مومن کو ہر گھڑی اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیئے ،اس کے کئی ایک دلائل ہیں ،قرآن عزیز کا ایک مقام یہاں دیکھ لیں؛
اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو ،اور ہر نفس کو چاھیئے کہ وہ دیکھے (محاسبہ کرے ) کہ اسنے آنے والے کل کیلئے اپنے آگے کیا بھیجا (کون سے صالح عمل کئے )
اور اللہ سے ڈرتے رہو ،یقیناً اللہ خوب جانتا ہے جو عمل تم کرتے ہو ‘‘ سورۃ الحشر
اور روزانہ رات کو سونے سے پہلے واقعی اپنا محاسبہ کرنا بہت مناسب ہے ،کیونکہ :
نیند موت کا بھائی ہے (ہمارے محاورے نیند موت کی بہن ہے )حدیث رسول ﷺ ہے :
النوم أخو الموت ، و لا يموت أهل الجنة
الراوي: جابر بن عبدالله المحدث: الألباني - المصدر: صحيح الجامع - الصفحة أو الرقم: 6808
خلاصة حكم المحدث: صحيح
3 - النوم أخو الموت ، و لا ينام أهل الجنة
الراوي: جابر بن عبدالله و عبدالله بن أبي أوفى المحدث: الألباني - المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 1087
خلاصة حكم المحدث: صحيح بمجموع طرقه
جابر رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ پیارے نبی ﷺ نے فرمایا :نیند موت کا بھائی ہے،اور اہل جنت ،جنت میں نہیں سوئیں گے ،
یعنی نیند موت ہی کی ایک قسم ہے ۔اور موت سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے اور مناسب ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری دلیل:
صحيح البخاري
باب إذا بات طاهرا:
باب: وضو کر کے سونے کی فضیلت
البراء بن عازب رضي الله عنهما قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:"إذا اتيت مضجعك فتوضا وضوءك للصلاة ثم اضطجع على شقك الايمن وقل: اللهم اسلمت نفسي إليك وفوضت امري إليك والجات ظهري إليك رهبة ورغبة إليك لا ملجا ولا منجا منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي انزلت وبنبيك الذي ارسلت فإن مت مت على الفطرة فاجعلهن آخر ما تقول"فقلت: استذكرهن وبرسولك الذي ارسلت قال: لا وبنبيك الذي ارسلت.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تو سونے لگے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر پھر دائیں کروٹ لیٹ جا اور یہ دعا پڑھ «اللهم أسلمت نفسي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رهبة ورغبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، آمنت بكتابك الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت.» ”اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیری اطاعت میں دے دیا۔ اپنا سب کچھ تیرے سپرد کر دیا۔ اپنے معاملات تیرے حوالے کر دئیے۔ خوف کی وجہ سے اور تیری (رحمت و ثواب کی) امید میں کوئی پناہ گاہ کوئی مخلص تیرے سوا نہیں میں تیری کتاب پر ایمان لایا جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر جن کو تو نے بھیجا ہے۔“
اس کے بعد اگر تم مر گئے تو فطرت (دین اسلام) پر مرو گے پس ان کلمات کو (رات کی) سب سے آخری بات بناؤ جنہیں تم اپنی زبان سے ادا کرو (براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا) میں نے عرض کی «وبرسولك الذي أرسلت.» کہنے میں کیا وجہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں «وبنبيك الذي أرسلت» کہو۔
----------------------------------
اس حدیث میں بھی نیند اور موت کا تعلق بتایا گیا ،کہ اگر اس نیند میں موت آئی تو مذکورہ کلمات نافع ہونگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسری دلیل ؛ جس میں نیند کو موت ہی کہا گیا ہے :
صحيح البخاري
باب ما يقول إذا أصبح:
باب: صبح کے وقت کیا دعا پڑھے
حدیث نمبر: 6324
عن حذيفة قال:"كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا اراد ان ينام قال: باسمك اللهم اموت واحيا وإذا استيقظ من منامه قال: الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا وإليه النشور".
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو کہتے «باسمك اللهم أموت وأحيا» ”تیرے نام کے ساتھ، اے اللہ! میں مرتا اور تیرے ہی نام سے جیتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا، وإليه النشور» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف ہم کو لوٹنا ہے۔“

No comments:
Post a Comment