولوں کو اپنانا ہے، شیطان کی اطاعت و اتباع کرنا ہے۔ طریق دین کو چھوڑ کر کسی بھی طریق پر زندگی بسر کرنا شیطان کی عبادت کرنا ہے۔اللہ کریم کے نظام کو چھوڑ کر کسی اور نظام کو اپنا لینا گویا اسی طرح ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اسے اپنا معبود بنا لینا۔ اللہ کریم نے قرآن حکیم میں واشگاف الفاظ میں نوٹس دے دیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کو معبودنہ بنا لینا ورنہ اُس کے دائرہ رحمت سے نکل جاؤ گے، راندۂ  درگاہ بنا دئیے جاؤ گے، ملامت زدہ اور بے کس و بے سہارا ہو کر رہ جاؤ گے۔
    لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا ۔
    اللہ کے سوا کسی اور کومعبود نہ بنا لینا( کسی اور کے نظام کو نہ اپنا لینا، کسی اور کی ہدایت پر نہ چلنا) ورنہ ملامتیں سن کر اور بے کس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے۔ (بنی اسرائیل 22)۔
    اس آیت مبارکہ کی مخاطب پوری انسانیت ہے خاص کر وہ لوگ جو اس پر ایمان رکھتے ہیں یعنی مسلمان۔اب ذرا حاضر دنیا کا مشاہدہ کریںکہ مسلمان اللہ کے نظام ، اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر کس کے نظام، کسی کی ہدایت پر چل رہے ہیں؟اور آیت کے مطابق انجام دنیا کے سامنے ہے۔اس وقت دیکھیں کہ دنیامیں کون ملامت زدہ ہے؟ کون بے کس و بے سہارا ہو کر دنیا میں رہ گیا؟ اس آیت مبارکہ کے مخاطب تو عام انسان تھے مگر اگلی آیت مبارکہ میں اسی طرح کا بیان فرمایا اور مخاطب پیغمبر اسلام کو فرمایا یعنی اگر پیغمبر بھی اللہ کے متعین کردہ نظام کو چھوڑ دیتے تو ان کا بھی یہی انجام ہوتا:
    ذٰلِکَ مِمَّا اَوْحٰٓی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ، وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَتُلْقٰی فِیْ جَھَنَّمَ مَلُوْمًامَدْحُوْرًا۔
    "اے پیغمبر ! یہ ان ہدایتوں میں سے ہیں جو اللہ نے حکمت کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں اور اللہ کے سوا کوئی اور معبود نہ بنانا ورنہ ایسا کرنے سے ملامت زدہ اور راندہ درگاہ بنا کر جہنم میں ڈال دئیے جاؤ گے۔"(بنی اسرائیل39)۔

Wednesday, August 23, 2023

خود جلیں، دیدہ اغیار کو بینا کردیں

قانون فطرت ہے کسی بھی قوم کا اقتدار اور عروج وزوال دیر پا ضرور ہو سکتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں ۔یہ عروج وزوال کی داستان اگر چہ فطری قانون کے مطابق ہوتاہے تاہم اس میں اسباب و عوامل کا کافی عمل دخل حاصل ہے۔کسی بھی قوم کے عروج و زوال میں بہت سے اسباب و عوامل فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں ،۔قوموں کے بارہا کے عروج وزوال کو دیکھتے ہوئے ان عوامل کو طے کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔دنیا کی معزز ترین قوم بنی اسرائیل تھی جن پر انعام الہیہ کی بارش ہوا کرتی تھی جب ان میں اخلاقی دیوالیہ پن فطری قانون (جو رب الکریم نے ان کی بقاء کے لئے واضح کیا تھا) سے باغی ہوئے ۔ان کی انانیت حیا باختہ ہونے لگے اور الہی قوانین سے بغاوت کی تو ان کی تباہی ہوئی ۔رب الکریم نے سابقہ اقوام پر گزری سرگزشت بس الل ٹپلاور یوںزیبِ داستان کے لئے بیان نہیں کئے بلکہ اس لئے ان واقعات کی روئداد ہم تک پہنچانے کا بندوبست کیا کہ ہم تاریخ کے واقعات سے کوئی سبق اور نصیحت حاصل کریں ۔اس پر غور و فکر کریں تب فائدہ ہوگا۔ آئے ہم چند لمحوںکے لئے امت مسلمہ پر بیتی اس تباہیکا جائزہ لیں اور دو آنسو ں بہائیںاور اس بات پر غور و فکر کریں کہ کہیں ہم بھی تو اسی ڈگر پر رواں دواں نہیں جو سابقہ اقوام کی روش اور طریقہ تھا۔

 حیاتِ تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود۔یہ سنگ وخشت نہیں جو تری نگاہ میں ہے الله تعالی کی کتاب سے دوری قرآن کریم کی تعلیمات اس کے بتائے ہوئے نظام سے اگرچہ ہماری عقیدت بہت زیادہ ہے لیکن یہ نظام جب تک دنیا کے مسلمانوں کے لئے نظام زندگی ہوا کرتا تھا تب تک امت مسلمہ کی عظمت و رفعت کا چرچا ہر چہار سو تھا اور لیکن امت مسلمہ نے اسے صرف ایک مقدس صحیفہ اور ایک تبرک کی حثییت سے طاق ِ پر رکھا اور اس کے نظام عدل و انصاف کو زندگیوں سے نکال دیا ۔یہ کلام الٰہی انسانی زندگی کے مسائل بشمول معاشرت ،انسانی تمدن و تہذیباور عروج و زوال کو ایک جانب احسن اور بلیغ طریقے سے بیان کرتا ہے لیکن ہم اسے ہم مان تو رہے ہیںلیکن اپنانے میں عار محسوس کرتے ہیں۔ باطل نظریہ حیات ہمارے لئے خوشنماءدکھائی دے رہے ہیں۔یقینا ہمارا نظام ہی بدل کر رہ گیا ہے اسے معمولی نہ سمجھیں کہ قران جو پوری انسانیت کی تمام خرابیاں دور کرنے کے لیے آخری اور مکمل نسخہ شفاءہے ۔ اپنا تنزیلی آغاز اقراءسے کرتا ہے اور عَلَّمَ الِنسَانَ مَا لَم یعلَم (انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہ تھا) کے الفاظ سے تحقیق کے سمندر کی شناوری کی دعوت دیتا ہے اور عَلَّمَ بِالقَلَمِ (جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا) سے اپنے نتائجِ فکر محفوظ کر کے اگلی نسل کے حوالے کر دیتا ہے کہ اس پر مزید تحقیق کی جائے۔

رب الکریم نے اپنے پیغام کا آغاز اسی لیے ایمان اور ہدایت کی دعوت سے نہیں کیا کہ ایسا ایمان اور ایسی ہدایت جس کی اساس علم وتحقیق اور تفکر و تدبر پر نہ ہو مجموعہ توہمات ورسوم ہو سکتے ہیں،حیات و انقلاب آفریں نہیں جب تک امت مسلمہ اس علم و دانش کے مرکز سے وابستہ رہی تب تک چہار جانب سے اس کے عروج کے فیصلے ہوتے رہے ۔امت مسلمہ نے قلم پر کتاب پر جتنا کام کیا اتنا ہی اس کا اقبال بلند سے بلند ہوتا گیا حتی کہ یورپ بھی اس علمی عروج پر عش عش کررہا تھا کہ امت مسلمہ چراغ راہ لے کر ساری دنیا پر علم و عرفان کی کمند ڈال رہا ہے اقوام عالم اس روشنی سے اپنے لئے روشنی کے چراغ جلاتی چلی گئی ۔ہائے شومئے قسمت چراغ جن ہاتھوں میں تھے وہی بازو شل ہوتے گئے اور اپنے چراغ روشن کرنے والوں نے اس علم و عرفان کی مشعل کو تھام کر منصب چھین لیا اور امت مسلمہ اندھیری راہ پر گرچہ چلاتی رہی پر یہ شب ظلمت کے اندھیرے گہرے سے گہرے ہوتے چلے گئے۔

 اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ امت کی تباہی کا ایک بڑا سبب یہی ہے کہ اس نے میدان علم و دانش کو زوال پذیر ہوتے دیکھا لیکن اس کی غنودگی میں فرق نہ آیا ۔کیا ہم بخوبی واقف نہیں کہ جس معاشرے کی کایا پلٹی عالم عربی میں وہ نظام کیا تھا وہ رہنما کیسا تھا وہ قائد کیسا تھا۔ آپ ذرا تصور تو کیجیے کہ ایک ایسا معاشرہ جو جہالت اور گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا، جہاں قتل وغارت گری کا رواج تھا ، وہ لوگ راہ راست سے اس حد تک بھٹکے ہوئے تھے کہ کوئی ان پر حکمرانی کرنے کے لیے تیار نہ تھا تب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاشرے کا نقشہ ہی بدل دیا۔ جب ہم آپ ﷺ کی محنت کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس معاشرے کو ایمان محکم، عمل صالح، خوفِ خدا اور فکر آخرت کی ایسی بنیادیں فراہم کیں کہ جن کی وجہ سے پورا معاشرہ یکسر بدل گیا-

وہ لوگ جو پہلے قاتل اور لٹیرے تھے وہ زمانے کے مقتدا اور پیشوا بن گئے۔ ان کا معاشرہ جنت کا نمونہ بن گیا ، وہ قیصر وکسریٰ جیسی عالمی طاقتوں سے ٹکرا کر فاتح ٹھہرے۔ آج اگر ہم دیکھیں تو ہمارے حکمرانوں کا معاملہ ہو یا عوام کا ، انفرادی زندگیاں ہوں یا اجتماعی نظم، یقین محکم کی قوت، کردار وعمل کی طاقت، خوف خدا کے زادِ راہ اور فکرِ آخرت کی دولت سے ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر محروم ہو گئے ہیں۔

جب ہمارے پاس ایمان ویقین کی بنیاد اوراخلاص پر مبنی جذبہ ہی نہیں، کردار وعمل کے اعتبار سے ہم کمزور ہو گئے، محاسبہ کی فکر سے آزاد ہو گئے، مرنے کے بعد کی زندگی کو بھول بیٹھے ۔تو یہ وہ پہلی اینٹ ہے، جو غلط رکھ دی گئی، اس اینٹ کو جب تک صحیح نہیں کیا جائے گا اور اس بنیادی فکر پر اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی کو لانے کی کوشش نہیں کی جائے گی اس وقت تک عروج کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

اصلاح امت کی کوشش 

آ تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے

شمشیر و سناں اول طاوس و رباب آخر

 امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کو چھوڑنا امت مسلمہ کے لئے ایک بدترین سانحہ سے کم نہیں کیونکہ یہ ایک بنیادی مقصد ہے ۔امت مسلمہ کی بقاء و فلاح کے لئے اس کے لئے ہر سطح پر کام کرنے کی سخت احتیاج ہے جس کے چھوڑنے کے سبب ہم اپنے معاشرے کی تباہی و بربادی دیکھ رہے ہیں کہ ہمارا معاشرتی نظام مسائل و مشکلات کی دلدل میں دھنستا ہی چلا جارہا ہے

کیوں کہ یہ بھی ملت اسلامیہ کے زوال کا ایک اہم سبب ہے۔ صحابہ کرام علیھم الرضوان اس فریضہ کو اداکرنے کیلئے چہار دانگ عالم میں پھیل گئے اورانھوں نے ساری زندگی امر بالمعروف اورنہی عن المنکر میں گزاردی لیکن افسوس آج ہم نے یہ فریضہ بھی چھوڑ دیااس لئے ذلت ورسوائی ہمارا مقدر بن گئی ۔ہم گرچہ دوسروں کا محاسبہ کرنے پر تیار ہیں پر اپنی اصلاح کی ضرورت محسوس ہی نہیں کرتے اورنتیجہ وہی ہے کہ نہ ہم نے اپنی خو بدلی نہ اس نے مہربانی کی ۔ ہم بد سے بدتر پستی میں دھنستے گئے لیکن ہم نے یقین نہ کیا اور اپنی ذمہ داریوں سے مسلسل انکارکرتے رہے۔

ہم نے تو کچھ نہیں کرنا دوسرے ہی کرتے کیوں نہیں اب تو گرچہ داعیانہ کردار دعوی کئے جاتے ہیں لیکن انفرادی سطح پر ان کا حال بھی قابل رحم ہی ہوتا ہے جب تک ہماری دعوت کا ماخذ قرآن کریم اور سنت نبوی علیہ السلام نہ ہو اور اجتماعی زندگی انفرادی زندگیوں میں اس کا اثر واضح نہ ہو تب تک ہم کامیابی کے سفر پر گامزن نہیں ہوسکتے لہذا ملت اسلامیہ کے زوال کو ختم کرنے کا بہترین ذریعہ قرآن وسنت کے ان احکامات پر عمل پیرا ہونے میں ہی موجود ہے جس سے فرار ممکن ہی نہیں

آپسی رسہ کشی 

مسلمان امت کے زوال کی سب سے بڑی وجہ آپسی رسہ کشی ہے جس کا خمیازہ امت مسلمہ پچھلے پانچ سو سال سے اُٹھارہی ہے صورت حال اتنی دل آزردہ ہوئی کہ مسلمان مسلمان کو فتح کرنے پر تل گئے ۔مسلمانوں نے مسلمانوں کے سروں کے مینارے بنا ڈالے۔ مسلمانوں نے مسلمانوں کی مساجد کتابیں قرآنی نسخے جلا ڈالے ۔ایک دوسرے کو کافر زندیق مرتد بنانے میں اتنی قوت صرف ہوئی کہ تھوڑی سی قوت بھی امت مسلمہ کی فلاح کے لئے صرف ہوتا تو نتائج کچھ اور ہوتے ۔ مسلمان ایک دوسرے کی تباہی و بربادی کے لئے کوشاں و فکرمند رہتا ہے۔ تہذیب یافتہ اور باسلیقہ ملت اس قدر بدزبان گالی گلوچ کرنے والی ملت کے طور پہچانی جارہی ہے کہ غیر اقوام بھی ورطہ حیرت میں ہیں کہ کیا بلا ہیں جن کی زبان اس قدر گندی اور فحش ہے اور یہ آفت اتنی عام ہوگئی کہ خاندان ، گھر ، کمیونٹی ، ملک اورمسلک و منہج ،غرض ہر کوئی ایک دوسرے کے پیچھے پڑا ہوا ہے ۔ہمیںاپنی ذات کی فکر نہیں دوسروں کی غلطیاں چننے میں لگے ہوئے ہیں اور اس کو باقی رکھنے کے لئے مختلف الخیال لوگوں نے صفحات کے صفحات سیاہ کردئے جن صفحات پر بجائے علمی سرمایہ کے گالی گلوچ کی بھر مار دیکھائی دیتی ہے

آج امت مسلمہ کا حال یہ ہے کہ وہ اتحاد واتفاق سے کوسوں دور ہے ، چند ممالک بیٹھ کر اپنے مشترکہ مسائل پر بھی اتفاق نہیں کر پا تے۔ قراردادیں پاس کرتے ہیں ، قلم وقرطاس کا خوب استعمال بھی ہوتا ہے ، مگر عملاً امت مسلمہ کے حق میں کچھ نہیں ہوتا اسی لیے آج ہر محاذ پر لاچار اور مجبور ہیں اور غیروں کے اشارے پر رقصاں ہیں۔ کفّار اپنے تمام تر باہمی اختلاف وانتشار کے باوجود جب کفر اور اسلام کا معاملہ ہوتا ہے تو” الک ±فر ± مِلتہ واحد“ کی عملی تصویر بن جاتے ہیں۔ ان کے پاس اپنے سیاسی ، معاشی ، تعلیمی اور دیگر امور کے

 حل کے لیے کامیاب ادارے اور تنظیمیں موجود ہیں مگر مسلم ممالک آج بھی انہی کے نوالے پر قناعت کر رہے ہیں۔ اگر مسلمانوں کے درمیان باہم ٹھن جائے تو کوئی امریکہ کی پناہ میں ہوتا ہے تو کوئی روس کی۔ غرضیکہ ضمیر وظرف کا بحران اور بے حسی اتنی عام ہوچکی ہے کہ اپنے ہی بھائیوں کے خلاف محاذ کھولنا ، پیٹھ پر وار کرنا اور ان سے برسرِ پیکار رہنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ امریکہ ، یورپ اور روس وغیرہ سے اپنی مضبوط ومستحکم دوستی کا حوالہ دے کر اپنے ہی بھائیوں کو تہہ تیغ کرایا جاتا ہے اور اسے اپنے ہاں اصلاح امت اور نہ جانے کیا کیا نام دے جاتے ہیں صرف اس لئے کہ اپنے دستور کا ڈنکا بجتا رہے

فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ  [الحشر : 2]


امت مسلمہ گزشتہ چودہ صدیوں سے باہم دست و گریبان ہے۔ایک جانب ایک گروہ اپنے مخالفین کی ٹانگ کھینچ رہا ہے اور دوسری جانب کچھ لوگ کسی اور کے گریبان کو پکڑ کر گھسیٹ رہے ہیں۔جن مسائل کے سلسلے میں ہمارے مشائیخ عظام ، ائیمہ کرام اور فقہائے کرام مختلف الرائے ہیں اور ہر ایک کے پاس دلیل بھی ہے ،لیکن ہم علمی کم مائیگی ، بے بضاعتی اور تہی دامنی کے باوجود اپنی اپنی ہانک رہے ہیں۔ ہر گروہ خود کو راست رو سمجھ کر مدمقابل اور مخالفین کی تکفیر کررہا ہے۔دین داری کا دعویٰ کرنے والے شخص پرستی ،مسلک پرستی اور تنظیم پرستی کے خول میں محصور ہوکر مخالفین کی تانک جھانک اور اپنے ہم خیال لوگوں کی پردہ داری میں الست مست ہے۔ ان لوگوں سے اگر اس بات کے لئے استفسار کیا جائے بھائی لوگوں آپ میں سے کتنے لوگوں نے فجر کی نماز کے لئے مسجد کا رخ کیا ،تو ایک دم سے عذر تراش لیں گے ،کہ اجی رات بھر” منکرین اسلام ”سے جہاد کررہے تھے۔رات رات بھر سوشل میڈیا پرایک دوسرے کے خلاف اپنے ترکش سے کفر و ارتداد کے سارے تیر مخالفین کے کیمپ کی جانب چلاکر اتنی بھی سکت نہیں رہتی کہ حی علی الصلواة کی ندا سن کر مسجد کی طرف جا دوڑے لیکن خوردبین لے کر ایک دوسرے کے تعاقب میں رہنا ان کے لئے جنت کی راہداری ہے

شمع کی طرح جئیں بزم گہہ عالم میں

۔خود جلیں، دیدہ اغیار کو بینا کردیں

اس وقت مسلمان، پوری دنیا میں جن حالات سے گزر رہے ہیں انھوں نے فکرمند لوگوں کو حددرجہ تشویش میں مبتلا کررکھا ہے، ایک طرف تو عالمِ اسلام کے نام سے موسوم ا ±س مبارک خطہ کی صورتِ حال ہے جواگر واقعتہً عالم اسلام ہوتا تو یقینا یہ حالات نہ ہوتے، موجودہ دور میں اس خطے کو فقط عالمِ مسلمین کہا جاسکتا ہے، اور پھر مسلمان بھی جس معیار کے ہیں اس کانتیجہ یہ ہے کہ جس کے سبب بیمار ہوئے ہیں اسی عطار کے بیٹے سے دوا لینے کی غلطی مسلسل کررہے ہیں، اس سنگین غلطی نے صورتِ حال کو قابو سے باہر کردیا ہے۔ جن لوگوں کی نظر، یمن، شام، عراق اور فلسطین ومصر کے حالات پر ہے، وہ ہر صبح کسی انہونی کا خطرہ دل میں لیے اٹھتے ہیں اور ہر دن کی خبریں ”اوروں کی عیاری“ اور ”مسلم کی سادگی“؛ بلکہ مجرمانہ سادگی کے شواہد پیش کرتی نظر آتی ہیں جس کے سبب وسلم اسلام کے مومنانہ فکر و کردار کے حضرات انتہائی دل آزردہ ہیں میرے خیال میں یہ ایک اہم سبب ہے کہ ہم اپنوں کے لئے ہی درد و کرب کا باعث بنتے جارہے ہیں۔

 رسول اللہ ﷺکی سنت سے لاتعلقی 

آپ کے طریقوں کو چھوڑ دینا نبوی مزاج نبوی کردار نبوی معاشرت نبوی طرز زندگی میں جو تعلیمات ہماری فلاح و بہبود کے لئے موجود ہیں ان سے خائف امت مسلمہ اب تو ہم ہر سطح پر اسے رخصت کئے جارہے ہیں صورت حال اس قدر بھیانک ہے کہ مساجد و خانقاہ بھی اب اس نعمت سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔ مختلف افکار و نظریات کے علمبردار گرچہ دعویدار ہیں نظام الٰہی اور ترویج سنت کے لیکن ان کے ہاں بھی عملی میدان میں کائنات کے آخری امام محمد عربی ﷺ کی پاکیزہ طریقے مفقود ہی ہوتے جارہے ہیں جو کہ ایک المناک باب بنتا جارہا ہے ۔جس دن ملت اسلامیہ پلٹ کر محمد عربی ﷺ کو اپنا قائد بناکر اور اپنی ذاتی اصلاح کی فکر اور اجتماعی معاملات میں اتحاد کی فکر، ہمارے مزاج کا حصہ بن جائیں گی اسی دن سے وہ عمل حقیقی معنوں میں شروع ہوگا جسے دعوت کہتے ہیں اور اسی معیار پر ہوگا جس معیار پر اسے ہونا چاہیے، ورنہ ہم جیسے مسلمانوں سے تو کارِ دعوت انجام پانا مشکل ہے؛ البتہ آج کل کے حالات سے جس درجہ فکر اور اندیشوں کا ماحول بنا ہوا ہے، اسے دیکھ کر یہ امید دل میں جاگتی ہے کہ شاید اب ہم حالات بدلنے کے لئے ان صحیح بنیادوں کو اپنانے کی سنجیدہ فکر تک بھی پہنچ جائیں گے، ان شاءاللہ

دل کہتا ہے فصلِ جنوں کے آنے میں کچھ دیر نہیں

ا ب یہ ہو ا چلنے ہی کو ہے صبح چلے یا شام چلے




مومن کو ہر گھڑی اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیئے

مومن کو ہر گھڑی اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیئے ،اس کے کئی ایک دلائل ہیں ،قرآن عزیز کا ایک مقام یہاں دیکھ لیں؛

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو ،اور ہر نفس کو چاھیئے کہ وہ دیکھے (محاسبہ کرے ) کہ اسنے آنے والے کل کیلئے اپنے آگے کیا بھیجا (کون سے صالح عمل کئے )
اور اللہ سے ڈرتے رہو ،یقیناً اللہ خوب جانتا ہے جو عمل تم کرتے ہو ‘‘ سورۃ الحشر

اور روزانہ رات کو سونے سے پہلے واقعی اپنا محاسبہ کرنا بہت مناسب ہے ،کیونکہ :
نیند موت کا بھائی ہے 
(ہمارے محاورے نیند موت کی بہن ہے )حدیث رسول ﷺ ہے :
النوم أخو الموت ، و لا يموت أهل الجنة
الراوي: جابر بن عبدالله المحدث: الألباني - المصدر: صحيح الجامع - الصفحة أو الرقم: 6808
خلاصة حكم المحدث: صحيح

3 - النوم أخو الموت ، و لا ينام أهل الجنة
الراوي: جابر بن عبدالله و عبدالله بن أبي أوفى المحدث: الألباني - المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 1087
خلاصة حكم المحدث: صحيح بمجموع طرقه
جابر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا :نیند موت کا بھائی ہے،اور اہل جنت ،جنت میں نہیں سوئیں گے ،

یعنی نیند موت ہی کی ایک قسم ہے ۔اور موت سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے اور مناسب ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری دلیل:
صحيح البخاري 
باب إذا بات طاهرا:
باب: وضو کر کے سونے کی فضیلت

البراء بن عازب رضي الله عنهما قال:‏‏‏‏ قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏"إذا اتيت مضجعك فتوضا وضوءك للصلاة ثم اضطجع على شقك الايمن وقل:‏‏‏‏ اللهم اسلمت نفسي إليك وفوضت امري إليك والجات ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجا ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي انزلت وبنبيك الذي ارسلت فإن مت مت على الفطرة فاجعلهن آخر ما تقول"فقلت:‏‏‏‏ استذكرهن وبرسولك الذي ارسلت قال:‏‏‏‏ لا وبنبيك الذي ارسلت.

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تو سونے لگے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر پھر دائیں کروٹ لیٹ جا اور یہ دعا پڑھ «اللهم أسلمت نفسي إليك،‏‏‏‏ وفوضت أمري إليك،‏‏‏‏ وألجأت ظهري إليك،‏‏‏‏ رهبة ورغبة إليك،‏‏‏‏ لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك،‏‏‏‏ آمنت بكتابك الذي أنزلت،‏‏‏‏ وبنبيك الذي أرسلت‏.‏» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیری اطاعت میں دے دیا۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کر دیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے۔ خوف کی وجہ سے اور تیری (رحمت و ثواب کی) امید میں کوئی پناہ گاہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجا ہے۔“
اس کے بعد اگر تم مر گئے تو فطرت (دین اسلام) پر مرو گے پس ان کلمات کو (رات کی) سب سے آخری بات بناؤ جنہیں تم اپنی زبان سے ادا کرو (براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) میں نے عرض کی «وبرسولك الذي أرسلت‏.‏» کہنے میں کیا وجہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں «وبنبيك الذي أرسلت» کہو۔
----------------------------------
اس حدیث میں بھی نیند اور موت کا تعلق بتایا گیا ،کہ اگر اس نیند میں موت آئی تو مذکورہ کلمات نافع ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیسری دلیل ؛ جس میں نیند کو موت ہی کہا گیا ہے :
صحيح البخاري 
باب ما يقول إذا أصبح:
باب: صبح کے وقت کیا دعا پڑھے

حدیث نمبر: 6324  


عن حذيفة قال:‏‏‏‏"كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا اراد ان ينام قال:‏‏‏‏ باسمك اللهم اموت واحيا وإذا استيقظ من منامه قال:‏‏‏‏ الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا وإليه النشور".

حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو کہتے «باسمك اللهم أموت وأحيا» ”تیرے نام کے ساتھ، اے اللہ! میں مرتا اور تیرے ہی نام سے جیتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا،‏‏‏‏ وإليه النشور» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف ہم کو لوٹنا ہے۔“

Sunday, August 20, 2023

اور کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے


انسان میں گناہوں اور رذائل کی جانب رغبت کا میلان موجود ہے،انسان میں نفس امارہ ہرلمحہ اسے گناہوں میں مبتلا کرنے کی کوشش میں رہتا ہے۔ جب سلیم الفطرت انسان کسی گناہ یا غلط کام کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ یہ جان رہا ہوتا ہے کہ وہ غلط کام یا ظلم وزیادتی اور فسق وفجور کررہا ہے، رسول اللّٰہﷺ کے طریقے کی مخالفت کررہا ہے اور اللّٰہ کے فرامین سے بغاوت کرکے اس کے قہر وغضب کو دعوت دے رہا ہے۔ یوں وہ اپنی دنیا وآخرت دونوں کو تباہ وبرباد کرتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ شیطان کے وار، خواہشات کا غلبہ، گناہوں کی عارضی لذت، دنیا کی چکاچوند، جھوٹی اور کھوکھلی عزت کا نشہ اس کو گناہ کے ارتکاب کی طرف لے جاتے ہیں۔گناہ کے ارتکاب کے وقت جب کبھی اس کا ضمیرندا دیتا ہے تو وہ یہ کہہ کر ضمیر کو خاموش کرادیتا ہے کہ ابھی بڑی عمر پڑی ہے، میں عنقریب توبہ کرلوں گا اور اس طرح موہوم اُمیدوں اور ناروا خیالات سے دل کو بہلاوا دیے رکھتا ہے اور گناہوں کی گہری دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔


درحقیقت گناہ انسان کے حق میں نہایت خطرناک ہیں۔ اس سے دنیا اور آخرت دونوں برباد ہوجاتے ہیں اور گناہ کا اثر جسم میں زہر کی طرح سرایت کر جاتا ہے۔ آدم کے جنت سے نکلنے اور ابلیس کے ملعون ہونے کی وجہ بھی یہی گناہوں کی نحوست تھی۔ قومِ نوح اور عاد و ثمود کو بھی گناہوں کی پاداش میں عذاب سے دوچار کیا گیا۔ گناہوں کے بے شمار برے اثرات اور نقصانات ہیں جن میں چند درج ذیل ہیں:

1. علم سے محرومی:علم نورِالٰہی ہےاورگناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے انسان علم سے محروم ہوجاتا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں:

شکوت إلى وکیع سوء حفظي      فأرشدني إلى ترك المعاصي
وأخـبرني بأن الـعــلم نـور      ونور الله لا يهدى لعاصی


''میں نے اپنے استاد وکیع سے کمزور حافظہ کی شکایت کی تو آپ نے مجھے ترک معاصی کی نصیحت فرمائی اور آپ نے یہ بتایاکہ علم ایک نور ہے اوراللّٰہ کا نور گنہگار کو نہیں دیا جاتا۔''

2. رزق میں تنگی: گناہوں کا ایک اثر یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان کی روزی اور رزق میں تنگی آجاتی ہے۔حصولِ رزق اور فراخئ معاش کے لیے ترکِ گناہ سےبہتر کوئی چیز نہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجعَل لَهُ مَخرَ‌جًا ٢ وَيَر‌زُقهُ مِن حَيثُ لا يَحتَسِبُ...٣﴾... سورة الطلاق

'' جو شخص اللّٰہ سے ڈرتا ہے اور گناہوں سے باز آ جاتا ہے،اللّٰہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گااور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔''

سیدنا ثوبان سے فرمانِ نبویﷺ مروی ہے:

«إن العبد لیحرمه الرزق بالذنب یصیبه»

''بے شک بندہ اپنے گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے۔''

اللّٰہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں:

﴿الشَّيطـٰنُ يَعِدُكُمُ الفَقرَ‌...٢٦٨﴾... سورة البقرة

''شیطان بلاشبہ تمہیں فقر کا وعدہ دیتا ہے...''

3. وحشتِ قلبی: گناہگاروں اور اللّٰہ کے درمیان دوری ہوجاتی ہے اور دل کا سکون نہیں ملتا ﴿أَلا بِذِكرِ‌ اللَّهِ تَطمَئِنُّ القُلوبُ ٢٨ ﴾... سورة الرعداللّٰہ کی یاد سے ہی قرار پکڑتے ہیں ،لوگوں سے وحشت اور دوری ہوتی ہے،خاص طور پر اصلاح کرنے والوں سے۔ان کےساتھ اُٹھنے بیٹھنے اور میل ملاقات سے گناہ گار گریز کرتا ہے۔ یہاں تک کہ بیوی بچوں اور اپنے اقربا سے وحشت ہو جاتی ہے۔

4. مشکلات: کاموں میں دشواریاں پیدا ہوجاتی ہیں جو آدمی اللّٰہ سے ڈرتا ہے، اللّٰہ اس کے کام آسان کردیتے ہیں۔ قرآن میں ہے: ﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجعَل لَهُ مَخرَ‌جًا ٢﴾... سورة الطلاق

5. ظلمات: جس طرح رات کی تاریکی میں کچھ سجھائی نہیں دیتا، گناہ گار کی زندگی کے معاملات میں تاریکی ہوجاتی ہے،سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا کرے۔طاعت و عبادت نور ہے اورگناہ تاریکی ہے۔گناہ بڑھتے ہیں تو یہ تاریکی بھی بڑھتی جاتی ہے۔ جبکہ ایسا شخص جو اللّٰہ سے ڈر کر گناہوں سےبچتا ہے، اللّٰہ اس کے لیےایک نور بنا دیتے ہیں جس سےوہ زندگی گزارتا ہے۔اور گناہ گار اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتا رہتا ہے۔ گناہوں کی تاریکی اور سیاہی اس کی آنکھوں، منہ اور چہرے پرچھا جاتی ہے۔

6. گناہوں کا وبال: چہرے پر سیاہی، دل اور قبر میں تاریکی، جسم میں کمزوری، رزق میں تنگی، مخلوق کےدل میں نفرت اور بزدلی کا آ جانا وغیرہ ، یہ سب گناہوں کا وبال ہے:

اس میں کوئی شک نہیں کہ اطاعت الٰہی ایک نور اور روشنی ہے جبکہ معصیت الٰہی ایک تاریکی اور اندھیرا ہے ۔چنانچہ سیدنا عبداللّٰہ بن عباس فرماتے ہیں ہیں:

«إن للحسنة ضياء في الوجه ونورًا في القلب وسعة في الرزق وقوة في البدن ومحبة في قلوب الخلق وإن للسيئة سوادًا في الوجه وظلمة في القبر والقلب ووَهنا في البدن ونقصا في الرزق وبغضة في قلوب الخلق»

''جو شخص الله كی اطاعت اور فرمانبرداری میں کوشاں رہتاہے ،اس کے چہرے پہ چمک دمک، دل میں نور،روزی میں فراخی ،بدن میں طاقت وقوت اور لوگوں کےدل میں اس کے لیے محبت ومودت ہوتی ہے او رجو شخص اطاعت الٰہی سے منہ موڑ کر نافرمانی اور طغیانی میں کوشاں رہتا ہے، ا س کے چہرے پہ نحوست ،دل میں تاریکی ،قبر میں اندھیرا،بدن میں کمزوری،روزی میں کمی اور لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے حسد ،بغض او رکینہ پیدا ہوجاتا ہے ۔''

7. جسم کمزور ہو جاتا ہے:گناہوں کے ارتکاب سے عمر کم ہوجاتی اور جسم و دل کمزور ہوجاتا ہے۔ مؤمن کی قوت کا مدار اس کے دل کی قوت پر ہو تا ہے۔ اس کے دل کی قوت کی وجہ بھی اس کے جسم اور قویٰ مضبوط ہوجاتے ہیں جبکہ فاسق و فاجر کا حال اس کے برعکس ہوتاہے۔ اس کے قوی خواہ طاقتور ہی کیوں نہ ہوں، وہ بزدل او رکمزور ہوتا ہے اوربوقتِ ضرورت اس کی جسمانی طاقت بے کار ہوجاتی ہے۔

8. گناہوں میں زیادتی:اسی طرح ایک گناہ دوسرےگناہ کا راستہ کھولتا ہے۔گناہ گار کے لئے نیکی پر عمل کرنا مشکل اور گناہوں کا راستہ آسان ہوجاتا ہے۔

9. عمر میں کمی: گناہ عمر تباہ کردیتے اورعمر کی برکتیں چھن جاتی ہیں۔ انسان کی عمر سانس لینےکانام نہیں بلکہ دلِ زندہ سے ہی زندگی ہوتی ہے۔ دلِ مردہ کواللّٰہ نےبھی مردہ کہاہے: ﴿أَمو‌ٰتٌ غَيرُ‌ أَحياءٍ...﴿٢١﴾... سورة النحل ''مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔''

نیکی کرنے والےکے لیےطاعت و عبادات کا پورا لشکر موجود رہتا ہے۔ وہ اسےقوی کردیتا ہے جبکہ گناہ کرنے والے کےلیے معصیت اور گناہوں کا لشکر ہے، نیکی کرنے والے کےلشکر کے پیچھے اللّٰہ کی فرشتوں کے ذریعے مدد ہوتی ہے جبکہ گناہ کرنے والے کے پیچھے شیطان اور اس کا ٹولہ ہوتا ہے۔

10. توبہ کی توفیق کا نہ ہونا:گناہ گار کو توبہ کی توفیق کم کم ہوتی ہے۔ جس طرح مقروض شخص ، قرض دینے والے شخص سے دور بھاگتا ہے جب اس کے پاس ادائیگی کا انتظام نہ ہو، اسی طرح اللّٰہ کا نافرمان اللّٰہ کا سامنا کرنے سے گھبراتا ہے۔ انسان کا دل کمزور ہوجاتا ہے ۔ وہ توبہ کا ارادہ کرتاہے ، توبہ کرتا بھی ہے، لیکن اس پر قائم نہیں رہ سکتا۔ توبہ کی زبانی تکرار کےباوجود گناہوں پر اس کا اصرار جاری رکھتا ہے او ریہی اصرار آخرکار گناہِ صغیرہ کو بھی گناہ کبیرہ بنا دیتا ہے۔

11. گناہ پرفخر: گناہ کی نفرت ختم ہوجاتی ہے۔وہ لوگوں کی موجودگی میں بے باک و برملا ارتکابِ معصیت کرتا ہے بلکہ اپنے گناہوں کو فخر و غرور کے ساتھ بیان کرتا ہے، گناہوں کو اس طرح کھلم کھلا کرنے والوں کے لئے زبان رسالت سے سنگین وعید ہے:

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے کہ نبی ﷺ فرمایا:

« كُلُّ أُمَّتِى مُعَافًى إِلاَّ الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْمَجَانَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ عَمَلاً، ثُمَّ يُصْبِحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللَّهُ ، فَيَقُولَ يَا فُلاَنُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ»

''میری تمام امت کو معاف کیا جائے گا سوائے گناہوں کوکھلم کھلا کرنے والوں کے اور گناہوں کوکھلم کھلا کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک شخص رات کو کوئی(گناہ کا) کام کرے اور اس کے باوجودکہ اللّٰہ نے اس کے گناہ کو چھپا دیا ہے مگرصبح ہونے پر وہ کہنے لگے کہ اے فلاں! میں نے کل رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا۔ رات گزر گئی تھی اور اس کے ربّ نے اس کے گناہ چھپائے رکھا، لیکن جب صبح ہوئی تو وہ خود اللّٰہ کے پردے کھولنے لگا۔ ''

12. گناہوں سے نفرت کا ختم ہونا: گناہوں کی نفرت ختم ہوجاتی ہے۔ بڑے سےبڑا گناہ بھی اس کی نظر میں چھوٹامحسوس ہوتا اور اسےہلاک کردیتا ہے۔ سیدنا عبداللّٰہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں:

«إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ قَاعِدٌ تَحْتَ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ مَرَّ عَلَى أَنْفِهِ ». فَقَالَ بِهِ هَكَذَا

''مؤمن اپنے گناہ کے بارے میں اس طرح پریشان ہوتا ہے گویا کہ وہ پہاڑ کے عین نیچے موجود ہے اور اسے اپنے اوپر پہاڑ کے گرنے کا خوف لاحق ہے، جبکہ کافر وفاجر اپنے گناہ کو ایک مکھی کی مانند ہلکا خیال کرتا ہے جو اس کے ناک پر بیٹھی اور یوں اپنے ہاتھ سے اس نے اس مکھی کو اُڑا دیا۔''

13. گناہوں کی نحوست کا دوسروں پر اثر: انسانوں کو نہیں بلکہ جانوروں تک کو برباد کردیتی ہے۔قومِ نوح پر عذاب آیا تو جانور بھی ختم ہوگئے۔بارش رک جاتی ہے جبکہ استغفار کے ساتھ بارش ہوتی ہے، جیسا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے استغفار کا نتیجہ بارشوں کے نزول وبرکت کو قرار دیا ہے:

﴿فَقُلتُ استَغفِر‌وا رَ‌بَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارً‌ا ﴿١٠﴾يُر‌سِلِ السَّماءَ عَلَيكُم مِدر‌ارً‌ا ﴿١١﴾... سورة نوح '' میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔''

14. گناہ، باعثِ ذلت : تمام عزتیں طاعتِ الٰہی سےہوتی ہیں، فرمان باری ہے:

﴿مَن كانَ يُر‌يدُ العِزَّةَ فَلِلَّهِ العِزَّةُ جَميعًا...١٠ ﴾... سورة فاطر ''جو کوئی عزت چاہتا ہو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ عزت ساری کی ساری اللّٰہ کی ہے ۔''

نیکی باعث عزت ہے۔ جو اللّٰہ کے نزدیک ہوتا ہے، وہی عزت والا ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال انبیاء﷩ ہیں۔ حضرت ابراہیم کی ایک سنت (قربانی )پر دنیا کی اکثریت آج بھی عمل کرتی ہے جبکہ نبی کریم ﷺ کو غیر مسلم بھی دنیاکے سو بڑے آدمیوں میں پہلے نمبر پرجگہ دینے پرمجبور ہیں۔

15. عقل کا جاتے رہنا: گناہ عقل کو ختم کردیتے ہیں۔کیونکہ عقل اگر موجود ہوتی تو اسےگناہ سےباز کیوں نہ رکھتی۔ انسان اللّٰہ کی مخلوق ہے،اس کےگھر کا ئنات میں رہتا ہے۔اس کا رزق کھا رہا ہے۔اللّٰہ اسے خود دیکھ رہا ہے۔ ہدایت اسےروک رہی ہے۔ موت او رجہنم اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔اگروہ حقیقتاً عقل والاہوتا تو گناہ کیوں کرتا؟ ارشادِ باری ہے: ﴿إِنَّما يَتَذَكَّرُ‌ أُولُوا الأَلبـٰبِ ﴿٩﴾... سورة الزمر

'' نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں۔''

16. دل کا مقفل ہونا : دل پر مہر لگ جاتی اور وہ غافل وبےخبر ہوجاتاہے۔ جب انسان ایک گناہ کرتاہے تو اس کے دل پر سیاہ نقطہ پڑ جاتا ہےاور پھر گناہ پر اصرار کی وجہ سے آخر سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔پھر توبہ کی توفیق ہی نہیں ہوتی،اسےکہتے ہیں:﴿خَتَمَ اللَّهُ عَلىٰ قُلوبِهِم وَعَلىٰ سَمعِهِم...﴿٧﴾... سورة البقرة ''اللّٰہ نے ان کے دلوں اورکانوں پر مہر لگا دی ہے۔''

﴿كَلّا ۖ بَل ۜ ر‌انَ عَلىٰ قُلوبِهِم ما كانوا يَكسِبونَ ﴿١٤﴾... سورة المطففين ''ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔''

﴿ثُمَّ قَسَت قُلوبُكُم مِن بَعدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالحِجارَ‌ةِ أَو أَشَدُّ قَسوَةً ۚ وَإِنَّ مِنَ الحِجارَ‌ةِ لَما يَتَفَجَّرُ‌ مِنهُ الأَنهـٰرُ‌ ۚ وَإِنَّ مِنها لَما يَشَّقَّقُ فَيَخرُ‌جُ مِنهُ الماءُ ۚ وَإِنَّ مِنها لَما يَهبِطُ مِن خَشيَةِ اللَّـهِ ۗ وَمَا اللَّـهُ بِغـٰفِلٍ عَمّا تَعمَلونَ ﴿٧٤﴾... سورة البقرة

'' مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمہارے دل سخت ہوگئے، پتھروں کی طرف سخت، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے، کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے اللّٰہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔''

اورپھر انسان کا ازلی دشمن شیطان پوری قوت سے اس پر غالب آجاتا ہے اور اسے جہاں چاہتا ہے، ہانک کر لے جاتاہے۔

17. لعنت کامستحق ہونا:گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سےگناہگار لعنت کا مستحق ہو جاتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے بعض گناہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ جیسے قرآنِ مجید میں حق چھپانے والوں کے لیے ہے: ﴿يَلعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلعَنُهُمُ اللّـٰعِنونَ ﴿١٥٩﴾... سورة البقرة ''اللّٰہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں۔''

اور حدیث میں ہے کہ سود لینے، دینے، لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر آپﷺ نے لعنت بھیجی ہے۔ حلالہ کرنے اور کرانے پر لعنت کی وعید ہے۔ ایسی عورتوں پر جو مردوں سےمشابہت اختیار کریں :گودنے والی، گدوانے والی، ابروں کے بال نوچنے والی، نچوانے والی پر، خاوند کےبستر سے علیحدہ ہونے والی پر لعنت ہے۔

18. رحمت سے دوری: گناہ گارر اللّٰہ کی رحمتوں اور فرشتوں کی دعا سے محروم رہ جاتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿لَّذينَ يَحمِلونَ العَر‌شَ وَمَن حَولَهُ يُسَبِّحونَ بِحَمدِ رَ‌بِّهِم وَيُؤمِنونَ بِهِ وَيَستَغفِر‌ونَ لِلَّذينَ ءامَنوا رَ‌بَّنا وَسِعتَ كُلَّ شَىءٍ رَ‌حمَةً وَعِلمًا فَاغفِر‌ لِلَّذينَ تابوا وَاتَّبَعوا سَبيلَكَ وَقِهِم عَذابَ الجَحيمِ ٧رَ‌بَّنا وَأَدخِلهُم جَنّـٰتِ عَدنٍ الَّتى وَعَدتَهُم وَمَن صَلَحَ مِن ءابائِهِم وَأَزو‌ٰجِهِم وَذُرِّ‌يّـٰتِهِم ۚ إِنَّكَ أَنتَ العَزيزُ الحَكيمُ ٨وَقِهِمُ السَّيِّـٔاتِ ۚ وَمَن تَقِ السَّيِّـٔاتِ...﴿٩﴾... سورةغافر

'' عرش الٰہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش کے گرد و پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ،وہ کہتے ہیں:

''اے ہمارے ربّ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، پس معاف کر دے اور عذاب دوزخ سے بچا لے اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔اے ہمارے رب! اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنتوں میں جن کا تو نے اُن سے وعدہ کیا ہے، اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ پہنچا دے) تو بلا شبہ قادر مطلق اور حکیم ہےاور بچا دے اُن کو برائیوں سے۔''

19. عذابِ الٰہی کی وعید: آپﷺ کو خواب میں مختلف گناہوں کے عذاب دکھائے گئے۔ سیدنا سمرۃ بن جندب سے تفصیلی حدیث مروی ہے ، جس میں گناہوں کے ارتکاب پر مختلف سزائیں آپ کو دکھائی گئیں: جن میں قرآن کو بھلانے والا،نماز کا تارک،زناکار مرد اور عورتیں اور پتھر نگلنے والے سود خور کی سزاؤں کا تذکرہ ہے۔

20. دنیاوی آفتیں: ﴿ظَهَرَ‌ الفَسادُ فِى البَرِّ‌ وَالبَحرِ‌ بِما كَسَبَت أَيدِى النّاسِ لِيُذيقَهُم بَعضَ الَّذى عَمِلوا لَعَلَّهُم يَر‌جِعونَ ﴿٤١﴾... سورة الروم

'' خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزا چکھائے اُن کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔''

یہ تو دنیا کےعذاب کا حال ہے جوکہ گناہوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ تمام اعمال کی سزا دی جائے تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہے،آبادیاں دھنس جاتی ہیں۔زلزلے آتے ہیں۔ بارش نہیں ہوتی اورقحط پڑ جاتا ہے۔ اسی بنا پر قومِ ثمود کی آبادیوں سے روتے ہوئے جلدی نکلنے کا حکم دیا گیا۔

21. جسموں پر اثرات: حضرت آدم کا قد ابتدا میں 60 ذراع تھا، آج یہ قد کتنا مختصر رہ گیا۔ دوسری طرف حضرت عیسیٰ کے نزول پر اتنی برکت ہوگی کہ ایک انار سے ایک جماعت سیر ہوجائے گی۔ایک بکری کا دودھ پوری جماعت کو سیراب کردے گا۔ ﴿وَأَلَّوِ استَقـٰموا عَلَى الطَّر‌يقَةِ لَأَسقَينـٰهُم ماءً غَدَقًا ﴿١٦﴾... سورة الجن ''اور (اے نبیﷺ، کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے۔''شیطان جب انسانوں پر مسلط ہوتا ہے تو عمر،عمل، قول و فعل، رزق اور اس کی برکتیں ختم ہوجاتی ہے۔ یہ دنیاکی سزا ہے جبکہ آخرت میں گناہگاروں کے لیےجہنم اور اس کے عذاب منتظر ہوں گے۔

22. غیرت کا خاتمہ: گناہ گار کی گناہوں کے خلاف غیرت ختم ہوجاتی ہے جبکہ یہ غیرت کی حرارت قلب کو اس طرح صاف کرتی ہے جیسے آگ کی بھٹی سونے چاندی کی میل ختم کرتی ہے۔ حدیث میں ہے:

«أتعجبون من غیرة سعد؟ والله لأنا أغیر منه والله أغیر مني»

دوسری حدیث میں ہے: «لا أحد أغیر من الله، من أجل ذلك حرّم الفواحش ما ظهر منها وما بطن»

''اللّٰہ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں ہے اور اسی لیے اس نے ظاہری و باطنی فواحش کو حرام ٹھہرایا۔''

«یا أمة محمد! ما أحد أغير من الله أن تزني عبده أوتزني أمته»

''اے اُمّت ِمحمد! (روے کائنات پر) اللّٰہ تعالیٰ سے زیادہ کسی کو غیرت نہیں آتی جب اس کا کوئی بندہ یا اللّٰہ کی بندی زنا کا ارتکاب کرتے ہیں۔''

ایک طرف گناہوں کے خلاف اللّٰہ اور اس کے رسول ﷺ کی غیرت کا یہ عالم ہے اور دوسری طرف گناہگار کسی گناہ کو گناہ ہی نہیں سمجھتے۔ بھینس اور بیل جس طرح اپنے سینگوں سے اپنی اور بچوں کی دشمن سے حفاظت کرتے ہیں،غیرت انسان کے لئے یہی درجہ رکھتی ہے۔ یہ سینگ ٹوٹ جائیں تو پھر شیطان کی صورت میں ازلی دشمن حملہ آور ہوجاتا ہے۔

23. حیاکا ختم ہو جانا: گناہوں کی وجہ سے حیا ختم ہوجاتی ہے جبکہ:« الحیاء خیر کله»

حدیث میں ہے: «إذا لم تستحي فاصنع ما شئت»

بے حیائی اور بے غیرتی جہاں ہوگی،گناہ لازم ہوں گے مگر جب انسان اللّٰہ سے حیا اور شرم کرتا ہے اور گناہوں سے پرہیز کرتا ہے تو اللّٰہ بھی سزا دینےمیں شرم کرے گا۔

24. دل میں اللّٰہ کی عظمت کم ہونا: اللّٰہ کی عظمت کم ہوجاتی ہے، تب ہی تو انسان گناہ کرتا ہے۔ اللّٰہ کی محرمات کی اہمیت نہ رہی تو دل پر پردہ پڑ جاتا اورمہر لگ جاتی ہے۔ جب انسان اللّٰہ کو بھول جاتا ہے تو اللّٰہ اُنہیں بھول جاتا ہے۔ اُنہیں برباد کردیتا ہے ذلت و رسوائی ان کا مقدر ہوجاتی ہے، جن لوگوں نے اللّٰہ کے اوامر و احکام کو برباد کیا، وہ اللّٰہ کے عتاب کا نشانہ بنتے ہیں اور﴿وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن مُكرِ‌مٍ...﴿١٨﴾... سورة الحج

'' جسے اللّٰہ ذلیل (برباد) کرے اللّٰہ کوئی عزت نہیں دے سکتا۔''

25. اللّٰہ کے ہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی: ﴿وَلا تَكونوا كَالَّذينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسىٰهُم أَنفُسَهُم ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿١٩﴾... سورة الحشر ''اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللّٰہ کو بھول گئے تو اللّٰہ نے اُنہیں خود اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔''اللّٰہ بڑا بےنیاز ہے جبکہ بندہ ہرلمحے اس کا محتاج ہے۔پھر وہ اس کے ذکرسے کیسے غافل رہ سکتا ہے اور اگر غافل رہتا ہے تو اپنی جان پر خود ظلم کرتا ہے، کیونکہ اللّٰہ تو اپنے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں۔

26. انسان احسان کےدرجے سے گر جاتاہے: احسان کیا ہے؟ فرمانِ نبو ی ہے : «أن تعبد الله کأنك تراه فإن لم تکن تراه فإنه یراك» الله كی موجودگی کا احساس انسان کو گناہ سے روکتا ہے۔دل میں ذکر الٰہی، اللّٰہ کی محبت اور گناہ پر گرفت کا خوف ہو، یہ یقین کہ اللّٰہ مجھے دیکھ رہا ہےتو وہ انسان اللّٰہ کی نافرمانی سے قبل اور بعد کئی مرتبہ پریشان وپشیمان ہوتا ہے۔ اے اللّٰہ کے بندو! اپنے آپ کو گناہ سے بچاؤ کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔

27. اللّٰہ کی مدافعت سے محرومی: گناہوں کی وجہ سے اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے تمام اعزاز و اکرام سے محرومی ہو جاتی ہے جو وہ اپنے بندے پر کرنا چاہتا ہے کیونکہ ﴿إِنَّ اللَّهَ يُد‌ٰفِعُ عَنِ الَّذينَ ءامَنوا...﴿٣٨﴾... سورة الحج '' یقیناً اللّٰہ مدافعت کرتا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں۔''﴿إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُختالٍ فَخورٍ‌ ﴿١٨﴾... سورة لقمان ''اللّٰہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔'''

اللّٰہ کی دوستی (ولایت) سے محرومی ہوتی ہے : ﴿اللَّهُ وَلِىُّ الَّذينَ ءامَنوا﴾

اجر عظیم سے محرومی : ﴿وَسَوفَ يُؤتِ اللَّهُ المُؤمِنينَ أَجرً‌ا عَظيمًا ﴿١٤٦﴾... سورة النساء

صحبتِ الٰہی سے: ﴿إِذ يوحى رَ‌بُّكَ إِلَى المَلـٰئِكَةِ أَنّى مَعَكُم فَثَبِّتُوا الَّذينَ ءامَنوا...﴿١٢﴾... سورة الانفال

عزّ وتکریم سے محرومی :﴿فَلِلَّهِ العِزَّةُ جَميعًا﴾

رفع درجات سے محرومی: ﴿يَر‌فَعِ اللَّهُ الَّذينَ ءامَنوا مِنكُم وَالَّذينَ أوتُوا العِلمَ دَرَ‌جـٰتٍ...﴿١١﴾... سورة المجادلة ''اللّٰہ تمہیں کشادگی بخشے گا اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے، اللّٰہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا۔''یہ تمام انعاماتِ جلیلہ صرف اللّٰہ کے بندوں کو حاصل ہوتے ہیں اور اللّٰہ کے نافرمان ان سے محروم کردیے جاتے ہیں۔ نیکو کاروں کو اللّٰہ جل جلالہ نور ہدایت عطا کرتا ہے: ﴿قُل هُوَ لِلَّذينَ ءامَنوا هُدًى وَشِفاءٌ...﴿٤٤﴾... سورة فصلت '' اِن سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے۔''

اسی طرح نیکی کے راستے پر چلنا مشکل ہوجاتا ہے، اللّٰہ کے راستے پر پختگی اور دوام کا قصد دل کی کمزوری کی وجہ سےمشکل ہوجاتا ہے۔چنانچہ نبی مکرّم ﷺ اپنی دعا میں پناہ مانگا کرتے تھے:

«اللهم إني أعوذ بك من الهمّ والحزن والعجز والکسل والجبن والبخل وضلع الدین وغلبة الرجال»

''اے اللّٰہ ! تیری پناہ میں آتا ہوں فکر وغم اور کمزوری وسستی سے ، بزدلی و بخیلی سے اور قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے ۔''

جهد البلاء و درك الشقاء اور سوء القضاء و شماتة الأعداء دونوں، دونوں چیزیں باہمی قریب المعنیٰ ہیں۔ ان سے آپ پناہ مانگتے تھے۔ یہ تمام گناہ کے بد نتائج ہیں۔جواللّٰہ کے انعامات اور خیر و عافیت سے انسان کو محروم کردیتے ہیں۔

28. اللّٰہ کی سپردگی اور نیکی کے حصار سے محرومی: گناہ کی ایک وعید قرآن کریم میں یہ بیان ہوئی ہے:

﴿وَما أَصـٰبَكُم مِن مُصيبَةٍ فَبِما كَسَبَت أَيديكُم وَيَعفوا عَن كَثيرٍ‌ ﴿٣٠﴾... سورة الشورىٰ

''انسان پر آنے والی ہر مصیبت ، اس کی اپنی کمائی کا نتیجہ ہے اور اللّٰہ تعالیٰ بہت سی خطاؤں کونظر انداز کردیتا ہے۔''

ایک حدیثِ قدسی میں ربّ ذو الجلال کا ارشاد ہے:

«وعزتي وجلالي لا يكون عبد من عبيدي على ما أحب ثم ينتقل عنه إلى ما أكره إلا إنتقلت له مما يجب عبيدي الى ما يكره ولا يكون عبد من عبيدي على ما أكره فينتقل عنه الى ما أحب الا إنتقلت له مما يكره الى ما يحب»

''مجھےمیری عزت او رجلال کی قسم! جب میرا کوئی بندہ وہ کام کرتا ہے جومجھے محبوب ہے۔ اورپھر وہ اسے چھوڑ کر ایسا کام کرتا ہے جو مجھےناپسند ہے تو میں بھی اس کی محبوب چیز سے اس کومحرو م کردیتاہوں او رجو اسےمکروہ و ناپسند ہے، اس کی طرف اسے منتقل کردیتا ہوں۔ اور جب میرا بندہ کوئی مکروہ اور ناپسندیدہ کام کرتا ہے اور اُسے چھوڑ کر پھر ایسا کام کرنے لگتا ہے جو مجھے محبوب ہے تو میں اسے اس کی ناپسندیدہ چیز سے الگ کرکے اس کی محبوب پسندیدہ چیز کی طرف لے جاتا ہوں۔''

اللّٰہ کی اطاعت ایک مضبوط قلعہ ہے۔ جس میں اسے اللّٰہ کی طرف سے حفاظت میسر ہوتی ہے۔ نافرمان کو یہ حفاظت میسر نہیں ہوتی۔ وہ خوف زدہ اور مرعوب ہوتا ہے۔ جیسے نیکی، انسان کو قوی کرتی ہے تو گناہ دل کو کمزور اور خوف زدہ کرتاہے۔

29. دل بیمار ہوجاتا ہے:اس کی بیماری لاعلاج ہوتی ہے۔نہ دوا، نہ خوراک فائدہ دیتی ہے۔اس کا علاج صرف گناہ چھوڑ کر نیکی کرنا ہی ہے۔

30. روزِ محشر چہرہ سیاہ ہوگا: جس قدر گناہ ہوتے ہیں وہ قلبِ سیاہ سےجسم اور اعضا کی طرف آتے ہیں اور انسان کے چہرے کو بھی سیاہ اور تاریک کردیتے ہیں۔ یہی سپیدی و سیاہی روز قیامت بھی چہروں پرنمایاں ہوگی: ﴿يَومَ تَبيَضُّ وُجوهٌ وَتَسوَدُّ وُجوهٌ...﴿١٠٦﴾... سورة آل عمران '' جبکہ کچھ لوگ سرخ رو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہوگا۔''

31. قبر تاریک ہوتی ہے: عالم برزخ میں گناہ گار کی قبر تاریک ہوتی ہے۔ ارشاد نبویﷺ ہے: «إن هذا القبور ممتلئة على أهلها ظلمة وإن الله ینورها بصلاتي علیهم»

''یہ قبریں اہل قبور کے لیے اندھیروں سے بھری ہوئی ہیں اور میری نماز ودُعا سے ان قبروں میں روشنی ہو جاتی ہے ۔''

32. نفس ذلیل ہوجا تا ہے: ﴿قَد أَفلَحَ مَن زَكّىٰها ٩ وَقَد خابَ مَن دَسّىٰها ﴿١٠﴾... سورة الشمس

'' یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیااور نامراد ہوا وہ جس نے اُسکو دبا دیا۔''

ایسا شخص اللّٰہ اور اس کی مخلوق میں ہی نہیں بلکہ اپنی نگاہ میں گر جاتا ہے ۔ گناہ سے زیادہ ذلیل کرنیوالی کوئی چیز نہیں،جبکہ طاعت و عبادت سےزیادہ عزت دینے والی کوئی چیز نہیں۔

گناہ انسان شیطان اور خواہشات کا قیدی بن جاتا ہے، چنانچہ فرمانِ نبوی ہے: «اِن الشیطان ذئب الإنسان» '' شیطان انسان کے لیے بھیڑیا ہے۔'' جبکہ دنیا و آخرت کی آفات سے بچنے کے لیے تقویٰ ایک مضبوط قلعہ ہے۔

33. اللّٰہ اور بندوں کی نگاہ میں ذلیل ہوتا ہے: اللّٰہ کاانعام ہے کہ وہ اپنے نیک بندے کاذکر خیر عام کردے، اس کانام بلند کردے جیساکہ نبی کریم کو اللّٰہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا:﴿وَرَ‌فَعنا لَكَ ذِكرَ‌كَ ﴿٤﴾... سورة انشراح" اورجتنا کوئی نیک ہے، اتناہی نام بلند ہوتاہے۔ حضرت ابراہیم نے بھی اللّٰہ عزوجل سے یہی دعا کی تھی :﴿وَاجعَل لى لِسانَ صِدقٍ فِى الءاخِر‌ينَ ﴿٨٤﴾... سورة الشعراء" اسی بنا پر اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے برے تذکرے کو انتہائی ناگوار قرار دیا ہے :﴿بِئسَ الِاسمُ الفُسوقُ بَعدَ الإيمـٰنِ﴿١١﴾... سورة الحجرات" سو گناہ گار کو لوگوں میں بُرے ناموں مثلاً فاسق، فاجر، کذاب وغیرہ سےیاد کیا جاتاہے ﴿وَمَن يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِن مُكرِ‌مٍ...﴿١٨﴾... سورة الحج ''جسے اللّٰہ ذلیل کر دے اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا۔''

34. گناہ سے عقل انسانی خراب ہوجاتی ہے: گناہ کی وجہ سے انسان پر اللّٰہ کاقہر،غضب اور لعنت برستی ہے جیسے سود کھانےوالے پر اللّٰہ غضب ناک ہوتا ہے۔﴿كَالَّذِى استَهوَتهُ الشَّيـٰطينُ فِى الأَر‌ضِ حَير‌انَ لَهُ أَصحـٰبٌ يَدعونَهُ إِلَى الهُدَى ائتِنا ...﴿٧١﴾... سورة الانعام ''جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو درآں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ اِدھر آ یہ سیدھی راہ موجود ہے؟''اور اللّٰہ كی رحمت دور ہوتی ہے۔ بلاشبہ آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کاسکون، نفس کی راحت، دل کی تسکین اور روح کی لذت اللّٰہ کی فرمانبرداری میں ہی ہے۔

35. خیر کےتمام ذرائع ختم ہوجاتے ہیں: کیونکہ اس کی اللّٰہ سے دور ی ہوتی ہے۔ اس پر شیطان کی حکومت جاری ہوجاتی ہے۔ انسانوں کا معمول ہے کہ بادشاہ کے دشمنوں سے جودوستی کرتا ہے، وہ بھی بادشاہ کادشمن ہی گردانا جاتا ہے۔ شیطان تو اللّٰہ کادشمن ہے اور ہمارا دشمن بھی۔ سو اللّٰہ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اس سے دشمنی رکھیں۔ حالانکہ شیطان سے اللّٰہ کی دشمنی انسان کی وجہ سے ہے کہ اُس نے انسان کو سجدہ نہیں کیا۔ لیکن انسان غلط کار ہے کہ اسےدوست بناتا ہے ۔ اللّٰہ اپنے دشمنوں کے لیے خیرکے دروازے بند کردیتا ہے۔

36. رزق میں برکت ختم ہوجاتی ہے: قرآن کریم میں اطاعت الٰہی کے ثمرات مختلف آیات میں یوں بیان ہوئے ہیں:﴿وَلَو أَنَّ أَهلَ القُر‌ىٰ ءامَنوا وَاتَّقَوا لَفَتَحنا عَلَيهِم بَرَ‌كـٰتٍ مِنَ السَّماءِ وَالأَر‌ضِ...﴿٩٦﴾... سورة الاعراف ''اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھو ل دیتے۔'' ﴿وَأَلَّوِ استَقـٰموا عَلَى الطَّر‌يقَةِ لَأَسقَينـٰهُم ماءً غَدَقًا ﴿١٦﴾... سورة الجن '' اور (اے نبیﷺ، کہو، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ) لوگ اگر راہ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم اُنہیں خوب سیراب کرتے۔''﴿لَأَكَلوا مِن فَوقِهِم وَمِن تَحتِ أَر‌جُلِهِم ۚ مِنهُم أُمَّةٌ مُقتَصِدَةٌ...﴿٦٦﴾... سورة المائده '' تو اِن کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا اگرچہ اِن میں کچھ لوگ راست رو بھی ہیں۔''

حدیثِ قدسی ہے جسے وہب بن منبہ نے اسرائیلیات میں سے بیان کیا ہے:

«إذا رضیتُ بارکت وليس لبرکتی منتهی وإذا غضبت لعنتُ ولعنتي تدرك السابع من الولد»

''جب میں کسی سے راضی ہوجاتا ہوں تو اس پر برکات کا نزول کرتا ہوں اور میری برکت کی کوئی انتہا نہیں ۔ جب ناراض ہوجاؤں تو اس پر لعنت مسلط کردی جاتی ہے اور میری لعنت کا وبال ساتویں پشت تک جاتا ہے۔''

معصیت سے رزق و عمر کی برکتیں اس لئے ختم ہوتی ہیں کہ گناہ اور اس کے کرنے والوں پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کھانے پینے ، کپڑے پہننے اورسواری وغیرہ میں بسم الله الرحمٰن الرحیم مشروع ہے۔کیونکہ ذکر الٰہی سے شیطان بھاگ جاتا ہے اور برکت کی راہیں کھل جاتی ہیں۔ ساری برکتیں وہیں سے ہیں ، کیونکہ وہ خود برکت والا ﴿تَبـٰرَ‌كَ الَّذى بِيَدِهِ المُلكُ...﴿١﴾... سورة الملك" اس کارسول، اس کابندہ، اس کا حکم اور ہر وہ چیز جس کی نسبت اللّٰہ سے ہےبابرکت ہے۔ اورجس چیز کی نسبت غیراللّٰہ سے ہے، وہ برکت سےخالی ہوتی ہے:

«الدنیا ملعونة وملعون ما فیها إلاما کان لله»

دنیا ملعون ہے ۔اس میں جو کچھ ہے سب ملعون ہے سوائے اللّٰہ کے ذکر کے اور اس سے تعلق رکھنے والی اشیا کے عالم اور طالب علم کے ۔

37. انسان اسفل السافلین میں سے ہوجاتاہے:﴿ثُمَّ رَ‌دَدنـٰهُ أَسفَلَ سـٰفِلينَ ﴿٥﴾... سورة التين ''پھر اُسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کر دیا۔''حالانکہ انسان کی پہلی قسم کا شمار علیین میں ہوتا ہے۔ جیسا کہ حدیث میں آتا ہے :

«جعلت الذلة والصغار علىٰ من خالف أمري»

''میرے حکم کی مخالفت کرنے والے ہر ذلت اور خواری لازم کر دی گئی ہے۔''

غرض انسان جب گناہ کرتا ہے تو اپنے درجات سے گرجاتا اور مزید گرتا رہتا ہے، اور جب وہ اطاعتِ الٰہی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کا درجہ بلند ہوتا چلا جاتا ہے،یہاں تک کہ وہ علیین تک پہنچ جاتا ہے۔ توبہ بعض اوقات اتنی وزنی ہوجاتی ہے کہ نیکی کا پلّہ جھک جاتا ہے۔ اگر وہ گناہ پر مُصر رہے توبعض اوقات گناہ ہمّت توڑ دیتا ہےاورتوبہ کی دوا بھی صحت تک پہنچنےکے لیےمدد نہیں کرتی۔

38. گناہگار کے خلاف اللّٰہ کی نافرمان مخلوق جری ہو جاتی ہے: وہ اسے تکلیف اور ایذا دیتی ہیں، پھر شیطان بھی جری اور دلیر ہوجاتے ہیں اورانسانی شیطان بھی جری ہوجاتے ہیں۔ گھر کے لوگ،خدام ،نوکر چاکر، بیوی اور اولاد اس کے خلاف ہوجاتے ہیں۔ اس کا نفس بھی اس کے خلاف دلیر ہوجاتا ہے۔ وہ نیکی کا ارادہ کرتا ہے تو نفس سرکش ہوجاتا ہے۔ اللّٰہ کی اطاعت ایک مضبوط قلعہ ہے۔ جو بھی اس میں داخل ہوتا ہے ، وہ ایک مضبوط قلعہ میں داخل ہوتا ہے اور جو اس سے باہر نکلتا ہے، ڈاکو رہزن اس پر حملہ کردیتے ہیں۔

39. گناہگار کا دل اس سےغداری کرتاہے:اس کا حال ایسا ہوتا ہے جیسے اس کے پاس تلوار توموجود ہومگرنیام میں زنگ آلود ہو۔ گناہوں سےدل زنگ آلود اورمفلوج ہوجاتا ہے۔نفس امارہ تو بُرائی کا حکم دیتاہی ہے،وہ شہوات و خواہشات اور گناہوں سے قوی، دلیر اور درندہ صفت بن جاتاہے جبکہ نفس مطمئنہ تو مرچکتا ہے۔ایساشخص دنیامیں، اور برزخ میں مرچکا اور آخرت میں بھی اس کے لیے کوئی خیر نہیں۔

اس کے اعضا بھی اس سے غداری کرتے ہیں۔ اگر وہ اللّٰہ کو یاد کرتاہے تودل ساتھ نہیں دیتا۔زبان ذکر کرتی ہے تودل غافل ہوتا ہے۔ یوں سمجھیں کہ ایک بادشاہ کے پاس لشکر تو ہے لیکن جب وہ اس لشکر سےدشمن سے مدافعت کرناچاہتا ہے تو شکست کھا جاتاہے۔

39. حسن خاتمہ سے محرومی: سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ مرتے وقت اسے کلمہ کی توفیق نہیں ہوتی، کلمہ منہ سےنہیں نکلتا۔ دل اور زبان دونوں بے وفائی کرتے ہیں۔ خاتمہ بالخیر کی توفیق اسے ہی حاصل ہوتی ہے جو زندگی میں اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کا خوگر ہوتا ہے۔

40. حق کی معرفت اورحق کو اختیارکرنے کی قوت سے محرومی: اس پر شیطان مسلط کردیاجاتاہے اور وہ نیک عمل نہیں کرسکتا۔انسانی کمال کی بنیاد دو باتوں پر ہے: ﴿وَاذكُر‌ عِبـٰدَنا إِبر‌ٰ‌هيمَ وَإِسحـٰقَ وَيَعقوبَ أُولِى الأَيدى وَالأَبصـٰرِ‌ ﴿٤٥﴾... سورة ص

''اور ہمارے بندوں، ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب﷩ کا ذکر کرو۔ بڑی قوتِ عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔''

'ذی الاید' سے مراد تنفیذ حق کی قوت اور 'اَبصار' کا مطلب حق کی معرفت ہے۔ جبکہ انبیاء﷩ میں یہ دونوں قوتیں موجود ہوتی ہیں جبکہ : ﴿وَمَن يَعشُ عَن ذِكرِ‌ الرَّ‌حمـٰنِ نُقَيِّض لَهُ...﴿٣٦﴾... سورة الزخرف '' جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں۔''

﴿قَر‌ينًا فَساءَ قَر‌ينًا ٣٨﴾... سورة النساء '' اُسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی۔''

﴿وَإِنَّهُم لَيَصُدّونَهُم عَنِ السَّبيلِ وَيَحسَبونَ أَنَّهُم مُهتَدونَ ﴿٣٧﴾... سورة الزخرف

''یہ شیاطین ایسے لوگو ں کو راہِ راست پر آنے سے روکتے ہیں، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں۔''

قیامت کے روزانسان اس شیطان سے ان الفاظ میں شکوہ کناں ہوگا: ﴿يـٰلَيتَ بَينى وَبَينَكَ بُعدَ المَشرِ‌قَينِ...﴿٣٨﴾... سورة الزخرف '' کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق ومغرب کا بُعد ہوتا، تُو تو بد ترین ساتھی نکلا۔''جب کہ عمر جیسے لوگوں سے شیطان ڈر کر راستہ تبدیل کر لیتا تھا۔

41. شیطان کو گناہگار اپنے خلاف خود مدد دیتا ہے: گناہ شیطان کا لشکر ہے۔ شیطان انسان کےساتھ اس طرح ہوتا ہے جیسے خون چلتا ہے بلکہ اس پر مزید یہ کہ انسان سوتا ہے، شیطان نہیں سوتا۔ انسان غافل ہوجاتا ہےلیکن شیطان غافل نہیں ہوتا۔ انسان شیطان کو نہیں دیکھتا، البتہ شیطان اور اُس کا کنبہ اُسے وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے انسان نہیں دیکھتے۔ شیطان اللّٰہ کے خلاف ہمیں ورغلاتا ہے۔ حالانکہ حقیقت امر تو یہ ہے کہ ہماری لعنت، پھٹکار اور رحمتِ خداوندی سے دور ی کا اصل سبب ہی شیطان ہے جو انسان کو جہنم کاساتھی بنادینا چاہتا ہے۔

ایسے میں اللّٰہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کی مدد کرتا ہے۔اپنے کلام مجید:قرآن سے، رسول سے... یقین و ایمان سے عقل دی، اس نے ہمیں ضمیر دیا، عقل دی،آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پاؤں کی بیش بہا نعمتیں دیں، اُن سب کے ساتھ حاملین عرش کو اُن کی پشت پر کھڑا کردیا تاکہ وہ ان کے لیےدعاے استغفار کرتے رہیں اور اللّٰہ اُنہیں گناہوں سے بچالے۔یہی لوگ حزب اللّٰہ ہیں:﴿أُولـٰئِكَ حِزبُ اللَّهِ ۚ أَلا إِنَّ حِزبَ اللَّهِ هُمُ المُفلِحونَ ﴿٢٢﴾... سورة المجادلة

''وہ اللّٰہ کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار رہو، اللّٰہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔''

شیطان کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ وہ نفس کو ورغلاتا ہےکہ اُمیدیں دلاؤ، وسوسےڈالو، دل تک پہنچو۔ نگاہ کو لہو و لعب، تفریح،غفلت اور شہوات میں پھنسادو، ان کے لیے گناہ سجا دو، بے پردگی، بے حجابی کو عام کر دو۔ شیطان یہ شبہ عام کرتا ہے کہ اللّٰہ نے خوبصورت شکلیں اس لیے بنائی ہیں کہ ہم اُن کی خوبصورتی سے فائدہ اٹھائیں۔ اگر کسی نیک سے پالا پڑے تو اسے وحدت الوجود اور حلول کےفلسفوں میں اُلجھادو۔

42. حق اور باطل میں تمیز ختم کردیتا ہے: شیطان نظر کے بعد کان کے مورچے کی ناکہ بندی کرتاہے تاکہ کسی طرح اس کے کانوں میں کوئی مفید اور نفع بخش بات نہ پہنچ سکے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے راستے میں رکاوٹیں ڈال دیتا ہے۔

43. زبان کے مورچے کی ناکہ بندی: زبان کو نیکیاں نہیں کرنے دیتا۔ذکر الٰہی، استغفار توبہ، تلاوتِ قرآن، تعلیم دین، تفسیر وحدیث کو اس کی زبان پر نہ آنےدو۔ زبان پرقابو پاؤ، حق بات کہنے سے روک دو۔ حق بات کہنے سے رکنے والا شیطان کا گونگا بھائی ہے: ﴿قالَ فَبِما أَغوَيتَنى لَأَقعُدَنَّ لَهُم صِر‌ٰ‌طَكَ المُستَقيمَ ١٦ ثُمَّ لَءاتِيَنَّهُم مِن بَينِ أَيديهِم وَمِن خَلفِهِم وَعَن أَيمـٰنِهِم وَعَن شَمائِلِهِم ۖ وَلا تَجِدُ أَكثَرَ‌هُم شـٰكِر‌ينَ ﴿١٧﴾... سورة الاعراف ''بولا، اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر۔اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا، آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔'' فرمانِ نبوی ہے: «إن الشیطان قد قعد لابن آدم بطرق کلها» ''یہ حقیقت ہے کہ بنی آدم کے تمام راستوں پر شیطان بیٹھا ہوا ہے۔'' وہ اسے نیکیوں سے روکتا ہے، نماز ، حج اور صدقہ سے منع کرتا ہے ، نفس امارہ کومضبوط کر دیتا ہے۔

44. گناہ گار اپنی جان کو ہی بھول جاتا ہے: ﴿وَلا تَكونوا كَالَّذينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسىٰهُم أَنفُسَهُم ۚ أُولـٰئِكَ هُمُ الفـٰسِقونَ ﴿١٩﴾...سورة الحشر '' اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جو اللّٰہ کو بھول گئے تو اللّٰہ نے اُنہیں خود اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔'' ﴿نَسُوا اللَّهَ فَأَنسىٰهُم﴾ ایسے لوگ اپنا نفع نقصان، فلاح وسعادت اصلاح دنیا و آخرت بھول جاتے ہیں۔ دنیا کی لذتوں اور دنیاوی فوائد کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ خسر الدنيا والآخرة

دنیا اور آخرت میں خسارہ پا لیا اور اپنی دنیا و آخرت برباد کر لی۔

45. حال اور مستقبل کی نعمتیں ختم ہوجاتی ہیں: موجود انعامات ختم اور مستقبل کے انعامات سے محروم ہوجاتا ہے۔ اسباب نعمت میں سے اہم ترین اطاعت و فرمانبرداری ہے۔

46. فرشتوں سے دوری اورشیطان کا قربت: بندہ جب جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے۔حضرت عبد اللّٰہ بن عمر روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

«إذا كذب العبد تباعد منه الملك ميلاً من نتن ما جاء به»

ہر شخص کا ایک فرشتہ اور شیطان ہوتا ہے۔ نیکی کرتا ہے تو یہ فرشتہ شیطان کو بھگا دیتا ہے۔ اور انسان کا مقرب بن جاتا ہے:﴿إِنَّ الَّذينَ قالوا رَ‌بُّنَا اللَّهُ ثُمَّ استَقـٰموا تَتَنَزَّلُ عَلَيهِمُ المَلـٰئِكَةُ أَلّا تَخافوا وَلا تَحزَنوا وَأَبشِر‌وا بِالجَنَّةِ الَّتى كُنتُم توعَدونَ ﴿٣٠﴾... سورة فصلت

''جن لوگوں نے کہا کہ اللّٰہ ہمارا ربّ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے، یقیناً اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہو جاؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔''

﴿إِذ يوحى رَ‌بُّكَ إِلَى المَلـٰئِكَةِ أَنّى مَعَكُم فَثَبِّتُوا الَّذينَ ءامَنوا﴿١٢﴾... سورة الانفال

''اور وہ وقت یاد رکھو جبکہ تمہارا ربّ فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، تم اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو۔''

یہ فرشتہ اس کی زبان سے سچّی باتیں نکلواتا ہے جبکہ شیطان قلب پر باطل کا القا کرتاہے اور زبان پر بھی۔یہ فرشتے حضرت ابوبکرؓ کی طرح انسان کی مدافعت کرتے ہیں جب نبی کریم نے انہیں کہا تھا کہ «کان الملك یدافع عنك فلما رددت علیه جاء الشیطان فلم أکن لأجلس»

جب وہ کسی مسلم بھائی کے لیے دعا کرتا ہے ، فرشتہ آمین کہتا اور دعا کرتا ہے کہ اس کی حفاظت کرتا ہے۔اللّٰہ نے جتنا اُسےدیا، تجھے بھی دے۔ سوتا ہے تو یہ اس کے ساتھ رات گزارتا ہے۔ شجاعت اور ہمّت پیدا کرتا ہے۔ اور اس کی حفاظت کرتا ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے :﴿وَيُر‌سِلُ عَلَيكُم حَفَظَةً﴾

حضرت عبداللّٰہ بن مسعود بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا:

«مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ وَقَدْ وُكِّلَ بِهِ قَرِينُهُ مِنَ الْجِنِّ». قَالُوا وَإِيَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ «وَإِيَّاىَ إِلاَّ أَنَّ اللَّهَ أَعَانَنِى عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ فَلاَ يَأْمُرُنِي إِلاَّ بِخَيْرٍ»

''تم میں سے ہر آدمی کے ساتھ ایک جن(شیطان)اورایک فرشتہ مقرر کیا گیا ہے صحابہ نے دریافت کیا: حضرت! آپ کے ساتھ بھی ہے تو آپ نے فرمایا : میرے ساتھ بھی ہے ، لیکن مجھے اللّٰہ نے اس پر غلبہ دیا ہے، وہ میرا مطیع ہوگیا ہے، (اب) وہ مجھے صرف بھلائی کی بات کہتاہے ۔''

47. گناہ انسان کو ہلاک کر دیتا ہے:گناہ دل کی بیماری ہے، گناہ کا مرض بڑھ جائے تو موت یقینی ہے۔ انسان کے جسم کی سلامتی تین چیزوں پر موقوف ہے:

1۔بہترین غذا 2۔ غلط مادوں کا اخراج 3۔ مضر صحت اشیا سے پرہیز

جو حال جسم کا ہے، وہی دل کا ہے۔ دل کی زندگی کے لیے ایمان ویقین بنیاد بنتے ہیں۔ نیک اعمال اسے تقویت دیتے ہیں۔ توبہ و استغفار سے غلط مادوں کا اخراج ہوتا ہے۔ گناہ دل کی صحت کے لیے مضر ہے۔ جو آخر کار اسے ہلاک کر کے تباہ کردیتا ہے۔ دل کی بیماری کا علاج تقویٰ سے ہی ہو گا۔

لہٰذا ابھی بھی وقت ہے ، زندگی کی سانسیں چل رہی ہیں، اعضا حرکت میں ہیں، گناہوں سے کنارہ کش ہوجائیں، برائیاں چھوڑ دیں، گمراہ کن دلیلیں ترک کردیں، معاصی کا ارتکاب بند کردیں، اللّٰہ جانے زندگی کا یہ سفر کس موڑ پرختم ہوجائے، متحرک گھڑی کی سوئیاں جامد ہوجائیں، لہٰذا توبہ ہی نجات کا پروانہ اور اُخروی زندگی کی کامیابی کی علامت وضمانت ہے۔

اللّٰہ کے حضور گناہوں کو چھوڑنے اور خوش بختیوں اور سعادتوں بھری زندگی کا حصول چاہنے والوں کے لئے ہاتھ اُٹھائے جائیں، تو یقیناً اللّٰہ تعالیٰ اُٹھے ہوئے ہاتھوں اور پرنم آنکھوں کی لاج رکھ کر گناہوں سے پاک وصاف کرکے ، داغ دار دامن کو دھو دے گا۔ ان شاء اللّٰہ... اللّٰہ تعالیٰ ہم میں آخرت کی جواب دہی کا احساس پیدا کرے اور اس دنیا میں دی گئی مہلت میں اللّٰہ کا تابع فرمان بندہ بننے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!

AGAHA NEWS

🎊دین میں نئی چیز ایجاد کرنا (بدعت) ہے اورہر بدعت گمراہی ہے۔

  قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بیان فرمادی ہے کہ ابلیس (شیطان) انسان کو اس دنیا میں ہر طرح سے گمراہ کرنےمیں لگا رہے گا۔ [قَالَ فَبِ...